Thursday, 05 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Trump, Netanyahu Aur Iran: Jang Ka Khatarnak Musallas

Trump, Netanyahu Aur Iran: Jang Ka Khatarnak Musallas

ٹرمپ، نیتن یاہو اور ایران: جنگ کا خطرناک مثلث

تاریخ کبھی کبھی ایک لمحے میں اپنے آپ کو دہرا دیتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے ابتدائی دنوں میں نازی جرمنی نے سوویت یونین پر حملہ کیا تو برلن میں یقین تھا کہ چند ہفتوں میں ماسکو گھٹنے ٹیک دے گا۔ یہ ایک کلاسک miscalculation تھی۔ سردی، مزاحمت اور طویل محاذ نے وہ جنگ جرمنی کے لیے دلدل بنا دی جس سے نکلنے کی کوئی سیدھی راہ نہ رہی۔ طاقت، ٹیکنالوجی اور اعتماد اپنی جگہ، لیکن جب زمینی حقائق نظرانداز ہوں تو تاریخ بڑے غرور کو چھوٹے فیصلوں سے پاش پاش کر دیتی ہے۔

آج مشرقِ وسطیٰ میں جو منظرنامہ بنتا دکھائی دے رہا ہے، اس میں بھی کچھ ایسی ہی جھلک نظر آتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد جو صورتِ حال سامنے آئی ہے، اس نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ امریکہ اس جنگ کو شروع کرکے خود ایک مشکل دائرے میں داخل ہو چکا ہے۔ واشنگٹن میں بریفنگز کے بعد سامنے آنے والے بیانات بتاتے ہیں کہ امریکی قیادت کے پاس نہ تو اس بات کا واضح جواز موجود ہے کہ ایران پر یہ حملہ کیوں ناگزیر تھا اور نہ ہی کوئی جامع منصوبہ کہ اس جنگ کو کس طرح اور کب ختم کیا جائے۔

خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ فیصلے جذبات، دباؤ اور وقتی سیاسی فائدے کے تحت کیے گئے، نہ کہ طویل المدت حکمتِ عملی کے ساتھ۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے جنگیں پھیلنا شروع ہوتی ہیں۔ جب ایک بڑی طاقت کے پاس واضح endgame نہ ہو تو ہر اگلا قدم پہلے سے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔

ایران پر حملوں کے جواب میں خطے میں کشیدگی بڑھی اور ایران نے واضح پیغام دیا کہ وہ دفاع تک محدود نہیں رہے گا۔ اطلاعات کے مطابق خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے، جو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور قطر میں قائم ہیں، اس کشیدگی کے دائرے میں آ گئے۔ ان ممالک کی برسوں کی اس یقین دہانی کو شدید دھچکا لگا کہ کسی بھی بڑے حملے کی صورت میں امریکہ ان کی مکمل حفاظت کرے گا۔ اگر امریکہ ان حملوں کو مؤثر انداز میں روکنے میں ناکام رہتا ہے تو یہ صرف عسکری ناکامی نہیں بلکہ اعتماد کا بحران بھی ہے۔

اس ساری صورتِ حال نے ایک اور تشویشناک پہلو کو جنم دیا ہے: یہ جنگ محدود نہیں رہتی دکھائی دیتی۔ طاقت کے مراکز کے درمیان تصادم، علاقائی اتحادیوں کی شمولیت اور مسلسل بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیاں اس خدشے کو تقویت دیتی ہیں کہ دنیا ایک بڑے تصادم، یعنی تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عالمی جنگیں ہمیشہ کسی ایک واقعے سے شروع نہیں ہوتیں بلکہ غلط فیصلوں کی ایک زنجیر انہیں ناگزیر بنا دیتی ہے۔

اس منظرنامے میں ایران کا کردار غیر معمولی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل شاید اس شدت اور تسلسل کے جواب کے لیے تیار نہیں تھے جو ایران کی طرف سے سامنے آیا۔ ایران نے یہ ثابت کیا کہ اس کے پاس نہ صرف میزائلوں کی بڑی تعداد ہے بلکہ سیاسی عزم بھی موجود ہے کہ وہ دباؤ کے آگے جھکنے کے بجائے مقابلہ کرے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اندازہ واشنگٹن میں شاید کم لگایا گیا۔ طاقت کے توازن میں یہی غلط اندازے بڑے بحرانوں کو جنم دیتے ہیں۔

