Thursday, 05 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Javeria Aslam
  4. Dil, Daleel Aur Zimmedari Ke Darmiyan Kashmakash

Dil, Daleel Aur Zimmedari Ke Darmiyan Kashmakash

دل، دلیل اور ذمہ داری کے درمیان کشمکش‎

کبھی کبھی انسان کسی محفل میں بیٹھا ہوتا ہے مگر اسے محسوس ہوتا ہے کہ اصل کہانی الفاظ کے درمیان نہیں، لہجوں کے اندر چھپی ہوئی ہے۔ ہنسی کے پردے میں چھپا ہوا تحقیر کا زہر، مذاق کے نام پر کی جانے والی تضحیک اور محبت کے دعوؤں کے بیچ اُگتی ہوئی بے اعتنائی، یہ سب ہمارے معاشرے کی اُن خاموش دراڑوں کی نشانیاں ہیں جنہیں ہم عام سمجھ کر نظرانداز کرتے رہتے ہیں۔ ہم ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں الفاظ کی چمک نے معنی کی گہرائی کو دھندلا دیا ہے، جہاں اظہار کی کثرت ہے مگر اخلاص کی قلت ہے، جہاں تعلقات ہیں مگر تعلق کی روح کم ہوتی جا رہی ہے۔

شادی کا بندھن ہو یا دو انسانوں کے بیچ کوئی بھی اور رشتہ، اصل امتحان ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ کیا ہم دوسرے کو انسان سمجھتے ہیں یا محض اپنی ضرورت کا وسیلہ؟ کہا جاتا ہے کہ جذباتی ہم آہنگی نہیں تھی، ذہنی معیار برابر نہیں تھا، بات چیت کا لیول مختلف تھا۔ گویا شادی کوئی روحانی و اخلاقی عہد نہیں بلکہ ایک ادبی مقابلہ ہے جہاں دونوں فریقین کو ایک ہی کتاب کی فہرست یاد ہونی چاہیے۔ حالانکہ نکاح دو دلوں کا معاہدہ ہے، دو جانوں کا ایک دوسرے کے لیے سہارا بننا ہے جو لازمی کسی نہ کسی طور کمزور ہوتی ہیں، دو انسانوں کا ایک دوسرے کی کمی کو ڈھانپ لینا ہے۔ اگر معیار صرف "ذہنی ہم آہنگی" ہو، تو پھر صبر، ایثار اور ذمہ داری جیسے الفاظ لغت سے نکال دینے چاہییں۔

ہمارے معاشرے میں ایک عجیب فلسفہ جنم لے چکا ہے کہ اگر جذباتی یا ذہنی سطح پر مطابقت نہ ہو تو رشتے کی حرمت کم ہو جاتی ہے۔ حالانکہ رشتہ مطابقت سے زیادہ برداشت کا نام ہے اور محبت ہم آہنگی سے زیادہ ذمہ داری کا۔ نکاح ہو یا دوستی، یہ کتاب نہیں کہ جب تک دل بہلتا رہے گا تب تک پڑھی جائےگی پھر چھوڑ دی جائے، یہ عہد ہے کہ جب دل اُکتائے گا تب بھی نبھایا جائے گا۔ مگر ہم نے عہد کو سہولت سے تبدیل دیا ہے اور وفا کو ایک "آپشن" بنا دیا ہے۔

دکھ کی بات یہ نہیں کہ انسان کمزور ہو جاتا ہے، دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی کمزوری کو نظریہ بنا لیتا ہے۔ خواہش کو دلیل۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے سمجھنے والا کوئی اور ہے، مجھے سننے والا کوئی اور ہے، میری فکری سطح کسی اور کے ساتھ ملتی ہے۔ مگر وہ یہ نہیں سوچتا کہ کیا اُس نے کبھی اُس شخص کو سمجھنے کی کوشش کی جس سے اُس نے اللہ اور اس کے رسول کو گواہ بنا کر ساتھ نبھانے کا وعدہ کیا تھا؟ کیا اُس نے کبھی اُس کی دنیا میں جھانک کر دیکھا جس نے اُس کے نام پر اپنی دنیا بسائی تھی؟

ہماری تہذیب میں نکاح کو عبادت کہا گیا اور عبادت کا حسن نیت میں ہوتا ہے، نہ کہ محض الفاظ میں۔ قرآن کو ہاتھ میں لے کر قسم کھانا آسان ہے، مگر قرآن کی تعلیمات کو اپنے رویّے میں ڈھالنا مشکل۔ دین اگر کسی بات کی اجازت دیتا ہے، تو شرط کے ساتھ اور وہ شرط انصاف کی ہے۔ انصاف صرف ظاہری تقسیم نہیں، دلوں کی رعایت بھی ہے، جذبات کی حفاظت بھی ہے، عزتِ نفس کی پاسداری بھی ہے۔ جب انصاف ختم ہو جائے تو اجازت بھی جواز نہیں رہتی، محض پردہ بن جاتی ہے۔

