Saturday, 23 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. 24 May, Walid e Mohtaram Ki Rukhsati Ka Din

24 May, Walid e Mohtaram Ki Rukhsati Ka Din

24 مئی، والد محترم کی رخصتی کادن

والد محترم کی صوبہ خیبر پختونخوا کے پُرفضا اور دینی روایات سے مالا مال ضلع شانگلہ کے گاؤں دیدل میں 11 اگست 1931ء کو ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھلی جہاں علمِ دین، تقویٰ اور خدمتِ اسلام نسل در نسل منتقل ہو رہی تھی۔ والد مرحوم نے اپنی پوری زندگی قرآن، مسجد، علم، امامت اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کیے رکھی۔ آپ کے والد گرامی حضرت مولانا قاضی فضل مولیؒ اپنے وقت کے جید عالم دین تھے۔ آپ جامعہ امینیہ دہلی کے فاضل، مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کے تلمیذِ خاص اور ریاستِ سوات میں سرکاری قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز رہے۔ یہی وجہ تھی کہ گھر کا ماحول ابتدا ہی سے مکمل دینی، علمی اور روحانی تھا۔ اسی ماحول نے مولانا حبیب الدیان فاروقیؒ کی شخصیت کی بنیاد رکھی۔ والد محترم نےابتدائی تعلیم ضلع تورغر کے علاقے دوڑمیرہ میں اپنے ماموں حضرت مولانا محمود حسن صاحبؒ سے حاصل کی، جو دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ بچپن ہی سے علمِ دین سے غیر معمولی شغف، عبادت سے محبت اور قرآنِ کریم سے قلبی تعلق نمایاں تھا۔ یہی ذوق آگے چل کر آپ کی پوری زندگی کا محور بن گیا۔

1951ء میں والد نے شہرِ قائد کا رخ کیا، جو اس دور میں دینی علوم کے بڑے مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ یہاں آپ نے دارالعلوم کراچی (نانک واڑہ) میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیعؒ سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔ بعدازاں مزید علمی پیاس بجھانے کے لیے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں داخل ہوئے اور فقیہ العصر مولانا محمد یوسف بنوریؒ جیسے عظیم محدث و فقیہ کی شاگردی اختیار کی۔ حضرت بنوریؒ کا والد مرحوم کے ساتھ خصوصی تعلق تھا۔ آپ ان خوش نصیب شاگردوں میں شامل تھے جنہیں حضرت بنوریؒ کی خصوصی شفقت، محبت اور قرب نصیب ہوا۔ جامعہ کے سابق رئیس اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندرؒ آپ کے ہم سبق اور ہم تکرار رہے۔ حضرت بنوریؒ جب چہل قدمی کے لیے نکلتے تو اکثر مغرب کی نماز والد صاحب کی امامت میں ادا فرماتے، جو یقیناً ایک غیر معمولی اعزاز اور آپ کی قرأت و تقویٰ کا عملی اعتراف تھا۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی طور پر خوبصورت، رعب دار، گرج دار اور پُرسوز آواز عطا فرمائی تھی۔ جب آپ نماز میں قرآنِ کریم کی تلاوت فرماتے تو سامعین پر ایک خاص روحانی کیفیت طاری ہو جاتی۔ آپ کی آواز میں ایسی تاثیر تھی کہ لوگ دور دور سے صرف اس شوق میں آتے کہ مولانا صاحب کے پیچھے نماز ادا کر سکیں۔ علماء، طلبہ، احباب اور عوام الناس سبھی آپ کی قرأت کے مداح تھے۔ آپ کی تلاوت صرف خوش الحانی نہیں بلکہ خشوع، روحانیت اور تاثیر کا حسین امتزاج تھی۔