اب اگر نظر پاکستان کی طرف کی جائے تو تصویر اور بھی پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ پاکستان نے اب تک خود کو جس طرح اس تنازع سے الگ رکھا ہے، وہ موجودہ قیادت کی دانشمندی کا ثبوت ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں ایک غلط صف بندی دہائیوں کے مسائل پیدا کر سکتی ہے، غیر جانبداری وقتی طور پر ایک محفوظ راستہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر جانبداری طویل عرصے تک برقرار رہ سکے گی؟

اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو پاکستان پر دباؤ بڑھے گا اور یہ دباؤ محض سفارتی نہیں ہوگا۔ سعودی عرب اگر پاکستان سے عسکری مدد طلب کرتا ہے تو اسلام آباد کے لیے فیصلہ انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور معاشی تعلقات ہیں، دوسری طرف ایران کے ساتھ ایک طویل سرحد اور حساس ہمسائیگی۔ اگر پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو ایران کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کا خدشہ ہے اور یہ کشیدگی پاکستان کی سرحدوں تک پھیل سکتی ہے اور اگر پاکستان ایران کے قریب جاتا ہے تو خلیجی ممالک اور بالواسطہ امریکہ کی ناراضی مول لینا پڑ سکتی ہے۔

ایک اور پہلو جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، وہ امریکی صدر کا یہ اعلان ہے کہ ضرورت پڑنے پر ایران میں زمینی فوج داخل کی جا سکتی ہے۔ یہ بیان بذاتِ خود خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ زمینی جنگ کا مطلب ہے طویل تصادم، زیادہ جانی نقصان اور علاقائی طاقتوں کی کھلی شمولیت۔

یہاں ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے: کیا امریکہ واقعی اس جنگ کے نتائج کے لیے تیار ہے؟ افغانستان اور عراق کی مثالیں سامنے ہیں، جہاں عسکری برتری کے باوجود سیاسی اہداف حاصل نہ ہو سکے۔ ایران ایک مختلف ملک ہے، آبادی، جغرافیہ، قومی شناخت اور مزاحمتی تاریخ کے ساتھ۔

آخر میں، اس سارے بحران کو سمجھنے کے لیے ہمیں شور سے ہٹ کر خاموش اشاروں کو دیکھنا ہوگا۔ طاقت کے مظاہرے، بیانات اور فوری ردعمل اپنی جگہ، لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جنگیں وہیں رکتی ہیں جہاں عقل غالب آ جائے۔

اصل خطرہ یہ نہیں کہ یہ جنگ کہاں رکے گی، اصل خطرہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے پاگل شخص کے عجلت میں کیے گئے فیصلوں نے دنیا کو ایسی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کا پھیلاؤ کسی کے کنٹرول میں نہیں رہے گا اور اگر یہ آگ تیسری عالمی جنگ میں بدلی تو تاریخ یہ سوال ضرور پوچھے گی کہ کیا یہ تباہی کسی دشمن نے مسلط کی تھی یا ایک غیر متوازن ذہن کے فیصلوں نے پوری دنیا کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اسی ساری کشیدگی میں ایک اور پہلو بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے اور وہ ہے چین اور روس کی بظاہر خاموش لیکن گہری نظر۔ یہ خاموشی لاتعلقی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اسٹریٹجک انتظار ہے۔ چین کھل کر کسی فریق کا ساتھ دینے کے بجائے معاشی، سفارتی اور توانائی کے محاذ پر اپنے مفادات کو محفوظ بنانے میں مصروف ہے، جبکہ روس یوکرین جنگ کے تجربے کے بعد بخوبی جانتا ہے کہ امریکہ کو ایک اور طویل محاذ میں الجھانا عالمی طاقت کے توازن کو کس سمت لے جا سکتا ہے۔

دونوں طاقتیں اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اگر امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں پھنستا ہے تو عالمی نظام یک قطبی نہیں رہے گا بلکہ طاقت کا مرکز بتدریج منتقل ہونا شروع ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ چین اور روس کا یہ محتاط سکوت دراصل آنے والے بڑے طوفان سے پہلے کی خاموشی بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بڑی طاقتیں بیک وقت خاموش ہو جائیں تو دنیا اکثر کسی بڑے اور فیصلہ کن موڑ کے قریب کھڑی ہوتی ہے۔

Check Also

Ik Ishq Jo Hum Se Rooth Gaya

By Arif Anis Malik