Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Hasnain Haider
  4. Riyasti Mafad Ya Iqtidar Ka Tahafuz?

Riyasti Mafad Ya Iqtidar Ka Tahafuz?

ریاستی مفاد یا اقتدار کا تحفظ؟

پاکستانی وفد کے حالیہ دورۂ چین کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کو اگر محض ایک رسمی سفارتی بیان سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے تو شاید اس میں کوئی غیر معمولی بات دکھائی نہ دے۔ مگر عالمی سیاست میں اصل پیغامات اکثر انہی محتاط جملوں کے اندر چھپے ہوتے ہیں جنہیں عام طور پر سفارتی آداب سمجھ کر پڑھ لیا جاتا ہے۔

اعلامیے میں پاکستان اور چین نے عالمی تنازعات کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کے کردار، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور یکطرفہ اقدامات کی مخالفت پر زور دیا۔ بظاہر یہ روایتی سفارتی زبان ہے، مگر موجودہ عالمی ماحول میں یہ دراصل ایک بڑے جغرافیائی و سیاسی اختلاف کا اظہار بھی ہے۔

دنیا اس وقت ایک نئی عالمی تقسیم کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ پرانی سرد جنگ جیسی نظریاتی جنگ نہیں۔ اب سرمایہ داری اور اشتراکیت نہیں بلکہ "عالمی نظم" (World Order) کے دو مختلف تصورات آمنے سامنے ہیں۔ ایک تصور وہ ہے جس میں عالمی سیاست طاقت، عسکری برتری اور محدود اسٹریٹجک اتحادوں کے ذریعے چلتی ہے۔ دوسرا تصور وہ ہے جسے چین اور روس مسلسل اقوامِ متحدہ، کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی قانون کی زبان میں پیش کر رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کو صرف عرب اسرائیل تعلقات یا علاقائی سفارت کاری کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ ابراہام معاہدے ہوں یا نئے علاقائی اتحاد، ان سب کے پیچھے دراصل ایک نئی geopolitical restructuring کارفرما تھی، جس کا مقصد روایتی تنازعات کو امریکی ترجیحات کے مطابق نئی شکل دینا تھا۔

پاکستان اسی بدلتی ہوئی دنیا کے درمیان کھڑا ہے۔

یہاں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اسلام آباد واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کے ساتھ تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اندر دو الگ ترجیحات بیک وقت موجود ہیں: ایک ریاست کی ترجیح، دوسری حکمران اشرافیہ کی ترجیح۔

ریاست کے مفادات نسبتاً واضح ہیں۔ پاکستان کی معیشت چینی سرمایہ کاری، خلیجی مالی تعاون اور علاقائی استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ دفاعی ضروریات کا بڑا حصہ اب چین سے وابستہ ہے۔ توانائی، انفراسٹرکچر اور مالیاتی سہارا بھی بڑی حد تک مشرقی اور خلیجی شراکت داروں سے آتا ہے۔

مگر حکمران طبقات کی ترجیحات ہمیشہ صرف معاشی یا دفاعی نہیں ہوتیں۔ اقتدار کے مراکز کو عالمی قبولیت، سفارتی تحفظ اور مغربی حمایت بھی درکار رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سفارت کاری اکثر بیک وقت دو متضاد سمتوں میں چلتی محسوس ہوتی ہے۔ ایک طرف چین کے ساتھ "آہنی دوستی" کے بیانات، دوسری طرف واشنگٹن کو مسلسل یہ یقین دہانیاں کہ پاکستان اب بھی مکمل طور پر اس کے دائرۂ اثر سے باہر نہیں گیا۔

یہ کیفیت صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ تاریخ میں اکثر درمیانے اور کمزور ممالک بڑی طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب توازن حکمتِ عملی کے بجائے ابہام میں تبدیل ہو جائے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں یہی ابہام اب زیادہ نمایاں ہو رہا ہے۔ ایک طرف اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کی حمایت کے بیانات، دوسری طرف ہر بڑی طاقت کو الگ الگ یقین دہانیاں۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان کس کے قریب ہے، سوال یہ ہے کہ پاکستان خود کو دنیا میں کس جگہ دیکھتا ہے۔

کیونکہ عالمی سیاست اب صرف فوجی اتحادوں سے طے نہیں ہو رہی۔ نئی دنیا میں سپلائی چینز، توانائی کے راستے، مالیاتی انحصار، ٹیکنالوجی اور جغرافیائی رسائی خارجہ پالیسی کی سمت متعین کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں مستقل ابہام زیادہ دیر نہیں چلتا۔

سعودی عرب کی حالیہ سفارتی حکمتِ عملی بھی اسی تبدیلی کی مثال ہے۔ ریاض اب صرف امریکی سکیورٹی چھتری پر انحصار کرنے کے بجائے چین، روس، ایران اور مغرب سب کے ساتھ بیک وقت تعلقات رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی اسٹریٹجک خودمختاری آج کی نئی طاقت بن رہی ہے۔

پاکستان کے لیے اصل چیلنج شاید یہی ہے کہ وہ "ریجیم سیکیورٹی" اور "ریاستی سیکیورٹی" کے فرق کو سمجھ سکے۔ اقتدار کی ضرورتیں وقتی ہوتی ہیں، مگر ریاستوں کے فیصلے نسلوں تک اثر ڈالتے ہیں۔

دنیا نئی صف بندیوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں اسلام آباد کے لیے سب سے مشکل سوال یہ نہیں کہ امریکہ یا چین میں سے کس کا ساتھ دیا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان پہلی بار واقعی اپنی خارجہ پالیسی قومی مفاد کے مطابق تشکیل دے پائے گا، یا ہمیشہ کی طرح مختلف طاقتوں کے درمیان وقتی توازن ہی اس کی مستقل حکمتِ عملی رہے گا۔

Check Also

Doobta Murree, Nawaz Sharif Aur Sheerazi Sahab

By Muhammad Idrees Abbasi