Naujawan Nasal, Deeni Taleem Aur Valentine Ki Fikri Yalghar
نوجوان نسل، دینی تعلیم اور ویلنٹائن کی فکری یلغار
ہر دور کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے۔ قومیں اپنی نوجوان طاقت کے ذریعے ترقی کرتی ہیں اور یہی نسل اگر فکری انتشار، اخلاقی کمزوری اور تہذیبی بے سمتی کا شکار ہو جائے تو زوال بھی یقینی ہو جاتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ اسی نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اپنی نسل کو کیا دینا چاہتے ہیں، مضبوط کردار یا وقتی جذبات؟
نوجوانوں کو دینی تعلیم کی ضرورت محض اس لیے نہیں کہ وہ نماز اور روزہ سیکھ لیں، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی زندگی کا مقصد پہچان سکیں۔ دینی تعلیم انسان کو اس کی اصل شناخت دیتی ہے۔ قرآن کہتا ہے: "وَمَا خَلَقُتُ الُجِنَّ وَالُإِنسَ إِلَّا لِيَعُبُدُونِ"، یعنی زندگی محض خواہشات کی تکمیل کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری کا عنوان ہے۔
دینی تعلیم انسان کے اندر حیا، وقار، صبر، غیرت اور خود احتسابی پیدا کرتی ہے۔ آج کا نوجوان معلومات میں تو آگے ہے، مگر حکمت میں پیچھے۔ وہ ہر نئی روایت کو "آزادی" سمجھ لیتا ہے، ہر چمکتی چیز کو "جدیدیت" کا نام دے دیتا ہے۔ حالانکہ اصل ترقی اپنی بنیادوں پر کھڑے رہنے کا نام ہے۔
حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "الحیاء شعبة من الإيمان"، (حیا ایمان کا حصہ ہے)۔
یہی حیا معاشرے کی خوبصورتی ہے۔ جب حیا کمزور ہوتی ہے تو بے راہ روی بڑھتی ہے اور جب بے راہ روی بڑھتی ہے تو خاندان ٹوٹتے ہیں۔
Valentine's Day بظاہر محبت کے اظہار کا دن کہا جاتا ہے، مگر اس کی بنیاد مغربی تہذیب اور رومن تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ دن ایک تجارتی مہم اور جذباتی نمائش میں تبدیل ہو چکا ہے۔ سرخ دل، پھول، کارڈز اور سوشل میڈیا کی تصاویر، یہ سب وقتی مسرت کا سامان تو ہیں، مگر کیا یہ ہمارے دینی اور خاندانی اقدار سے ہم آہنگ ہیں؟
اسلام محبت کا مخالف نہیں۔ اسلام محبت کو پاکیزگی اور ذمہ داری کے ساتھ جوڑتا ہے۔ نکاح کے بندھن میں محبت عبادت بن جاتی ہے، مگر حدود سے آزاد تعلقات معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔
مسئلہ صرف ایک دن منانے کا نہیں، مسئلہ سوچ کا ہے۔ جب نوجوان محبت کو محض جذباتی تسکین سمجھنے لگے اور ذمہ داری کو بوجھ، تو معاشرہ کمزور ہو جاتا ہے۔
ہماری نوجوان نسل سوشل میڈیا کے زیرِ اثر ہے۔ جو ٹرینڈ بن جائے وہی سچ لگتا ہے۔ مگر کیا ہر ٹرینڈ ہماری تہذیب کے مطابق ہوتا ہے؟
ہم نے ترقی کو مغربی مشابہت سے جوڑ دیا ہے۔ لباس، اندازِ گفتگو، تہوار، سب کچھ درآمد شدہ۔ مگر قومیں تب ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنی پہچان کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔
علامہ اقبالؒ نے کہا تھا:
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیﷺ
یہ اشعار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہماری بنیاد الگ ہے، ہمارا نظریۂ حیات مختلف ہے۔
دینی تعلیم کیوں ناگزیر ہے؟ دینی تعلیم نوجوان کو سکھاتی ہے کہ ہر خواہش پوری کرنا آزادی نہیں، بلکہ نفس پر قابو پانا اصل آزادی ہے۔
ہمارا معاشرہ خاندان کی بنیاد پر قائم ہے۔ اگر نوجوان حدود سے بے نیاز ہو جائے تو سب سے پہلے خاندان متاثر ہوتا ہے۔
فکری خود مختاری کے لیےجب نوجوان دین سے جڑا ہو تو وہ ہر نئی روایت کو پرکھ سکتا ہے۔ وہ بھیڑ کا حصہ نہیں بنتا بلکہ شعور کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔
روحانی سکون کے لیےوقتی تعلقات اور نمائشی محبت دل کو خالی چھوڑ دیتے ہیں۔ مگر اللہ سے تعلق دل کو اطمینان دیتا ہے۔
اصل محبت کیا ہے؟ اصل محبت وہ ہے جو عزت دے، جو تحفظ دے، جو ذمہ داری اٹھائے۔ اصل محبت وہ ہے جو نکاح میں پروان چڑھے، جو خاندان بسائے، جو نسلوں کو سنوارے۔ محبت اگر بے راہ ہو جائے تو نفس کی غلامی بن جاتی ہے اور اگر حدود میں ہو تو عبادت بن جاتی ہے۔
ہم نوجوانوں کو صرف ممانعت نہ دیں، بلکہ دلیل دیں۔
صرف "نہ کرو" کہنا کافی نہیں، بلکہ یہ سمجھانا ضروری ہے کہ کیوں نہ کریں۔
دینی تعلیم محض نصاب نہیں، ایک تربیت ہے، گھر سے شروع ہونے والی اور معاشرے تک پھیلنے والی۔
یہ زمانہ فکری یلغار کا ہے۔ اگر ہم نے اپنی نسل کو دینی شعور، اخلاقی تربیت اور تہذیبی آگہی نہ دی تو وہ جذباتی نعروں اور وقتی رجحانات کا شکار ہو جائے گی۔
سوال یہ نہیں کہ ویلنٹائن منایا جائے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی شناخت، اپنی حیا اور اپنے خاندانی نظام کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں؟
نوجوان نسل اگر دین سے جڑ جائے تو وہ نہ صرف خود محفوظ رہتی ہے بلکہ معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔
قوموں کی بقا عمارتوں سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے۔

