Saturday, 04 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mudassar Hameed
  4. Mobile Ne Hum Se Kya Cheen Liya?

Mobile Ne Hum Se Kya Cheen Liya?

موبائل نے ہم سے کیا چھین لیا؟

رات کے دو بج رہے تھے۔ ایک باپ پانی پینے کے لیے اٹھا تو اس نے دیکھا کہ اس کا بیٹا ابھی تک جاگ رہا ہے۔ اسے خوشی ہوئی کہ شاید امتحان کی تیاری کر رہا ہوگا، مگر جب وہ قریب گیا تو بیٹے کی نظریں کتاب پر نہیں بلکہ موبائل کی اسکرین پر جمی تھیں۔ چند لمحوں بعد باپ نے آہستہ سے کہا: "بیٹا! تم وقت نہیں گزار رہے، وقت تمہیں گزار رہا ہے"۔ یہی ایک جملہ آج کی پوری نسل کی تصویر بن چکا ہے۔

موبائل بذاتِ خود کوئی دشمن نہیں۔ یہ علم کا خزانہ بھی ہے، روزگار کا ذریعہ بھی اور رابطے کا بہترین وسیلہ بھی۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آلہ ہمارے ہاتھ میں رہنے کے بجائے ہم اس کے قابو میں آ جاتے ہیں۔ آج ہزاروں لوگ صرف چند منٹ کے لیے فون کھولتے ہیں، مگر جب سر اٹھاتے ہیں تو ایک گھنٹہ گزر چکا ہوتا ہے۔

نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ جب انسان کو بار بار نئی اور دلچسپ چیزیں نظر آتی ہیں تو دماغ ان کی طرف کھنچتا ہے۔ اسی لیے ہر نئی ویڈیو، ہر نیا پیغام اور ہر نئی اطلاع ہمیں دوبارہ فون اٹھانے پر آمادہ کرتی ہے۔ آہستہ آہستہ یہ صرف ایک عادت نہیں رہتی، بلکہ روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن جاتی ہے۔

اس کا سب سے بڑا نقصان وقت کا ضیاع نہیں، بلکہ توجہ کا بکھر جانا ہے۔ جو طالب علم پہلے ایک گھنٹہ مسلسل پڑھ سکتا تھا، اب چند منٹ بعد ہی موبائل دیکھنے لگتا ہے۔ گھر کے افراد ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوتے ہیں، مگر ہر شخص اپنی الگ دنیا میں گم ہوتا ہے۔ گفتگو کم، خاموشی زیادہ اور تعلقات پہلے سے کمزور ہوتے جاتے ہیں۔

اسلام بھی وقت کی قدر سکھاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے ﴿وَالُعَصُرِ﴾ کہہ کر زمانے کی قسم کھائی، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وقت انسان کا قیمتی سرمایہ ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی قدر بہت سے لوگ نہیں کرتے: صحت اور فراغت۔ جب یہی فراغت بے مقصد اسکرین پر صرف ہونے لگے تو زندگی کی بڑی منزلیں بھی دور ہونے لگتی ہیں۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ موبائل چھوڑ دیا جائے، بلکہ اسے اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے۔ اگر یہی موبائل قرآن کی تلاوت، اچھی کتابوں کے مطالعے، نئی مہارتیں سیکھنے، زبانیں سیکھنے یا حلال روزگار کے لیے استعمال ہو تو یہی آلہ انسان کی ترقی کا سبب بن سکتا ہے۔

آخر میں سوال صرف اتنا ہے کہ ہم موبائل استعمال کر رہے ہیں یا موبائل ہمیں استعمال کر رہا ہے؟ اگر اس سوال کا جواب ایمانداری سے مل جائے تو شاید ہماری زندگی کی بہت سی الجھنیں خود بخود حل ہو جائیں۔ یاد رکھیے! وقت واپس نہیں آتا، گزرا ہوا لمحہ دوبارہ نہیں ملتا اور زندگی انہی لمحوں کا نام ہے۔ اس لیے اسکرین کی روشنی میں اپنے خوابوں کی روشنی مدھم نہ ہونے دیں، کیونکہ کامیاب انسان وہ نہیں جو ہر خبر جانتا ہو، بلکہ وہ ہے جو اپنے مقصد کو کبھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتا۔

Check Also

Chand Foot Ki Zindagi

By Irfan Javed