Haqeeqaten (5)
حقیقتیں (5)

1۔ شکریہ اور معذرت کے الفاظ جتنے اہم ہیں، ہم انھیں اتنے ہی غیر اہم سمجھتے ہیں۔ ان لفظوں کا استعمال گھر سے شروع کرنا چاہیے۔ ماں باپ بیٹوں اور بیٹیوں کا شکریہ ادا کریں اگر ان کی طرف سے انھیں کوئی خیر پہنچے اور اگر والدین بھولے سے کوئی ایسا اقدام کر بیٹھیں یا کوئی نامناسب لفظ بول بیٹھیں، جن سے بچوں کو ذہنی یا جسمانی چوٹ پہنچے، تو فوراً معذرت خواہ ہوں۔
2۔ ملازمت کی جگہ پہ کسی ملازم کی تعریف مت کریں کہ آپ بہت باصلاحیت ہیں۔ کیونکہ جوں ہی یہ خبر باس تک پہنچے گی، یہ اس کے دل میں آپ کے لیے منفی سوچ پیدا کرے گی کہ یہ میرے ملازمین میں بغاوت کے جراثیم پیدا کر رہا ہے۔
3۔ کائنات کا سسٹم اس ڈھب پہ بنا ہے کہ انسان کی ساری خواہشات کا پورا ہونا ناممکنات میں سے ہے۔ سو، اس حقیقت کی قبولیت صدمہ کم کرتی ہے۔
4۔ ڈپریشن یا ذہنی دباؤ کے متعلق یہ فکری مغالطہ دور کر لیں کہ یہ ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے۔ ہر ڈپریشن نے ایک خاص مدت (چند گھنٹے، چند دن یا چند ہفتے شدت کے حساب سے) کے بعد ختم ہو کر ماضی کا حصہ بننا ہوتا ہے۔ نہیں یقین تو ذرا اپنے ماضی میں جھانک کر دیکھیں۔
5۔ جس راز کے افشا ہونے سے آپ کی جان، مال یا آبرو کو خطرہ ہو، اس کا ذکر اپنے عزیز ترین رشتے دار یا مخلص ترین دوست سے بھی نہ کریں، حتیٰ کہ ماں باپ سے بھی نہیں۔ ہاں! ماں باپ سے مشاورت کی بات الگ ہے۔
6۔ ماں باپ کے سوا ہر رشتے میں کم از کم ایک فیصد کی بدگمانی ضرور رکھیں کہ یہ کسی ممکنہ حادثے سے بچائے گی۔ کیونکہ دھوکا یا نقصان وہیں ہوتا ہے جہاں اعتماد کا ہندسہ 100 کو چھو لے۔
7۔ رشتوں یا دوستوں کی طرف سے درد ملے، تو اس پہ ہمارا کنٹرول نہیں، لیکن اس پہ تو ہمارا کنٹرول ہے کہ ہمارا جسم ہمیں درد کی "سوغات" نہ دے۔ بس اس کا جتنا خیال کریں گے، بدلے میں وہ بھی آپ کا اتنا ہی خیال کرے گا۔
8_ ملازم سے ذاتی ٹوائلٹ صاف کروانا، استعمال شدہ ٹشو پیپرز اٹھوانا، جانگیا (کچھا، انڈر ویئر) دھلوانا، جوتا صاف کروانا ایک غیر اخلاقی حرکت ہے۔
9۔ دوران سفر ضرورت کی ہر چیز گھر سے لے کر چلیں۔ پیسے کی بھی بچت ہے اور سفر میں ناقص یا مضر صحت چیزوں سے بھی بندہ بچتا ہے۔
10۔ تقریباً ہر سال پورے جسم کا چیک آپ کروائیں۔ اس سے مرض کا پتا شروع ہی سے چل جاتا ہے۔ مثلاً، کینسر ایسا موذی مرض اس طرح دھیرے دھیرے گرفت میں لیتا ہے کہ یہ اپنی آخری اسٹیج تک مریض کو خبر نہیں ہونے دیتا۔
11۔ اہل مذہب کی مذہبی تشریحات سے جتنا بچ سکیں، اتنا ہی بہتر ہے کہ قبر یا حشر میں ان کے متعلق کوئی سوال نہیں ہونا۔
12۔ دنیا میں سب سے زیادہ پیار، محبت اور توجہ کے لائق آپ کا اپنا جسم ہے۔ سو، بھوک رکھ کر اور حفظانِ صحت کے اصولوں پہ بنی خوراک کھائیں، باہر کے کھانوں سے پرہیز کریں، مناسب ورزش کریں اور دوڑنا بھاگنا بھی آپ کی زندگی کا حصہ ہو۔
13۔ معدے کے لیے سب سے زود ہضم پھل امرود اور اس کے بعد آڑو اور پھر خربوزہ ہے۔ پس، ان پھلوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔
14۔ بندہ اگر مصروف ہو تو، زبانی سلام سے کام چلائیں۔ یعنی کوئی شخص اگر کھانا کھا رہا یا چائے پی رہا ہو تو سلام کے لیے ہاتھ بڑھانا ضروری نہیں۔
15۔ خرید و فروخت کے معاملے میں آپ گندے بندے کو چیز دے کے بھی پچھتائیں گے اور لے کے بھی پچھتائیں گے۔
16۔ جس واقف دکان دار یا کاری گر سے محبت کا تعلق ہو، تو اس سے "انھے واہ" چیز خریدنا یا کاری گر سے چیز بنوانا تعلق خراب کر سکتا ہے کہ کچھ لوگ کاروبار میں کسی لحاظ کے قائل نہیں ہوتے۔
17۔ جہاں پیار ہو، وہاں بیوپار مت کریں اور اگر کر لیں اور اس میں آپ کی دل شکنی کا سامان ہو، تو اس کا اظہار نہ کریں، برداشت کریں۔
18۔ جب تک کال ختم ہونے کا یقین نہ ہو، تب تک کالر کے متعلق کوئی ناگفتہ بہ بات نہ کریں۔
19۔ اپنے بچوں کو پانچ سال کی عمر سے ورزش کی عادت ڈال دیں۔
20۔ معدے کے متعلق اتنا حساس ہونا چاہیے کہ اس کی محبت آپ کی محبت اور اس کی نفرت آپ کی نفرت ہونی چاہیے۔

