Saturday, 14 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Tareekh Ke Sath Aik Aur Zulm

Tareekh Ke Sath Aik Aur Zulm

تاریخ کے ساتھ ایک اور ظلم

ہم ابھی سی ڈی اے کی پچھلی زیادتی کا ماتم ہی کر رہے تھے کہ نجی سوسائٹی کی ڈیویلپمنٹ میں پہلی جنگِ عظیم کی یادگار کو مسمار کر دیا گیا اور اب اسی زخم پر ایک اور وار کرتے ہوئے مغلیہ دور کی صدیوں پرانی تاریخی عمارت کی باقیات کو بھی شہری ترقی کے نام پر مٹا دیا گیا۔ یہ صرف اینٹ اور پتھر نہیں گرائے گئے، بلکہ اسلام آباد کی تاریخ، شناخت اور اجتماعی یادداشت کو روند دیا گیا ہے۔

رہاڑہ گاؤں میں واقع 16ویں صدی کی یہ عمارت مغل بادشاہ اکبر کے دور کی یادگار سمجھی جاتی تھی اور ماہرین کے مطابق اس خطے کا قدیم ترین ڈھانچہ تھی۔ موٹی پتھریلی دیواریں، محرابی فصیل اور مضبوط مرکزی کمرہ کی نشانی اس دور کی تعمیراتی مہارت اور تاریخی تسلسل کی علامت تھے۔ افسوس کہ چند گھنٹوں میں مشینوں نے وہ سب کچھ مٹا دیا جسے صدیوں نے سنبھال کر رکھا تھا۔ اس سے پہلے پہلی جنگِ عظیم کی یادگار بھی اسی علاقے میں نجی تعمیرات کی بھینٹ چڑھ گئی، گویا تاریخ کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بے دخل کیا جا رہا ہے۔

ڈان اخبار نے 13 فروری کو یہ خبر شائع کی ہے۔

یہ عمل نہ صرف قابلِ افسوس بلکہ شدید قابلِ مذمت ہے۔ متعلقہ اداروں کی غفلت، خاموشی اور باہمی تضادات نے ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے ہاں تاریخی ورثے کے تحفظ کو کوئی سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں۔ ایک مہذب معاشرہ اپنی ترقی کی بنیاد اپنی تاریخ کو مٹا کر نہیں رکھتا۔ سی ڈی اے اور ذمہ دار اداروں کو جواب دینا ہوگا کہ آخر کس اختیار کے تحت شہریوں کی مشترکہ میراث کو اس بے دردی سے تباہ کیا جا رہا ہے۔

اب ڈیپارٹمنٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم (DOAM) اس یادگار سے برات کا اعلان کر رہا ہے، کہ یہ تاریخی ورثہ نہ تھا اور یہ بھی امید ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے سی ڈی اے سے اس بابت مراسلہ بازی بھی اب غائب کر دی ہوگی، مگر سوال یہ ہے تاریخ کے یہ ان مٹ نقوش جو مٹائے جا چکے ہیں، ان کی ذمہ داری کس کے سر ہوگی؟

اگر آج ہم نے آواز بلند نہ کی تو کل اسلام آباد ایک ایسا شہر بن جائے گا جس کے پاس بلند عمارتیں تو ہوں گی، مگر اپنی تاریخ، اپنی پہچان اور اپنی روح نہیں ہوگی۔ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، بلکہ اپنے ورثے کے تحفظ کے لیے بھرپور احتجاج اور سخت مطالبے کا ہے۔ ہے تو یہ مطالبہ بے جا، جس دیس میں زندہ لوگوں کی قانون کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں، وہاں مردہ دیواروں کو کون پوچھے گا۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Quran: Insan Ki Fitrat Se Ham Kalam Kitab

By Asif Masood