Wednesday, 24 July 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Abrar Majid
  4. Adal Ka Doobta Suraj Aur Tulu Hoti Nayi Subh

Adal Ka Doobta Suraj Aur Tulu Hoti Nayi Subh

عدل کا ڈوبتا سورج اور طلوع ہوتی نئی صبح

سپریم کورٹ کے اندر لمبے عرصے کے بعد انصاف کی ایک نئی امید کی صبح طلوع ہونے کو جارہی ہے جس کا اشارہ ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس نے، کل اپنے سپریم کورٹ کے ملازمین کے ساتھ فیئرول پارٹی میں خطاب کے دوران اپنے آپ کو ڈوبتا ہوا سورج کہہ کر دیا ہے۔ ان کی اس سے کیا مراد ہےوہ خود ہی وضاحت دے سکتے ہیں مگر ڈوبتے سورج کی لالی کی جومنظرکشی ملکی وبین الاقوامی میڈیا نے کی ہے اس میں انکی تعریف کچھ یوں ملتی ہے۔

کہیں"ون میں شو" لکھا گیا تو کہیں"گاؤن کے پیچھا چھپا ہواسیاستدان" تو کہیں"ہم خیال ججز کا سرغنہ" کہیں"متنازع ترین چیف جسٹس" تو کہیں"انصاف کے نام پر منافقت کا دور"دیکھنے کوضرور ملتا ہے۔ یہ سب وہ القابات ہیں جن میں سے اکثریت سپریم کورٹ کے معزز ججز کے ان کے بارے محسوسات اور خیالات ہیں۔

سوشل میڈیا پر چلتے نازیبا الفاظ میں ٹرینڈز تو یہاں بیان کرنے کے بھی قابل نہیں۔ اور ان تجزیوں میں اس سورج کی ان کرنوں کا بھی منظرنامہ پیش کیا گیا ہے جس نے پاکستان کے عدالتی نظام کی درجہ بندی کی تنزلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے فیصلے اور ان کے تشکیل کردہ بنچز کی کاروائی ان کے اپنے ہی خلاف گواہیاں دیتے ہوئے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ شکر ہے کہ یہ انصاف کی اندھیر نگری کا خود ساختہ چراغ گل ہوا جس کو ثاقب نثار نے جلایا جو ایک سیاسی انجنئیرنگ کا پلان تھا۔

سپریم کورٹ کا ایک ایسا دور جس میں عدالت کی آزادانہ رائے انتظامی اختیارات کے بندوبست کے زیر عتاب رہی، منتخب نمائندوں کو نا اہل کیا گیا، آئین کی متضاد تشریحات ہوئیں جنہیں ری رائٹینگ آف کانسٹیٹیوشن کہا گیا، نتیجتاً ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام کی اخیر ہوئی، عدالتوں بارے عوام میں عدم اعتماد پیدا ہوا، عدالتی ساکھ کی تباہی سےفیصلوں کی سر عام تضحیک کی گئی، قانون کی حکمرانی کا مذاق بنا، معیشت کی تباہی ہوئی، جمہوریت کو شرمساری ہوئی اور انسانی حقوق کے نام پر سیاسی مقاصد کی تکمیل کی ایک ناکام کوشش نے "ہم خیال ججز کے فیصلوں کی صورت "نظریہ ضرورت کی ایک نئی انصافی جہت سے متعارف کروایا۔

اس منظر نامے کی روشنی میں اسےانصاف کے سورج کو منہ بھسوڑتا خود ساختہ گُل ہوتا ہوا چراغ ہی کہا جاسکتا ہے۔ پاکستان بار کونسل نے ان کے آخری عشائیے کا بائیکاٹ کیا ہے اور جو اعلامیہ جاری کیا ہے اسے انکے خلاف ایک چارج شیٹ کہا جارہا ہے جس میں ان کے تمام انتظامی اختیارات سے لے کر عدالتی فیصلوں تک سے عدلیہ کو پہنچنے والے نقصانات کی نشاندہی کی گئی ہےجن میں عدلیہ کی ساکھ اختیارات کی بھینٹ چڑھتی رہی ہے۔

اگر ان کو اس بارے کوئی غلط فہمی ہے تو وہ اپنے پیش رو ان چیف جسٹسز کی حالت زار کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں جو ایک خود ساختہ قید تنہائی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک صاحب پچھلے دنوں میڈیا کے سامنے آئے تھے اور سخت سوالوں کے بعد پھر غلطی نہیں کی۔ کل ہی ایک مبینہ خبر گردش کر رہی ہے کہ ثاقب نثار امریکہ سے واپسی پر دوحہ پاکستانیوں کےقہر آمیز رویوں کا نشانہ بنے۔ اگر کسی اور نے بھی اپنی مقبولیت کو آزمانا ہے تو عوام کا سامنا کرکےایک کوشش کر دیکھئے سب پتا چل جائے گا۔

