Awam Ko Jeene Ka Haq Diya Jaye
عوام کو جینےکاحق دیاجائے

حکومت نے ایک بار پھر پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر عوام سے جینے کا حق چھین لیا۔ رات گئے پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھانے سے پٹرول فی لیٹر 458.40 اور ڈیزل 520.35 کا ہوگیا پٹرول میں فی لیٹر 137.23 اور ڈیزل میں 184.49 روپےکا اضافہ ہوا۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دب رہی ہے، اس پر مزید پٹرولیم کی صورت میں مہنگائی کا بوجھ لاد کر اس کی رہی سہی قوت بھی ختم کی جا رہی ہے۔
امریکہ ایران جنگ میں جہاں پٹرولیم کے حوالے سے یقیناً دنیا کے مختلف ممالک متاثر ہیں اور اس حوالے سے متعدد ممالک میں بھی پٹرول کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں روس سے بھی دو عدد جہاز پورٹ قاسم کے ذریعے پاکستان پہنچے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ عرب سے بھی ایک بحری جہاز پاکستان لایا گیا تھا اور اس کے باوجود اب تک کی صورت حال کے تناظر میں پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جسے آبنائےہرمز سے گزرنے میں کوئی دقت یا مشکلات پیش نہیں آرہی ہیں۔
گزشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے باقاعدہ تقریب سے خطاب میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے پاکستان کے پرچم لگے ہوئے 10 عدد کنٹینرز پیٹرول کے ہمیں دیے گئے، جبکہ ایک دن قبل 20 عدد مزید کنٹینرز، جس پر پاکستانی پرچم لگے ہوئے ہیں، وہ بھی آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں اور یہ خبر پوری دنیا کی میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے کہ پاکستانی پرچم لگے ہوئے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کوئی مشکلات درپیش نہیں ہیں۔
لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر پاکستانی پرچم لگے جہاز پہلی کھیپ کے 10 عدد کنٹینرز کی شکل میں آ سکتی ہے اور دوسری کھیپ 20 عدد کنٹینرز کی شکل میں آ سکتی ہے تو آخر یہ پیٹرول جا کہاں رہا ہے ایک حد تک تو ٹرمپ کی بات سمجھ میں آئی کہ پہلی کھیپ پاکستان کے ذریعے شاید امریکہ کو دی گئی، لیکن دوسری کھیپ کا ابھی تک کوئی معقول خبر یا مصدقہ اعلان نہیں ہے، تو لگ تو یہی رہا ہے کہ وہ پاکستان کے زیر استعمال ہوں گے۔
اگر ہم پٹرول آبنائے ہرمز سے آسانی سے لا سکتے ہیں اور روس بھی ہمیں تیل پہنچا رہا ہے، پہلے بھی پہنچا چکا ہے اور مزید بھی اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، تو اس تمام تر صورت حال میں پٹرول کی قیمتوں کو اتنا زیادہ بڑھانا کس حکمت عملی کا نتیجہ ہے کیا جان بوجھ کر عوام کی قوتِ خرید ختم کی جا رہی ہے اور ان سے جینے کا جو رہا سہا حق ہے کیا وہ بھی چھینا جا رہا ہے اور یہ کس فارمولے کے تحت ہے ملک کو اس سے کیا ترقی مل سکتی ہے، جب ہماری اپنی ہی عوام مشکلات میں ہوں اور ہمیں خود پٹرول کی سخت ضرورت ہو اور ہمیں بآسانی دستیاب بھی ہوتا ہو، اول تو ہم اس پٹرول کو اپنے لیے کیوں استعمال میں نہیں لاتے، اس کا فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچاتے، اس کے ثمرات سے ہماری قوم اور ملک کو فائدہ کیوں نہیں پہنچ رہا اگر پاکستان امریکہ ایران جنگ میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے اور پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کا بھی سبب ہے اور پاکستان چونکہ اس وقت عالمی دنیا میں اپنا لوہا منوا چکا ہے طاقت کے حوالے سے، تو اس کے ساتھ ساتھ ملک کی اندرونی صورت حال، خاص طور پر مہنگائی کے حوالے سے، کیوں سوچ بچار ختم ہوگئی ہے عوام کو بے سہارا چھوڑ کر کیا میسج دیا جا رہا ہے۔
چونکہ پیٹرول واحد ایسی چیز ہے جس کی قیمت بڑھ جانے سے مجموعی طور پر مہنگائی کا طوفان آ جاتا ہے، کیونکہ استعمال میں آنے والی تمام اشیا اسی سے جڑی ہوئی ہیں، اسی کے گرد گھومتی ہیں۔ جب کرائے بڑھتے ہیں تو ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، جس کا نقصان عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اگر انفرادی حوالے سے استعمال کی کوئی چیز مہنگی ہو بھی جائے تو اس سے عوام پر اتنا زیادہ فرق نہیں پڑتا کہ مجموعی اعتبار سے وہ مہنگائی کے بوجھ تلے دب جائے، لیکن جب پیٹرول کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں تو پوری عوام اس کی لپیٹ میں آ جاتی ہے، ہر چیز کی قیمت ایک دم آسمان سے باتیں کرنے لگ جاتی ہے۔
اور یہی نہیں کہ صرف قیمتیں بڑھانے سے عوام مہنگائی تلے دب جاتے ہیں، بلکہ اگر پیٹرول کی قیمتیں حالات معمول پر آنے سے کم بھی کر دی جائیں تو وہ بڑھائی گئی قیمتیں کبھی واپس معمول پر نہیں آتیں۔ جن جن اشیا کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، خاص طور پر روزمرہ کے استعمال کی، تو وہ دوبارہ واپس پلٹ کر دیکھنے کو نہیں ملتیں اور نہ اس کے اوپر کوئی اقدامات ہوتے ہیں کہ پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے پہلے اشیا کی قیمتیں یہ تھیں اور بڑھنے کے بعد پھر دوبارہ واپس آنے پر اس کی قیمتیں کنٹرول کیوں نہیں کی جاتیں۔
اس حوالے سے بھی حکومت کی پالیسی سمجھ میں نہ آنے والی ہے۔ سارا ملبہ غریب عوام کے اوپر گرتا ہے اور انہیں ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کو اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے کہ اگر انہیں پٹرول سستے داموں اور آسانی سے دستیاب ہیں تو اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے چاہئیں۔ عوام خوشحال ہوگی تو ملک خوشحال ہوگا اور بہتری کی طرف گامزن ہوگا۔

