Wednesday, 27 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Khursheed Begum
  4. Wo Jis Ne Wafa Ki

Wo Jis Ne Wafa Ki

وہ جس نے وفا کی

وابراہیم الذی وفی، "اور وہ ابراہیم جس نے وفا کی" کس کے ساتھ وفا کی؟ اپنے خالق و مالک حقیقی کے ساتھ۔ بچپن سے لے کر زندگی کے آخری سانس تک فرمانبرداری کا حق ادا کیا۔

"اِنِّیُ وَجَّهُتُ وَجُهِیَ لِلَّذِیُ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الُاَرُضَ حَنِیُفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الُمُشُرِكِیُنَۚ○

میں نے تو یکسو ہو کر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کرلیا، جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں"۔

یہ اعلان کرکے راہ توحید اختیار کرلی تو رب کائنات نے تسلیم و رضا کے اس پیکر کی وفاداری پر ایسی مہرِ تصدیق ثبت کی کہ اپنی آخری اور تاقیامت قائم رہنے والی کتاب کو اس پر گواہ بنا دیا۔ قرآن پاک کی روشنی میں دیکھا جائے تو ابراہیمؑ وہ ہستی ہیں جنھوں نے اپنا تن، من، دھن اور اولاد سب اللہ کی راہ میں قربان کرکے بندگیٔ رب کا اعلٰی نمونہ پیش کیا۔ انھون نے جب معبود حقیقی کو پالیا اور خلیل اللہ کا لقب مل گیا تو حقِ دوستی ادا کرنے کی ٹھان لی۔ تنہا اپنے باپ، خاندان اور قوم کو للکارا کہ میرے رب واحد کو چھوڑ کر مٹی اور پتھر کے خود ساختہ خداؤں کی پوجا کیوں کرتے ہو؟ پھر شرک کی گندگی کو برداشت نہ کرسکے تو ان کے بتوں کو پاش پاش کرکے نہ صرف توکل علی اللہ کی اعلٰی مثال قائم کی بلکہ پوری قوم کی مخالفت مول لے لی۔ پکڑے جانے پر بھی حکومت وقت سے بالکل خوفزدہ نہ ہوئے۔

سبحان اللہ! کیسا ہوشمندی کا جواب دیا کہ سب کچھ ان بتوں کے سردار نے کیا ہے، پوچھ لو ان سے اگر یہ بولتے ہیں؟ عقیدہ توحید کی پختگی کا عالم یہ ہے کہ آگ کا الاؤ بھی خلیل اللہ کے ایمان کو متزلزل نہ کرسکا۔ حتی کہ اس جرم میں گھر سے نکالے گئے، ملک بدر ہوئے۔ تبلیغ حق کا فریضہ ادا کرتے ہوئے مصر پہنچے۔ اللہ تعالٰی نے حضرت حاجرہ جیسی وفاشعار بیوی عطا فرمائی۔ بڑھاپے میں پیارا بیٹا اسماعیل عطا ہوا۔ جو ابھی شیرخوارگی کی عمر میں ہی تھا کہ ایک اور آزمائش آن پڑی۔ حکم ہوا کہ ماں بیٹے کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آؤ کہ ان کے ذریعے اس وادیٔ غیر ذی زرع کو آباد کرنا مقصود تھا۔ خلیل اللہ کی کیا مجال کہ کوئی سوال کرتے۔ فوراً حکم کی تکمیل کی۔ حضرت حاجرہ علیہا السلام نے صرف اتنا پوچھا "کیا آپ اللہ کے حکم سے ہمیں یہاں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟" حکمِ خدا جان کر اللہ کی نیک بندی نے سر تسلیم خم کردیا۔ فرمایا "اگر یہ خدا کا حکم ہے تو بلاشبہ وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا"۔ پھر ننھے اسماعیل کے پاس آگئیں۔

جہاں بیوی اور بچہ نظروں سے اوجھل ہوئے حضرت ابراہیمؑ نے سکون قلب کے لئے یوں دعا کی "اے پروردگار ایسے میدان میں جہاں کھیتی کا نام و نشان نہیں، میں نے اپنی اولاد تیرے محترم گھر کے پاس لا بسائی ہے کہ نماز قائم رکھیں۔ بس تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور ان کے لئے زمین کی پیداوار سے سامان رزق مہیا کردے۔ تاکہ یہ تیرے شکرگزار ہو جائیں۔ (سورہ ابراہیم آیت نمبر 37)

اس قربانی کو قبولیت کا درجہ یوں عطا ہوتا ہے کہ ممتا کے جذبہ کے ہاتھوں مجبور حضرت حاجرہ علیہا السلام پانی کی تلاش میں صفا و مروہ کی پہاڑیوں پر دوڑ دوڑ کر چکر لگارہی ہیں کہ سات چکر بھی مکمل ہوگئے اور ننھے اسماعیل کی ایڑیوں سے زم زم کا چشمہ بھی پھوٹ نکلا۔ قربان جائیں اس پیارے رب کی تدبیروں کے کہ حضرت حاجرہ کی اس بےقراری کی ادا کو صفا و مروہ کی سعی کی صورت میں شریعت محمدی میں حج کا واجب قرار دیا۔

پھر وہ وقت بھی آگیا کہ اسماعیلؑ جو مرادِ ابراہیم تھے، باپ کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو حکم الٰہی ہوتا ہے کہ پیارے لختِ جگر کو راہ اللہ قربان کر دیجئے۔ خلیل اللہ تو ہر قربانی کے لئے تیار تھے، ذبیح اللہ نے بھی سرِ تسلیم خم کردیا۔ پھر چشم فلک نے پہلی بار یہ منظر دیکھا کہ ایک باپ عشق الہی کی آخری حدوں کو چھو لینے کی خاطر اپنے بیٹے کو ذبح کررہا ہے۔ اس موقع پر جبرائیل امین بھی آزمائے گئے۔ بارگاہ الٰہی سے حکم ہوا جبرائیل جلدی جاؤ اسماعیل کو کوئی نقصان نہ پہنچنے پائے۔ چنانچہ مینڈھا ابراہیمؑ کی چھری سے ذبح ہوا اور اسماعیلؑ نے ذبیح اللہ کا درجہ پالیا۔ خلیل اللہ اس امتحان میں کامیاب ٹھہرے۔ چنانچہ راہِ حق کے اس مسافر کی ہر ادا امتِ محمدیہ کے لئے تاقیامت اسوہ حسنہ قرار پائی۔

پوری دنیا کے مسلمان ہر سال 10 ذوالحج کو اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ لیکن ذرا رکئے، ٹھہر کر غور کیجئے کہ کیا قربانی کرنے والا ہر مسلمان اس روز اپنی خواہشات نفسانی بھی راہِ للہ قربان کرنے کا عہد کرتا ہے؟ نہیں بالکل نہیں۔ تو مجھے کہنے دیجئے کہ اصل میں ہمارے فلسطینی بھائی آج بھی اسوہ ابراہیمی پر عمل پیرا ہیں جو کلمہ حق کی سربلندی کے لئے اپنا گھر بار، خاندان، اولاد سب کچھ لٹا چکے۔ جن میں ابھی زندگی کی رمق باقی ہے ان کے حوصلے بلند ہیں کہ انھیں قبلہ اول کی حفاظت کا فریضہ انجام دینا ہے۔

آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

Check Also

Imran Khan Ka Dehi Khud Kafalat Model

By Aftab Alam