سوشل میڈیا نے تعلقات کے تصور کو اور زیادہ سطحی بنا دیا ہے۔ چند سطریں، چند تعریفی جملے، چند دل کے ایموجی اور ایک دنیا آباد۔۔ ہم اکثر اُس روشنی کے پیچھے بھاگتے ہیں جس کی چمک مصنوعی ہوتی ہے اور اُس چراغ کو بھول جاتے ہیں جو برسوں سے ہمارے گھر کو روشن کر رہا ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ عورت ہے جس نے سالوں گھر بسایا، اولاد کو سنبھالا، شوہر کے نام سے اپنی پہچان جوڑی اور دوسری طرف ایک چمکتی ہوئی اسکرین کے پیچھے موجود کشش ہے جس میں ذمہ داریوں کا بوجھ نظر نہیں آتا۔ چیٹ کی دنیا میں ہر شخصیت مکمل اور حسین لگتی ہے، کیونکہ وہاں صبح کے ناشتوں کی مشقت نہیں ہوتی، بیماریوں کی راتیں نہیں ہوتیں، بچوں کی ضدیں نہیں ہوتیں، محنت نہیں لگتی۔ وہاں صرف الفاظ ہوتے ہیں اور الفاظ ہمیشہ سجے ہوئے لگتے ہیں جہاں دونوں اطراف سے کوئی بھی کسی بھی قسم کی ذمہ داری نہیں اٹھائی جا رہی ہوتی۔

مگر زندگی محض الفاظ سے نہیں چلتی۔ شادی کے بعد ہر عورت "نسخۂ خیال" سے نکل کر ایک جیتی جاگتی ذمہ داری بن جاتی ہے اور ہر مرد کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ خوابوں کے تعاقب میں بھاگے گا یا اپنے عہد کی پاسداری کرے۔ عارضی حسن اور وقتی کشش کے لیے ایک وفا اور حقوق کو داؤ پر لگا دینا صرف اخلاقی کمزوری نہیں، بلکہ روحانی دیوالیہ پن بھی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ ذہین ہے، حالانکہ وہ اپنی خواہشات کا اسیر بن چکا ہوتا ہے۔ رشتے دراصل امتحان ہوتے ہیں: انا کے، صبر کے اور دیانت کے۔ جب ایک انسان دوسرے کی عزت پر سوال اٹھاتا ہے تو عزت وہ شے ہے جو ایک بار مجروح ہو جائے تو الفاظ کے مرہم سے مکمل ٹھیک نہیں ہوتی۔

پدر شاہی معاشرے کی ایک خاموش قباحت یہ بھی ہے کہ مرد کی لغزش کو "فطرت" کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے اور عورت کے صبر کو "فرض" بنا دیا جاتا ہے۔ اگر مرد بے چین ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ اُس کی جذباتی ضرورت ہے، اگر عورت بے چین ہو جائے تو اُسے نصیحت کی جاتی ہے کہ صبر کرے۔ یہ توازن نہیں، یہ جھکاؤ ہے اور جھکاؤ جب مستقل ہو جائے تو انصاف مر جاتا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ تعلیم یافتہ ہے، کون زیادہ ادبی، یا کون زیادہ ذہانت رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسان نبھانے کا ہنر جانتا ہے؟ علم اگر کردار نہ بن سکے تو وہ غرور بن جاتا ہے۔ شاعری اگر اخلاق نہ بن سکے تو محض لفظوں کا کھیل رہ جاتی ہے اور ذہانت اگر وفاداری نہ دے سکے تو وہ محض مکاری ہے۔

ہر تعلق میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب انسان کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں: ایک خواہش کا، دوسرا ذمہ داری کا۔ خواہش کا راستہ فوری خوشی دیتا ہے، مگر دیرپا خلاء چھوڑ جاتا ہے۔ ذمہ داری کا راستہ مشکل ضرور ہوتا ہے، مگر اُس میں سکون کی جڑیں گہری ہوتی ہیں۔ ہم اکثر پہلی چمک پر فریفتہ ہو جاتے ہیں اور دیرپا سکون کی قدر اُس وقت سمجھتے ہیں جب وہ ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔

یہ المیہ کسی ایک مرد یا ایک عورت کا نہیں، یہ ہمارے اجتماعی رویّے کا آئینہ ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم رشتوں کو وقتی جذبات کی بنیاد پر جئیں گے یا اصولوں اور اللہ اور رسول کی گواہی میں کیے گئے معاہدے کی بنیاد پر۔ کیا ہم ہر اُس کشش کو حق سمجھ لیں گے جو دل میں پیدا ہو، یا اپنے عہد کو اُس کشش سے اوپر رکھیں گے؟ کیا ہم دوسرے انسان کو اُس کی کمزوریوں سمیت قبول کریں گے، یا اُسے اپنی توقعات اور وقتی جوش کے ترازو میں تولتے رہیں گے؟

آخرکار، ہر انسان کو اپنے اعمال کے ساتھ جینا مرنا ہوتا ہے۔ وقتی تعریفیں، وقتی تعلقات اور وقتی جوش وقتی ہی ہوتے ہیں۔ مگر جو دل ہم توڑتے ہیں، جو اعتماد ہم پامال کرتے ہیں اور جو وعدے ہم بھول جاتے ہیں، وہ ہماری روح کے کسی گوشے میں محفوظ رہتے ہیں۔ شاید زندگی کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ انسان سب کچھ پا لے، مگر اپنی سچائی، سکون اور رونق کھو دے۔

رشتے صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں، ساتھ نبھانے کا نام ہیں اور نبھانا اُس وقت ثابت ہوتا ہے جب دل بھٹکنے لگے، مگر قدم نہ بھٹکیں۔ یہی اصل امتحان ہے اور شاید یہی اصل انسانیت بھی۔۔

Check Also

Hockey Federation, Mohyuddin Wani Ke Rivayati Iqdamat

By Anjum Kazmi