Saturday, 27 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Kashif Zia
  4. Sharab Khor Khayal

Sharab Khor Khayal

شراب خوش خیال

بیدل ایک شاعر تھا، پورا نام مرزا عبدالقادر بیدل، اس نے ایک قطعہ کہا جو فکر و فن میں خوب ہے:

دشنام اگر دہد خسیسے
چارہ نبود بجز شنیدن

گر پائے کسے سگ گزیدہ
باسگ نتواں را عوض گزیدن

مفہوم یہ کہ کوئی خبیث گالیاں دے تو سننے کے سوا چارہ نہیں کیوں کہ اگر کسی کے پاؤں پہ کتا کاٹ لے تو بدلے میں کتے کو نہیں کاٹا جا سکتا۔

یہ نظریہ حقیقت کے قریب ہے، عملی زندگی میں ہمہ قسم کے لوگ ملتے ہیں، بسا اوقات تلخی بھی ہو جاتی ہے، ایسے میں صبر و استقامت کا دامن نہ چھوٹنا چاہیے، اگر کوئی برا کہے، جواب میں ہم بھی برا کہیں تو فرق کیا! اور اللہ تعالی کی مدد سے محرومی علاوہ ہوئی۔

مشاہدہ ہے کہ گالیاں وہی بکتے ہیں جو ذکرکے عادی نہیں ہوتے یا پابندی سے اللہ پاک کا نام نہیں لیتے، ذکر و شغل کا عادی ہرگز گالیاں نہ بکے گا بلکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے اوقات فضول کاموں میں برباد نہیں کرتا۔

ایک بزرگ کا قول ہے "لذت پانے والے ذکر سے زیادہ لذت کسی چیز میں نہیں پاتے"، اس سے زندگی میں خاص قسم کا کیف اور سرور پیدا ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ نوبت بہ ایں جا رسید کہ:

نہ غرض کسی سے نہ واسطہ مجھے کام اپنے ہی کام سے

تیرے ذکر سے تیری فکر سے تیری یاد سے تیرے نام سے

شیخ الحدیث مولانا زکریا کی زندگی میں خاص قسم کی برکت تھی جسے تلامذہ اور پاس رہنے والے بھی محسوس کرتے تھے، ایک مرتبہ ان کے مرشد اور چند بزرگ عین دوپہر کو آ پہنچے، انہوں نے پوچھا:

"حضرات! کیا کھانا کھا کر آئے"

جواب نفی میں ملا، سب فاقے سے تھے، حضرت شیخ یہ سن کر اندر دوڑے، بیٹیوں کو پکانے کا حکم دیا، پھر گھر سے باہر آئے، ایک گوشت فروش دور سے جاتا دکھائی دیا، اسے اپنی سمت آنے کا اشارہ کیا اور خود اس کی طرف دوڑے، اس کے پاس تھوڑا سا قیمہ تھا، وہ دکان سمیٹ کر گھر جا رہا تھا، قیمہ خرید کر شیخ گھر آئے، دیکھا ایک بیٹی آٹا گوندھ چکی ہے اور دوسری سالن کے لیے مصالحہ بھون رہی ہے، مہمان اتنی دیر میں مہمان خانے میں بیٹھ چکے تھے، شیخ نے پانی بھر کے ہاتھ دھلوانے شروع کیے، جتنے مہمان ہاتھ دھو کر فارغ ہوئے اتنے زنانے سے کھانے کی کشتی آگئی، کسی نے پوچھا

" زکریا! یہ کھانا ابھی تیار ہوا؟

شیخ نے جواب دیا "جی ہاں! ابھی"

ان میں سے ایک بزرگ مولانا ابراہیم تھے جو معقولات پڑھاتے تھے، وہ بولے

"اتنی جلدی! یہ عقل میں نہیں آتا"

جواب دیا گیا

"کھانا شروع کیجئے، ہر بات کا معقول ہونا ضروری نہیں"

مقصد یہ کہ ذکر سے عجیب برکت اور نکھار آ جاتا ہے، ان لوگوں کو قدرت اپنی جناب سے (طبیعت کے موافق) نعمتیں عطا کرتی ہے اور اگر نعمت نہ بھی ملے تو آقا کا نام لینا کیا کم نعمت ہے۔

بسا اوقات ذکر طبیعت میں فراست پیدا کرتا ہے، (کسی چیز کے ظاہر کو دیکھ کر باطن کا ٹھیک اندازہ کر لینا فراست ہے)، یہ اللہ والوں کی دولت ہے۔

شاہ ولی اللہ کے والد شاہ عبدالرحیم پیشے کے لحاظ سے طبیب تھے، ایک مرتبہ کسی مریضہ کو دیکھنے گئے، قارورہ (صبح کا پہلا پیشاب) دکھایا گیا، آپ نے نسخہ لکھ دیا، ایک ہندو وید بھی موجود تھا، طنز سے کہنے لگا

"حضرت! کیا تشخیص بھی فرما لی؟

آپ نے جواب دیا

"جس عورت کا یہ قارورہ ہے اس کا نام یہ، عمر اتنی، اولاد اتنی، مرض کی کیفیت یہ اور علاج یہ ہے"۔

وید ششدر رہ گیا، حیرانی میں پوچھا

"آپ کو کیسے معلوم ہوا؟

شاہ صاحب مسکراتے ہوئے بولے

"یہ فراست صادقہ ہے جو ہمیں حضرت ﷺ کے طفیل ملی ہے"۔

ذاکر کو وہ انوار پیش آتے ہیں کہ وہی ادراک کر سکتا ہے، یہی وجہ ہے صوفیہ ذکر کی کثرت کرواتے ہیں، جس چیز کا بار بار تذکرہ کیا جائے اس کی عظمت دل میں آتی ہے، اللہ کا نام لینے سے اللہ تعالیٰ کی عظمت دل میں بیٹھتی ہے۔

جو حضرات ذکر شروع کرنا چاہیں کسی ماہر شریعت، متبع سنت سے مشورہ کر لیں، مشورے سے جو کام کیا جائے اس میں خیر ہے:

مے دافع آلام ہے تریاق ہے لیکن
کچھ اور ہی ہو جاتی ہے ساقی کی نظر سے

Check Also

Hazrat e Hur, Karbala Ke Pehle Shaheed

By Shams Muneer Gondal