عدل کی نئی صبح کل جسٹس فائز عیسیٰ کے حلف سے منصوب کی جاسکتی ہے جس کے گواہ ان کے فیصلے اور بحثیت ایک جج کے ان کا عدالتی کنڈکٹ ہے جس کی گواہی ان کے انتہائی مخالف بھی ان کو ایک راست گو کہہ کر دے رہے ہیں۔ جہاں عدل کا معیار ہوتا ہے وہاں دشمن بھی گوای دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس نئی صبح کا آغاز کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ کی سماعت کو مقرر کرکے کر دیا گیا ہے جس بارے نئے چیف جسٹس، وکلاء برادری اورسپریم کورٹ کی اکثریتی ججز کو بہت سارے تحفظات تھے جن کا اظہار جسٹس فائز عیسیٰ اپنے سابقہ چیف جسٹس کے ساتھ بنچ میں بیٹھ کر بھی کر چکے ہیں اور انہوں نے بنچ کو احتجاجاً چھوڑتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان بنچز کی تشکیل کو جائز نہیں سمجھتے اور نہ ہی وہ اس نئے قانون کے نفاذ کے بعد سے کسی بنچ میں بیٹھے ہیں۔

اس لئے ضروری تھا کہ پہلے پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ کے خلاف درخواست پر فیصلہ ہوتا۔ لہذا اس کے لئے فل کورٹ کو تشکیل دے دیا گیا ہے اور اس پر فیصلہ ہونے کے بعد باقائدہ نئے انصاف کے دور کا آغاز اور بنچز کی تشکیل کا ایک آزادانہ اور شفاف طریقہ کار وضع ہوگا جس سے بہتری دیکھنے کو ملے گی۔

اس کے بعد کئی اور تبدیلیاں بھی متوقع ہیں جن میں سپریم کورٹ کو نئے رولز بھی بنانے پڑیں گے جن کے تحت نئے پریکٹس اینڈ پروسیجرل ایکٹ کے نفاذ کے بعد سے ادارے کی کاروائی کو چلایا جانا ہے۔ ان نئے رولز میں ہم نہ صرف بنچز کی تشکیل اور مقدمات کی تقسیم کی شفافیت کے لئے پر امید ہیں بلکہ جس طرح سے نئے چیف جسٹس اپنے خلاف ریفرنس میں کھلی عدالت کی درخواست کرتے رہے ہیں کی طرز پر میڈیا کے سامنے قومی نوعیت کے مقدمات کی کاروائی کو چلانے کے لئے رولز بنانے کی کوشش بھی کریں گے تاکہ ہر خاص و عام سپریم کورٹ کی کاروائی کو دیکھ سکے۔ ان کو ججز کے کنڈکٹ سے لے کر انصاف کے اصولوں کے لاگو ہوتے ہوئے دیکھنے کا موقع ملے۔ اس سے ججز کے کاروائیوں کے میڈیا کے زریعے سے غلط رپورٹ ہونے کے خدشات بھی دور ہوجائیں گے۔

اس کے علاوہ کئی ایسے سوالات بھی ہیں جن کا سپریم کورٹ سے عملاً جواب متوقع ہے جن میں ججز کے اثاثوں بارے معلومات ہیں جن کی نئے چیف جسٹس پہلے ہی رضاکارانہ طور پر سپریم کورٹ کے ویب سائیٹ پر اشاعت کر چکے ہیں اور پھرسپریم کورٹ کے اندر ملازمیں کی بھرتیوں بارے معلومات کے حصول کی درخواستیں دی گئیں جن پر سپریم کورٹ کی طرف سے ان معلومات کو چھپانے کے لئے ایک لمبی جنگ لڑی گئی جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے سٹے آرڈر بھی حاصل کیا گیا تھا۔

امید ہے کہ سپریم کورٹ اب ان معلومات کو دینے کا آغاز کرتے ہوئے ایک اچھی مثال قائم کرے گی تاکہ آئین و قانون کی حکمرانی کی ایک مثال قائم کی جاسکے تاکہ باقی اداروں کو بھی یہ ادراک ہو کہ عوام کو اداروں اور ان میں کام کرنے والے سرکاری ملازمیں بارے معلومات کا حصول ان کا بنیادی آئینی و قانونی حق ہے جس سے احتساب کے عمل کو آگے بڑھانے اور حکومتی امور میں شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔

