Kya Mazhabi Halqay Ai Se Khofzada Hain?
کیا مذہبی حلقے اے آئی سے خوف زدہ ہیں؟

مصنوعی ذہانت کے بارے میں پوپ لیو کے بیان نے دنیا بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ویٹیکن میں ان کے خطاب اور بعد میں جاری ہونے والی دستاویز Magnifica Humanitas میں انھوں نے خبردار کیا کہ اگر اے آئی کو صرف منافع، طاقت اور کنٹرول کے لیے استعمال کیا گیا تو انسان اپنی ہی تخلیق کے سامنے بے بس ہوسکتا ہے۔ انھوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ انسان کو ڈیٹا یا الگورتھم میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے اور مشینوں کو انسانی وقار، اخلاقیات اور روحانی زندگی پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ویٹیکن نیوز اور دیگر ذرائع کے مطابق پوپ نے اے آئی کو صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ تہذیبی اور اخلاقی چیلنج قرار دیا۔ یہ بیان سامنے آتے ہی ایک بڑی بحث شروع ہوگئی کہ کیا مذہبی حلقے اے آئی سے خوفزدہ ہیں؟
بہت سے تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس سوال کو صرف ٹیکنالوجی کے دائرے میں نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس کے پیچھے گزشتہ تیس برسوں کی وہ پوری تاریخ موجود ہے جس میں انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور اب مصنوعی ذہانت نے مذہب، علم اور اتھارٹی کے پرانے ڈھانچوں کو بدل دیا ہے۔
انٹرنیٹ آنے سے پہلے مذہبی علم بڑی حد تک مخصوص طبقات تک محدود تھا۔ عام آدمی کے پاس اتنی کتابیں، حوالہ جات یا تاریخی مواد موجود نہیں تھا کہ وہ مختلف مذاہب کے اندرونی تضادات، تاریخی تنازعات یا فقہی اختلافات تک آسانی سے رسائی حاصل کرسکے۔ بہت سی باتیں ضخیم مذہبی کتابوں، علمی جرائد یا یونیورسٹیوں کے مقالوں میں دفن رہتی تھیں۔ لیکن انٹرنیٹ نے یہ صورتحال بدل دی۔ اب چند سیکنڈ میں کسی بھی مذہبی دعوے، تاریخی واقعے یا عقیدے کے حق اور مخالفت میں مواد دستیاب ہے۔
اسی دوران مذہبی مناظروں کی نوعیت بھی بدل گئی۔ پہلے جو مباحث مخصوص علما، پادریوں یا دانشوروں کے درمیان ہوتے تھے، وہ اب یوٹیوب، ریڈٹ، فیس بک اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز پر عام لوگوں تک پہنچنے لگے۔ الحاد، سائنسی تنقید، مذہبی اصلاح، تاریخی تحقیق اور مذہبی انتہاپسندی کے خلاف دلائل عالمی سطح پر پھیلنے لگے۔ اس کے ردعمل میں مذہبی حلقوں نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی بڑھائی۔ یوں ایک ایسی ڈیجیٹل جنگ شروع ہوئی جس میں مذہب اور الحاد دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بھرپور مہم چلائی۔
سماجی مبصرین کے مطابق مصنوعی ذہانت اس جنگ کا نیا مرحلہ ہے۔ پہلے انٹرنیٹ صرف معلومات دیتا تھا، پھر سوشل میڈیا نے بحث کو تیز کیا، لیکن اے آئی اب براہ راست سوالوں کے جواب دیتی ہے، دلائل ترتیب دیتی ہے، تاریخی حوالے تلاش کرتی ہے اور بعض اوقات مذہبی اتھارٹی کے متبادل کی طرح نظر آنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ حلقے پوپ لیو کے بیان کو محض اخلاقی تشویش نہیں بلکہ مذہبی اداروں کے اندر بڑھتے ہوئے خوف کے اظہار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
