Monday, 30 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Iran America Jang, Aalmi Bohran Aur Pakistan Ka Ubharta Kirdar

Iran America Jang, Aalmi Bohran Aur Pakistan Ka Ubharta Kirdar

ایران امریکہ جنگ، عالمی بحران اور پاکستان کا ابھرتا کردار

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ اس وقت ایک خوفناک اور تباہ کن صورت اختیار کر چکی ہے۔ اب تک ہزاروں افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں، جبکہ ہزاروں زخمی ہو کر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ سرکاری عمارتیں، ایئرپورٹس، فوجی تنصیبات اور دیگر عوامی مقامات ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ شب و روز جاری رہنے والے یہ میزائل حملے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ آگ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بھڑکتی جا رہی ہے۔ اس جنگ کی سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اس کی سمت تاحال واضح نہیں ہو سکی۔ نہ یہ معلوم ہے کہ یہ جنگ کب تک جاری رہے گی اور نہ ہی یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کے خاتمے کے بعد کوئی دیرپا اور مضبوط جنگ بندی ممکن ہو سکے گی۔ عالمی سطح پر متضاد خبریں اور اطلاعات گردش کر رہی ہیں، جو اس غیر یقینی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

امریکہ، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور سمجھتا رہا ہے، اس کے صدر کے بیانات بھی غیر مستقل اور متضاد نظر آتے ہیں۔ کبھی وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور وہ اسے جیت چکے ہیں، جبکہ دوسرے ہی دن وہ مزید جنگ نہ کرنے اور مذاکرات کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مختلف ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ امریکہ نے اس جنگ کو رکوانے کے لیے پاکستان سے مدد کی اپیل کی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خطے میں پاکستان کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔

دوسری جانب ایران مسلسل اور منظم انداز میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان حملوں میں نہ صرف تسلسل ہے بلکہ شدت بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملے ایرانی کارروائیوں کے مقابلے میں خاطر خواہ اثر نہیں دکھا پا رہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایران کی جانب سے کیے جانے والے پے در پے وار نے امریکہ اور اسرائیل کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ اس صورتحال سے نکلنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

یہ جنگ درحقیقت اس انداز میں شروع ہوئی جسے امریکہ اور اسرائیل اسے ایک آسان معرکہ سمجھ رہے ہوں، مگر عملی میدان میں انہیں ایک ایسے ایران کا سامنا کرنا پڑا جو ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ مضبوط، منظم اور مزاحم ثابت ہوا۔ اگرچہ ایران کو بھی اس جنگ میں نقصانات اٹھانا پڑے ہیں، جن میں اعلیٰ عسکری قیادت، دفاعی ادارے اور انفراسٹرکچر شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود ایران کے جوابی حملے مسلسل جاری ہیں اور ان کی شدت میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔

ادھر عالمی میڈیا، خصوصاً امریکی اور برطانوی رپورٹس کے مطابق پاکستان اس جنگ میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ مصر اور ترکی جیسے ممالک بھی اس عمل میں پاکستان کی معاونت کر رہے ہیں، مگر قائدانہ حیثیت اس وقت پاکستان کے پاس ہے۔ یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے، کیونکہ کچھ عرصہ قبل تک عالمی برادری پاکستان کو وہ اہمیت نہیں دیتی تھی جو آج اسے حاصل ہو رہی ہے۔

خاص طور پر پاک بھارت حالیہ کشیدگی میں بھارت کی ذلت آمیز شکست کے بعد پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی ایک نئی شناخت بنائی ہے۔ اب دنیا کی بڑی طاقتیں بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کا کردار ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل جیسے بڑے تنازع میں بھی پاکستان کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔

پاکستان کی پوزیشن اس لیے بھی نہایت حساس ہے کہ ایک طرف ایران اس کا ہمسایہ ملک ہے، جبکہ دوسری جانب سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی تعلقات موجود ہیں۔ ایسے میں پاکستان نے نہایت دانشمندی اور توازن کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ابتدائی مراحل میں جب ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں سعودی عرب، کویت، قطر اور دبئی میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، تو پاکستان نے فوری مداخلت کرتے ہوئے ایران کو محتاط رہنے کا پیغام دیا، جبکہ سعودی عرب کو صبر و تحمل اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔

یہی وہ متوازن حکمت عملی تھی جس نے نہ صرف کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا بلکہ مذاکرات کی راہ بھی ہموار کی۔ اطلاعات کے مطابق ممکنہ مذاکرات پاکستان میں ہی متوقع ہیں، جبکہ پس پردہ سفارتی رابطے پہلے ہی جاری ہیں۔ دونوں فریقین کی جانب سے مختلف مطالبات پیش کیے جا رہے ہیں، جن میں فوری جنگ بندی، نقصانات کا ازالہ اور مستقبل میں امن کی ضمانت شامل ہیں۔

تاہم اس پوری صورتحال کا سب سے بڑا بوجھ عام عوام اٹھا رہے ہیں، خصوصاً پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں۔ جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں یکدم بڑھ گئیں اور فی بیرل قیمت 70 سے 75 ڈالر سے بڑھ کر 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ اس اضافے نے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بھی آسمان پر پہنچا دیا، جس سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔

اگرچہ بعد ازاں عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہو کر تقریباً 85 ڈالر فی بیرل تک آ گئیں، مگر اس کمی کا فائدہ عوام تک منتقل نہیں کیا گیا۔ پاکستان نے روس اور دیگر ممالک سے تیل درآمد کیا، مگر اس کے ثمرات بھی عوام کو نظر نہیں آئے۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت فوری طور پر عملی اقدامات کرے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔

مزید برآں، امریکہ کی جانب سے ایران سے تیل خریدنے پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران سے سستا تیل حاصل کرے تو پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی ممکن ہے، جو نہ صرف عوام کے لیے ریلیف کا باعث بنے گی بلکہ ملکی معیشت کو بھی سہارا دے گی۔ یہ جنگ صرف تین ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی بحران بن چکی ہے۔ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا مثبت، متوازن اور فعال کردار نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگر یہی سفارتی کوششیں جاری رہیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ نہ صرف یہ جنگ جلد اپنے انجام کو پہنچے گی بلکہ خطے میں ایک پائیدار امن کی بنیاد بھی رکھی جا سکے گی۔

Check Also

Aap Akele Nahi Hain

By Ayesha Batool