Waldain Bachon Ko Zaheen Banayen In Do Games Ke Zariye
والدین بچوں کو ذہین بنائیں ان دو گیمز کے ذریعے

ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارا بچہ ذہین ہو، سمجھدار ہو، اس میں چیزوں اور لوگوں کو پرکھنے کی صلاحیت ہو۔ ذہانت وظیفہ ہے دماغ کا۔ مشکلیں دور کرنے کے لیے ہمارا دماغ جس قدر سرگرمی دکھائے گا، اس میں ذہانت اتنی ہی زیادہ آئے گی۔ دماغ کے پھلنے پھولنے کا وقت وہ ہوتا ہے، جب کسی کو کوئی مشکل صورتحال سے سابقہ پڑے۔ جیسے ہی مشکل ٹاسک یا کوئی بیریئر سامنے آتا ہے، تو دماغ اس مشکل مسئلے کا حل نکالنے کے لیے نئی نئی ترکیبیں سوچنے لگتا ہے۔
سوچنے کے اس عمل میں دماغ کی دنیا میں بہت ہلچل مچتی ہے، بہت اکھاڑ پچھاڑ ہوتی ہے۔ یہ عمل ایسے ہی ہے جیسے ٹھہرے پانی میں کوئی پتھر پھینکے اور پانی میں ایک ارتعاش پیدا ہو۔ پھر اس کی لہریں دور تک پھیلتی جائیں۔ پتھر کی طرح کا یہی کردار ان دونوں گیمز میں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے آگے جتنی رکاوٹیں گی، دماغ کو اتنی ہی تحریک ملے گی، مائنڈ اتنا ہی موٹیویٹ ہوگا۔ یہ وہ راستہ ہے جس پہ چل کے کوئی بچہ ذہین بنتا ہے۔
ویسے تو میں گیمز کے حق میں نہیں ہوں۔ اس لیے کہ اس سے ایک تو بچوں کی نظر پہ برا اثر پڑتا ہے اور دوسری وجہ وقت کا ضیاع ہے۔ وہ وقت، جو بچوں کو اپنے جسم کو بہتر بنانے کے لیے کھیل کے میدان کو دینا ہوتا ہے، جم کو دینا ہوتا ہے، نئی نئی مہارتیں سیکھنے کے لیے دینا ہوتا ہے، اپنے گھر والوں کو، بہن بھائیوں کو دینا ہوتا ہے، وہی وقت بچے گیمز کو دے رہے ہوتے ہیں۔ مگر دو گیمز میں نے ایسی تلاش کی ہیں جو ہر صورت میں والدین کو اپنے بچوں کو سکھانی چاہیے۔ کوئی زیادہ لمبی بھی نہیں ہیں۔
خاص بات ان دونوں گیمز کی یہ ہے کہ ایک تو یہ بہت دلچسپ ہیں اور دوسرے ان میں قدم قدم پہ مشکل کھڑی ہوتی ہے، جسے حل کرنے کے لیے بچے کو دماغ پہ زور دینا پڑتا ہے۔ بعض مقامات پہ پریشانی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ لگتا ہے یہ ٹاسک مکمل نہیں ہو پائے گا۔ پھر جب دماغ اپنی قوتیں بروئے کار لا کر ان دقتوں پہ قابو پاتا ہے، تو مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ جن گیمز سے بچوں کی ذہانت یقیناً بڑھے گی، وہ یہ ہیں:
1۔ ninja arashi-1
یہ گیم پلے سٹور سے آسانی سے مل جائے گی۔ یاد رہے! اس کا صرف پہلا حصہ ہی بچوں کو کھیلنے کے لیے دیا جائے۔ اس سے ہمارا مقصد حل ہو جائے گا۔ اس کا دوسرا حصہ بہت مشکل اور پیچیدگیوں سے بھرا پڑا ہے۔ خیر، یہ گیم ایڈونچر سے بھرپور ہے، جو خوبصورت گرافکس، چیلنجنگ لیولز اور آسان کنٹرولز کے ساتھ انتہائی پرلطف تجربہ فراہم کرتی ہے۔ اس کے کل 45 حصے (parts) ہیں۔
اس میں ایک بات دھیان میں رہے کہ ہیرو ڈبے توڑ کر حرف z ضرور کھائے وگرنہ گیم کے اگلے حصے کا تالا نہیں کھلے گا۔
2۔ (assassins Creed 3)
یہ گیم پلے سٹور پہ نہیں ہے۔ یہ آپ کو ملے گی گوگل سے۔ وہ بھی آسانی سے نہیں۔ ہے ایک gb سے بھی کم کی۔ یہ گیم بہت خوبصورت مناظر سے بھری پڑی ہے۔ اس میں آپ کو سرسبز و شاداب میدان ملیں گے، دلکش پہاڑ، سمندر، خوبصورت جَھرنے، دریا، ندی نالے اور چھوٹے چھوٹے جنگلی جانور ہوں گے۔ اس میں ایک مشکل مرحلہ آئے گا۔ وہ یہ کہ ہیرو ایک کھائی پار کرنا چاہتا ہے، مگر وہ ہو نہیں رہی ہوتی ہے۔ اس کے لیے ایک خاص انداز اپنانا پڑتا ہے، سکرین کو ایک خاص طرح سے چھونا ہوتا ہے۔
دوسرا مشکل مرحلہ تب آئے گا، جب ہیرو کے بحری جہاز کو ولن کا بحری جہاز ایک سنگل ڈال کر سمندر میں اونچی چٹانوں کے سامنے لاتا ہے، جو اسے آہستہ آہستہ پاش پاش کرتی جاتی ہیں۔ سنگل میں جکڑے اپنے بحری جہاز کو ہم نے بچانا ہے ایک خاص تکنیک کے ساتھ، ایک عجیب مہارت کے ذریعے۔ اس مرحلے پہ میں تو بہت پھنسا۔ پھر ایک دوست سے مدد لی۔ کھائی والے مقام پہ بھی بڑی دقت پیش آئی۔ پھر انجانے میں انگلی نے عجب انداز سے ٹچ کیا تو ہیرو سپیڈ سے بھاگتا آیا اور جب کنارے پہ پہنچا تو میں نے اڑان (ڈائی) کے نشان کو چھوا (ٹچ کیا)۔
کیا کمال کی دونوں گیمز ہیں۔ بچوں کے ساتھ بڑوں کو بھی ضرور انھیں کھیلنا چاہیے۔ اس سے آئی کیو لیول بڑھے گا۔ والدین سے گزارش ہے کہ بچوں کی ذہانت بڑھانے اور ان کا شعور اجاگر کرنے کے لیے انھیں یہ دونوں گیمز ضرور کھلائیں۔
یاد رکھیں! یہ دونوں گیمز اتنی دلچسپ اور پرکشش ہیں اور بندے کی اتنی توجہ کھینچتی ہے کہ وقت گزرنے کا احساس رہتا ہے نہ کسی ضروری کام کا پاس۔ جب میں نے اپنی ایک دوست کو یہ ویڈیو بتائی تو اس کے الفاظ ہیں کہ یار! تو نے مجھے کسی الجھن میں ڈال دیا ہے! پاس پڑا کھانا ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور میں گیم میں کھویا رہتا ہوں۔ جب کوئی یہ گیم شروع کر لے، تو پھر وہ ان کا اینڈ کرکے ہی دم لیتا ہے۔