امریکی جریدے اٹلانٹک کے ایک مضمون میں کہا گیا کہ اے آئی روحانی اتھارٹی کے تصور کو چیلنج کررہی ہے، کیونکہ اب لوگ مذہبی رہنماؤں کے بجائے چیٹ بوٹس سے سوال پوچھ رہے ہیں۔ میگزین دا ورج نے لکھا کہ اے آئی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتیں صرف روزگار یا تعلیم کے لیے نہیں بلکہ مذہبی اداروں کے لیے بھی نفسیاتی دھچکا بن رہی ہیں۔ بزنس انسائیڈر نے لکھا کہ ویٹیکن پہلی بار اتنی شدت سے ٹیکنالوجی کے اخلاقی اثرات پر بات کررہا ہے اور اس کے پیچھے صرف انسان دوستی نہیں بلکہ اتھارٹی کے بحران کا احساس بھی ہے۔
لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ بعض اسکالرز اور ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ پوپ لیو کے خدشات کو صرف مذہب کا خوف کہہ کر رد نہیں کیا جاسکتا۔ اے آئی واقعی طاقت کے ارتکاز، غلط فہمیوں، ڈیپ فیکس، نگرانی اور بے روزگاری جیسے بڑے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ اے آئی محقق یوشوا بینجیو سمیت کئی ماہرین نے کہا کہ اخلاقیات، فلسفہ اور مذہب کو اس بحث سے باہر نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے نزدیک مذہبی حلقے بعض اوقات ایسے سوال اٹھاتے ہیں جنہیں ٹیک انڈسٹری نظرانداز کرتی ہے، مثلاً انسان ہونے کا مطلب کیا ہے، شعور کیا ہے اور کیا ہر وہ چیز جو ممکن ہو، ضروری بھی ہے؟
ٹیک انڈسٹری کے اندر بھی تقسیم موجود ہے۔ کچھ کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ مذہبی ادارے ہر بڑی سائنسی تبدیلی سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق جیسے ماضی میں ارتقا، خلائی سائنس یا جینیٹکس پر مذہبی ردعمل آیا تھا، ویسے ہی اب اے آئی پر آرہا ہے۔ سلیکون ویلی کے کئی تبصرہ نگاروں نے پوپ کے بیان کو ٹیکنالوجی مخالف سوچ قرار دیا۔ ان کے نزدیک اے آئی انسانی ترقی کا اگلا مرحلہ ہے اور اسے خوف کے بجائے امید کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔
دلچسپ بات ہے کہ تمام مذہبی حلقے اے آئی کو خطرہ نہیں سمجھ رہے۔ کچھ علما، پادری، راہب اور مذہبی اسکالرز اسے ایک موقع بھی قرار دے رہے ہیں۔ مسیحی، مسلمان، یہودی اور بدھ مت کے کئی حلقے اے آئی کے ذریعے مذہبی تعلیم، ترجمہ، سوال جواب، تاریخی تحقیق اور تبلیغ کا کام کررہے ہیں۔ قرآن، بائبل اور دیگر مذہبی متون کے اے آئی بیسڈ سرچ ٹولز بن رہے ہیں۔ بعض مذہبی ادارے اپنے چیٹ بوٹس بھی تیار کررہے ہیں جو عقائد، عبادات اور اخلاقیات سے متعلق سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔
ایسے مذہبی مفکرین کا استدلال ہے کہ ہر نئی ٹیکنالوجی ابتدا میں خوف پیدا کرتی ہے، لیکن بعد میں وہ مذہب کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ چھاپہ خانے کی ایجاد کے وقت بھی خدشات تھے، لیکن بعد میں اسی نے مذہبی کتابوں کو عام لوگوں تک پہنچایا۔ ریڈیو، ٹی وی اور انٹرنیٹ کے بارے میں بھی ابتدا میں مزاحمت ہوئی، لیکن آج مذہبی ادارے ان ذرائع سے اپنا پیغام پھیلا رہے ہیں۔ اے آئی بھی اسی سلسلے کی نئی کڑی ہوسکتی ہے۔
اصل سوال شاید یہ نہیں کہ مذہبی حلقے اے آئی سے خوفزدہ ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اے آئی انسان کی زندگی، علم، مذہب اور اتھارٹی کے پرانے تصورات کو کس حد تک بدل دے گی۔ انٹرنیٹ نے معلومات کو آزاد کیا، سوشل میڈیا نے ہر شخص کو آواز دی اور اب اے آئی نہ صرف معلومات دے رہی ہے بلکہ سوچنے، لکھنے اور استدلال کرنے کے عمل میں بھی شریک ہورہی ہے۔ یہ تبدیلی پوری دنیا کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