جب ہم احتساب کی بات کرتے ہیں تو پھر اس عمل کو موثر بنانے کی ضرورت بھی پیش آتی ہوئی دکھائی دیتی ہے چونکہ احتساب نظام عدل کا ایک جز ہے اور ججز کا کام ہی انصاف کی فراہمی ہے تو پھر اس کا آغاز بھی یقیناًان سے ہی ہونا چاہیے۔ اور اس کے لئے ایک درخواست حنا جیلانی کی سپریم کورٹ کے اندر سماعت کی منتظر ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس کو فوراً سماعت کے لئے مقرر کیا جائے گا تاکہ یہ طے ہوسکے کہ ججز کا احتساب ہونا چاہیے یا نہیں اور اگر نہیں ہو پا رہا تو اس میں کون سی مشکلات درپیش ہیں۔

ماضی کی پریکٹس کو دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ ججز کے احتساب کا قانون تو موجود ہے مگر عملاً کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جس سے ججز پر اٹھنے والے بدعنوانی کی الزامات کا کوئی منطقی نتیجہ حاصل ہوسکا ہو۔ اب تک تو جن ججز پر اس طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں وہ استعفیٰ دے کرتمام تر مفادات کے ساتھ اپنی ریٹائرمنٹ لے لیتے ہیں اور مراعات کوانجوائے کرتے ہیں۔ سوال اٹھتا ہے کہ بدعنوانی کو ان کی ملازمت یا ریٹارئرمنٹ سے مشروط کرنے کی منطق کی کیا دلیل ہے؟ کوئی ریٹارئر منٹ لے یا ناں مگر اس کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی تحقیق کا ہونا تو ضروری ہے تاکہ احتساب کے عمل کو شفاف بناکر باقی اداروں کے احتساب کی نگرانی کے عدالتی اختیارات کوتقویت بخشی جاسکے۔

موجودہ ججز کے خلاف جو درخواستیں جوڈیشل کمیشن میں پڑی ہیں ان پر فوری کاروائی عمل میں لائی جانی چاہیے تاکہ ان ججز کے دوسرے کے بارے فیصلوں میں بیٹھنے سے پہلے ان کے اپنے خلاف الزامات کا فیصلہ ہوجائے تاکہ انصاف کی بنیادی شفافیت اور غیر جانبداری کی شرط تو پہلے پوری ہو۔

نظام انصاف کو شفاف اور غیر جانبداری بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ججز کی تعیناتیوں کے عمل کو بھی شفاف بنایا جاسکے اور سنیارٹی کے اصولوں کو اپلائی کیا جائے اور جو ججز ان اصولوں کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں ان کے بارے میں بھی کوئی ایسا فیصلہ ہونا چاہیے تاکہ انصاف کی نئی صبح کی نوید کے حقیقی ہونے پر یقین کیا جاسکے۔ ججز کی تعنیاتی اور ان کے خلاف درخواستوں کی کاروائی بھی جیسا کہ جسٹس فائز عیسیٰ اظہار کرتے رہے ہیں کیمرے کے سامنے ہونی چاہیے تاکہ عوام اس کو دیکھ سکے اور اس پرکسی قانونی قدغن کے نہ ہونے کا بھی وہ اظہار کرچکے ہیں جس کو اب عملی شکل دینے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ عدلیہ کو اب اپنے حصے کی غلطیاں تسلیم کرکے ان کا ازالہ کرنا ہوگا۔

نظام انصاف کو تیز تر بنانے کے لئے مئی 2022 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک فورم منعقدکروایا تھا جس میں مختلف سفارشات مرتب کی گئیں اور اس وقت کے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کا اس میں بہت اہم کردار تھا۔ اب وہ سپریم کورٹ میں پہنچ چکےہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ ان کی سربراہی میں ایک ایسی کمیٹی بنائی جائے جو ان سفارشات کی روشنی میں رولز کو مرتب کرکے ان پر عملدرآمد سے انصاف کے عمل کو تیز اور شفاف بنا سکے جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے فائدہ حاصل کرنے اور نظام انصاف کو جدید ٹیکنالوجی کی میسر سہولیات سے ہم آہنگ کرنا بھی شامل ہو۔

Check Also

Uske Haan Dair Hai Andher Nahi

By Zulfiqar Ahmed Cheema