قرآنِ کریم سے آپ کی محبت صرف امامت تک محدود نہ تھی بلکہ ذاتی زندگی میں بھی تلاوت کے ساتھ خاص شغف رکھتے تھے۔ خود بھی کثرت سے تلاوت کرتے اور عظیم قراء کی تلاوتیں انتہائی انہماک سے سنتے تھے۔ خصوصاً قاری عبدالباسط، عبدالصمد اور قاری صدیق منشاوی کی قرأت انہیں بے حد پسند تھی۔ ان عظیم قراء کی آوازیں آپ کے دل و روح کو ایک خاص سکون بخشتی تھیں۔ دستارِ فضیلت کے بعد والد مرحوم نے کراچی کے علاقے پٹیل پاڑہ کی سبحانی مسجد میں امامت و خطابت کا آغاز کیا۔ ساتھ ہی ذاتی کاروبار بھی شروع کیا۔ اگرچہ آپ علمی اعتبار سے تدریس کے میدان میں بھی بڑی خدمات انجام دے سکتے تھے، لیکن آپ نے امامت و خطابت کے ساتھ ساتھ کاروبار کو ترجیح دی اور اسی کے ساتھ دینی خدمات جاری رکھیں۔ آپ کے ابتدائی تلامذہ میں پٹیل پاڑہ کی معروف شخصیات حاجی عبدالمالک اور حاجی حافظ الحق حسن زئی رحمہما اللہ بھی شامل تھے۔

تقریباً بائیس تئیس برس امامت و خطابت کی خدمات انجام دینے کے بعد آپ سعودی عرب تشریف لے گئے، جہاں جدہ اور مکہ مکرمہ میں ایک طویل عرصہ امامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ حرم شریف کے معروف مدرس مولانا محمد مکی حجازی مدظلہم کے ساتھ آپ کا قریبی اور دوستانہ تعلق تھا۔ اس دوران متعدد بار حج کی سعادت حاصل کی اور "الحاج" کے لقب سے سرفراز ہوئے۔

ایک طویل عرصہ دیارِ حرم میں گزارنے کے بعد آپ واپس پاکستان تشریف لے آئے اور بقیہ زندگی امامت، خطابت، عبادت اور ذاتی کاروبار میں گزاری۔ آپ کی زندگی کا ہر پہلو سادگی، اخلاص، محبت اور حسنِ اخلاق کا آئینہ دار تھا۔ آپ صرف ایک عالم یا امام نہیں بلکہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے ہر ملنے والے کے دل میں اپنی محبت اور احترام پیدا کیا۔ اپنی اولاد کے ساتھ آپ کا تعلق باپ اور اولاد کا نہ تھا بلکہ ایک مخلص دوست جیسا تھا۔ آپ بچوں سے شفقت، محبت، دوستانہ انداز اور اپنائیت کے ساتھ پیش آتے۔ گھر میں ہمیشہ خوشگوار ماحول رکھتے، ہنسی مذاق کرتے، گپ شپ فرماتے اور اپنی اولاد کو اعتماد دیتے۔ یہی حسنِ اخلاق آپ کے عام تعلقات میں بھی نمایاں تھا۔ جو شخص ایک مرتبہ آپ سے ملتا، ہمیشہ آپ کے اخلاق اور محبت کا اسیر ہو جاتا۔

13 رجب المرجب 1434ھ بمطابق 24 مئی 2013ء بروز جمعۃ المبارک، فجر کے بابرکت وقت مختصر علالت کے بعد والد محترم ہم سب کوالوداع کہتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ نمازِ جمعہ کے بعد محمد پور قبرستان قصبہ کالونی میں تدفین عمل میں آئی۔ ان کی وفات اہلِ خانہ سمیت تمام متعلقین کے لیے ایک عظیم صدمہ تھی۔ والدین کی نعمت کا اصل احساس انسان کو اُس وقت ہوتا ہے جب یہ سایۂ شفقت سر سے اٹھ جاتا ہے۔ آج بھی جب آپ کی دلنشیں آواز، روح پرور تلاوت، محبت بھرا انداز اور شفقت آمیز گفتگو یاد آتی ہے تو دل بھر آتا ہے۔ بلاشبہ آپ ایک ایسے انسان تھے جنہوں نے اپنی زندگی سے محبت، دین داری، اخلاق، خدمت اور اخلاص کا عملی درس دیا۔

اللہ رب العالمین والد محترم کی کامل مغفرت فرمائے، اُن کی قبر کو نور سے بھر دے، کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور ہمیں اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Check Also

Lesco Aur Bijli Ka Azab (1)

By Shahid Mehmood