Friday, 10 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Iqbal Khan
  4. Qismat Puri

Qismat Puri

قسمت پڑی

ہفتہ بھر پہلے کافی عرصہ بعد کسی کتاب کو پڑھنے کا سلسلہ شروع کیا، کتاب کیا تھی ایک قسمت پڑی تھی، ایک کھولتا تو دوسری بھی کھل جاتی اور پھر اکثر پڑیاں خالی ہی کھلتی چلی گئیں، مگر ہمت اور داد بنتی ہے لکھاری کے لیے جس نے ساری قسمت پڑیاں کھول کے رکھ دیں اور آخر تک جاتے جاتے نہ صرف سارے نام ازبر کرا دیے بلکہ بہت سے مقاصد سے بھی روشناس کروا دیا۔

یوں تو میں کوئی اتنا اچھا قاری کبھی نہیں رہا، لیکن اس کتاب کر پڑھتے ہوئے بہت سی باتوں کا احاطہ ضرور کیا ہے، خصوصاََ نفسیات کی ایسی ایسی گتھیاں سلجھتی چلی گئیں کہ اگر میں قسمت پڑی کا مطالعہ نہ کرتا تو شاید یہ سب تشنہ ہی رہتا۔ احمر، طور، زونیشہ، ماریہ، شاہین اور سفینہ لوگ، بلکہ پوری گنجینہ یونیورسٹی کا ماحول اور فریشرز اور سینئیرز کی چپقلش کے ساتھ ساتھ جو بات سیکھنے کو ملی ہے، آپ کی کسی بھی کام کے ساتھ لگن اور اخلاص ہوتا ہے جو آپ کو اپنی منزل تک ضرور پہنچا دیتا ہے۔

گو اس پورے مرحلے میں جن دو افراد کا کردار متوازی رہا ہے وہ بلاشبہ احمر اور طور تھے، مگر ان کے باقی گروپ ممبران نے بھی ان کا خوب ساتھ دیا، یہاں بہت کچھ سیکھنے کو ملا، پہلی بات کہ آپ کسی کو جب پسند کرتے ہیں تو اس پسند میں اس کی عادات بھی ہوتی ہیں جنہیں من و عن قبول کرنا ہوتا ہے، اگر آپ اپنے اندر برداشت کی حد نہیں رکھتے تو آپ محبت کر ہی نہیں سکتے، انا محبت کے لیے زہر قاتل ہے، سب سے اہم بات اگر آپ کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہیں اور آپ خود کو ہمیشہ درست ہی سمجھتے ہیں تو بھی یہ سب سے مشکل مقام ہے کہ آپ کسی سے محبت کریں، یا کوئی آپ سے محبت کرے۔

ایک بات ماننا پڑے گی کہ قسمت پڑی پڑھتے ہوئے ایک لمحہ بھی بوریت کا احساس نہیں ہوا، بلکہ بہت سی جگہوں پر آنکھوں نے نمی کو نہ صرف خوش آمدید کہا، بلکہ آنسوؤں کی لڑی کو بھی پرونے دیا گیا، کچھ جذبات اور احساسات ہمارے لیے بہت اہم ہوتے ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے ہم لڑکھڑا بھی سکتے ہیں اور اٹھ کھڑے بھی ہو سکتے ہیں۔

بہت سی باتیں جو کسی سسٹم کو اچھا یا برا بناتی ہیں، ان میں سے ایک بات آپ کے بنائے ہوئے سسٹم میں انسانیت کی تذلیل ہے، جو کسی بھی اچھے ذی شعور فرد کے لیے قابل قبول نہیں ہوتی، خاص طور پر اس شخص کے لیے کبھی قابل قبول نہیں ہوگی، جو بہترین فکر رکھتا ہو، جو دوسروں سے محبت کرتا ہو، جس کے اندر انسانیت موجود ہو۔۔

اس ساری کتاب کے مطالعہ کے بعد جس بات نے مجھے پریشان کیا ہے وہ ہمارے معاشرے کے نفسیاتی مسائل ہیں، سفینہ اور علی خان کی مثال ہمارے سامنے ہے جنہوں نے ایک ایسے سسٹم کو کمک فراہم کی، جس سے بہت سے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن گئیں، مگر ان چار لڑکیوں کے جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے ایک لگن اور اتفاق سے نہ صرف اس گھٹیا نظام کو تباہ و برباد کر دیا، بلکہ آخر تک ہر جگہ اپنے اتفاق کی برکت کو ثابت کیا۔۔

لکھنے کو بہت کچھ ہے، مگر پھر کسی نشست میں ضرور رائے زنی کروں گا، فی الحال اتنا ہی کہ طیبا سید ایک اچھی لکھاری کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط ارادوں کی مالک بھی ہیں، ان کی ہیلنگ سیریز پڑھتے ہوئے ان باتوں کا ادراک ہو چکا ہے۔۔ ہماری دعا ہے کہ وہ مزید لکھیں تاکہ لوگوں کو مزید اچھی کتابیں پڑھنے کو مل سکیں۔۔

Check Also

Cake, Kursi Aur Qabar

By MA Tabassum