Tuesday, 31 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. 30 March Youm Ul Arz

30 March Youm Ul Arz

30 مارچ یومِ الارض

فلسطین کی سرزمین صدیوں سے تہذیبوں، مذاہب اور تاریخ کا مرکز رہی ہے، مگر گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ خطہ ظلم، جبر اور ناانصافی کی ایک دردناک داستان بن چکا ہے۔ 30 مارچ کا دن، جسے یومِ الارض کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ فلسطینی آج بھی اس دن کو اسرائیل کے اندر اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں احتجاجی مظاہروں اور زیتون کے درخت لگا کر مناتے ہیں تاکہ اپنی زمین سے تعلق کا اظہار کر سکیں۔

فلسطینی عوام کی اسی جدوجہد، قربانی اور اپنی مٹی سے لازوال محبت کی علامت ہے۔ یہ دن ہمیں 30 مارچ 1976ء کے اس تاریخی واقعے کی یاد دلاتا ہے جب فلسطینیوں نے اپنی زمینوں کےقبضےکےخلاف بھرپور احتجاج کیا اور اپنے خون سے اس جدوجہد کو رقم کر دیا جس میں اسرائیلی فائرنگ سے 6 فلسطینی شہید اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔

یہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا موڑ تھا جس نے فلسطینی عوام کے حوصلے، عزم اور مزاحمت کو نئی توانائی دی۔ اس دن نہتے فلسطینیوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ زمین محض رہائش کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ ان کی پہچان، تاریخ اور وجود کا حصہ ہے۔ جب ان کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ چنا، چاہے اس کی قیمت انہیں اپنی جانوں کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑی۔

آج جب ہم 2026 میں یومِ الارض منا رہے ہیں تو یہ حقیقت مزید تلخ ہو چکی ہے کہ حالات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی بلکہ کئی حوالوں سے یہ مزید سنگین ہو گئے ہیں۔ غزہ کی پٹی مسلسل محاصرے اور بمباری کی زد میں ہے، جہاں زندگی ایک امتحان بن چکی ہے۔ مغربی کنارے میں آئے روز جھڑپیں، گرفتاریوں اور زمینوں پر قبضے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں معمول بن چکی ہیں اور عالمی اداروں کی رپورٹس بھی اس صورت حال کی سنگینی کی تصدیق کرتی ہیں۔

فلسطینی بچے جو کھیلنے اور پڑھنے کی عمر میں ہوتے ہیں، وہ خوف، دھماکوں اور تباہی کے سائے میں پروان چڑھ رہے ہیں۔ مائیں اپنے بیٹوں کو محفوظ دیکھنے کی دعائیں کرتی ہیں، مگر اکثر یہ دعائیں ادھوری رہ جاتی ہیں۔ بزرگ اپنے گھروں اور یادوں کو ٹوٹتے دیکھتے ہیں، مگر ان کے حوصلے پھر بھی قائم ہیں۔ یہ وہ المیہ ہے جو صرف اعداد و شمار میں بیان نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ ایک زندہ حقیقت ہے جو ہر روز دہرائی جا رہی ہے۔

یومِ الارض دراصل ایک دن نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، یہ نظریہ ہے اپنی شناخت کے تحفظ کا، اپنی زمین کے حق کا اور ہر قسم کے ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا۔ فلسطینی عوام نے دنیا کو یہ سبق دیا ہے کہ اگر حق پر یقین ہو تو کمزور سے کمزور قوم بھی طاقتور قوتوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر سکتی ہے۔ ان کی جدوجہد صرف ان کی اپنی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔

آج 30 مارچ کویورپ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلیاں، مظاہرے اور سیمینارز منعقد کیے گئے۔ سوشل میڈیا پر بھی لاکھوں افرادنے اپنی آواز بلند کی مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کافی ہیں کیا عالمی برادری اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریوں کو پورا کر رہی ہے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی قراردادیں اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ان پر عمل درآمد نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف ایک سیاسی یا علاقائی تنازع نہیں بلکہ یہ انسانیت کا ایک بڑا امتحان ہے۔ اگر دنیا انصاف، انسانی حقوق اور آزادی کے اصولوں پر یقین رکھتی ہے تو اسے فلسطین کے معاملے میں بھی وہی معیار اپنانا ہوگا جو وہ دیگر تنازعات میں اختیار کرتی ہے۔ دوہرا معیار نہ صرف ناانصافی کو جنم دیتا ہے بلکہ عالمی امن کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

ہمیں بطور فرد اور بطور معاشرہ یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اس مسئلے میں اپنا کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ صرف سوشل میڈیا پر پیغامات شیئر کرنا کافی نہیں، بلکہ ہمیں عملی طور پر بھی اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ تعلیم، آگاہی، انسانی ہمدردی اور انصاف کے اصولوں کو فروغ دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے اردگرد کے لوگوں کو اس مسئلے کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے تاکہ ایک مضبوط اور باشعور رائے عامہ تشکیل پا سکے۔

یومِ الارض ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ زمین صرف مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ یہ عزت، شناخت اور بقا کی علامت ہوتی ہے۔ فلسطینی عوام کی یہ جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ جب کوئی قوم اپنے حق کے لیے کھڑی ہو جائے تو اسے مکمل طور پر شکست دینا ممکن نہیں ہوتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کا نظام ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہتا اور آخرکار حق ہی غالب آتا ہے۔

یومِ الارض صرف فلسطینیوں کا دن نہیں بلکہ یہ ہر اس انسان کا دن ہے جو انصاف، آزادی اور انسانی وقار پر یقین رکھتا ہے۔ یہ دن ہمیں جھنجھوڑتا ہے، ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم نے آج آواز نہ اٹھائی تو کل شاید بہت دیر ہو جائے گی۔ فلسطینی عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور وہ دن ضرور آئے گا جب ان کی سرزمین پر امن، آزادی اور انصاف کا سورج طلوع ہوگا۔

Check Also

Ab Aisa Nahi Hoga

By Shair Khan