Monday, 03 October 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Gul Bakhshalvi

Main Imran Khan Hoon

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں اظہار وجوہ کے نوٹس کی سماعت میں حاضری کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تشریف لائے۔ تو کمرہء عدالت میں انہیں اپنی نشست پر بیٹھنے سے پہلے اعظم سواتی سے پوچھا اتنی سکیورٹی کیوں ہے؟ جس پر شاہ محمود قریشی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ لگتا ہے کہ کسی دہشت گرد نے عدالت میں آنا تھا۔

تو عمران خان مسکراتے ہوئے بولے "میں عمران خان ہوں دہشت گرد نہیں"، یہ ہوتی ہے قائدانہ صلاحیت۔ اور قائدانہ گفتگو۔ قائدین کے ایسے الفاظ تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف میں لکھے جاتے ہیں، امریکہ کے منہ پر "ایبسلوٹلی ناٹ" کے طمانچے کی گونج آج بھی دنیا میں گونج رہی ہے اور یہ دوسرا طمانچہ پی ڈی ایم کی قیادت کے منہ پر وہ زور دار طمانچہ ہے جس کی گونج تاریخ کے اوراق میں صدیوں تک گونجتی رہے گی۔

دراصل اسلام آباد کے وزیر داخلہ اسلام آباد میں ماڈل ٹاؤن کی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کا واسطہ اس عمران خان سے پڑا ہے جو آزاد اور خود مختار پاکستان کی تحریک کے لئے اپنی کشتیاں جلا چکے ہیں اور قوم نے انہیں دل سے قائد تسلیم کر لیا ہے اور پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کو بھی یہ احساس ہو گیا ہے کہ رات بارہ بجے کھلنے والی عدالت کا فیصلہ پاکستان کو مہنگا پڑا ہے اس لئے اب فیصلوں میں دور اندیشی کو ضرور سوچتے ہیں۔

عمران خان نے کسی جج کو کوئی دھمکی نہیں دی تھی بلکہ لیگل ایکشن لینے کی بات کی تھی لیکن رانا ثناءاللہ کا اپنا گریبان تو ہے نہیں لیکن وہ جانتے ہیں اس آواز کو۔ یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے، یہ نعرہ ہے مسلم لیگ ن کی دادی ماں مریم صفدر کی، عمران خان کے دور اقتدار میں پاکستان کی فضاؤں میں یہ آواز گونجتی رہی لیکن یہ آواز نا تو وردی والوں کو سنائی دی اور نہ ہی سپریم کورٹ نے کوئی نوٹس لیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے غلط نہیں کہا کہ جس وقت وردی کے خلاف یہ توہین آمیز آواز گونج رہی تھی تب خیال کیوں نہیں آیا، اب پرانے مردے اکھاڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ عمران خان کے دور اقتدار میں تو وردی والوں کے خلاف پی ڈی ایم کی ہر جماعت بول رہی تھی، رانا ثناءاللہ نے نہ صرف وردی والوں بلکہ قومی اداروں کو جوتے کی نوک پر رکھا، عمران خان کی حکومت نے اس لئے نوٹس نہیں لیا کہ اگر وردی والے اور ادارے اپنی توہین پر خاموش ہیں، وردری والوں کو اپنی توہین کا احساس نہیں تو میں کیوں بولوں۔

لیکن وردی والوں کو اپنی توہین کا احساس اس وقت ہوا جب شہباز گِل بولے، اور اس کی گرفتاری کے بعد جو توہین آمیز سلوک شہباز گِل سے روا رکھا گیا، وردی والوں، عدلیہ اور اسلام آباد پولیس نے شاید ہی کسی اور کے ساتھ ایسا انسانیت سوز سلوک کیا ہو، شہباز گِل پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے اس لئے کہ پاکستان میں قانون اقرباء پروری کے گرد گھومتا ہے، لیکن دنیا دیکھ رہی ہے۔

پاکستان کی عوام بیدار ہو چکی ہے اس لئے کہ قوم جان گئی ہے کہ باطل کے خلاف جنگ میں خاموشی کفر کے مترادف ہے پاکستانی عوام کو حق اور صداقت کا ساتھ دینے کے لئے اس قائد کے ساتھ گھروں سے باہر نکلے ہیں جو کہتا ہے میرا دیس مدینہ ثانی ہے، ہم آزاد قوم ہیں ہم کسی مغربی قوت کے غلام نہیں، ہمارا رازق وہ خدا ہے جو سب کا رازق ہے۔ مغربی قوتیں عمران خان کو دیوار سے لگانے کے لئے ہر ممکن کوشش میں ہے لیکن نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں مقیم پاکستانی اور دیگر ممالک کے مسلمان بھی عمران خان کو پاکستان کا عظیم لیڈر تسلیم کرتے ہیں۔

پاکستان میں عمران خان، ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد تیسرے بڑے سیاستدان ہیں جو نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر مقبولیت کے اعزاز سے سرفراز ہیں اس کا تازہ ترین ثبوت سیلاب زدگان کے لئے ٹیلی تھون مہم ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی سیلاب زدگان کے لیے ٹیلی تھون مہم میں ڈھائی گھنٹوں کے دوران ساڑھے 5 ارب روپے سے زائد کی رقم عطیہ دینے کے اعلانات ہوئے ہیں۔

Check Also

Farq

By Hania Irmiya