Iran Ka Afzooda Uranium Kahan Hai?
ایران کا افزودہ یورینیم کہاں ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے بعد مذاکرات کامیاب نہ ہونے کا ایک سبب ایرانی جوہری پروگرام پر اختلافات ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ایک سوال عالمی سفارت کاری، انٹیلی جنس اداروں اور جوہری ماہرین کے لیے سب سے بڑا معمہ بن گیا ہے۔ ایران کا وہ انتہائی افزودہ یورینیم کہاں ہے جو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب پہنچ گیا تھا؟
یہ سوال صرف تکنیکی نوعیت کا نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، ایران اور مغرب کے تعلقات اور جوہری عدم پھیلاؤ کے مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے۔ گزشتہ سال ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد یہ بحث مزید شدت اختیار کرگئی کہ کیا ایران نے اپنے جوہری ذخائر پہلے ہی کسی محفوظ مقام پر منتقل کردیے تھے یا نہیں۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق جون 2025 تک ایران کے پاس تقریباً 441 کلوگرام یورینیم ایسا تھا جو 60 فیصد تک افزودہ کیا جاچکا تھا۔ جوہری ہتھیار کے لیے عموماً 90 فیصد افزودگی درکار ہوتی ہے۔ آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے خبردار کیا کہ اگر ایران کبھی اپنے پروگرام کو عسکری شکل دینے کا فیصلہ کرے تو یہ ذخیرہ کئی جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہوسکتا ہے۔
ایران کا مؤقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ لیکن مغربی ممالک اور اسرائیل اس دعوے پر شکوک کا اظہار کرتے ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب 2022 میں ایران نے بعض جوہری تنصیبات پر نصب آئی اے ای اے کے نگرانی کے آلات بند کردیے۔ اس کے بعد ایجنسی کا کہنا تھا کہ اب اسے ایران کے یورینیم ذخائر کے بارے میں درست معلومات نہیں اور مکمل یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ مواد کہاں ہے۔
اس ساری بحث کا مرکز اصفہان کا جوہری کمپلیکس بن گیا ہے۔ آئی اے ای ای کا اندازہ ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کا بڑا حصہ وہیں زیر زمین کمپلیکس میں محفوظ ہوسکتا ہے۔ گروسی کے مطابق ایجنسی کا بہترین اندازہ یہی ہے کہ جون 2025 میں جو مواد اصفہان میں موجود تھا، اس کا بڑا حصہ اب بھی وہیں ہے، اگرچہ معائنہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی مکمل تصدیق ممکن نہیں۔
اصفہان کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ وہاں جوہری تنصیبات موجود ہیں، بلکہ اس لیے بھی ہے کہ وہاں وسیع زیر زمین کمپلیکس ہے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق یہ کمپلیکس پہاڑ کے اندر اتنی گہرائی میں واقع ہے کہ امریکا کے طاقتور بنکر شکن بم بھی اسے مکمل طور پر تباہ نہیں کرسکتے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ایران نے حالیہ عرصے میں وہاں نئی حفاظتی رکاوٹیں، مٹی کے بند اور اضافی دفاعی سسٹم قائم کا ہے۔
اس بحث کو ایک نئی جہت مارچ 2026 میں اس وقت ملی جب فرانس کے اخبار لوموند اور بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس نے ایک سیٹلائٹ تصویر کا تجزیہ شائع کیا۔ یہ تصویر اسرائیلی حملوں سے چند دن پہلے 9 جون 2025 کی تھی۔ اس میں ایک بھاری ٹرک اصفہان کے زیر زمین کمپلیکس کے داخلی راستے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ٹرک پر نیلے رنگ کے 18 بڑے کنٹینر لدے ہوئے تھے۔ تجزیہ نگار فرانسوا دیاز موراں کے مطابق یہ کنٹینر ممکنہ طور پر ایسے حفاظتی ڈبے تھے جو تابکار مواد کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کے حساب سے ان میں تقریباً 540 کلوگرام تک انتہائی افزودہ یورینیم منتقل کیا جاسکتا تھا، جو ایران کے اس وقت کے تقریباً پورے ذخیرے کے برابر بنتا ہے۔
لیکن یہ نتیجہ حتمی نہیں ہے۔ خود تجزیہ نگاروں نے تسلیم کیا کہ سیٹلائٹ تصویر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کنٹینروں میں واقعی افزودہ یورینیم موجود تھا۔ ان میں دوسرا حساس کیمیاوی مواد بھی ہوسکتا تھا۔ نیویارک ٹائمز نے متعدد ماہرین کے حوالے سے لکھا کہ اس تصویر کو دلچسپی سے ضرور دیکھا جارہا ہے، لیکن اس سے قطعی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
بعض دوسرے شواہد بھی اس مفروضے کو تقویت دیتے ہیں کہ ایران نے حملوں سے پہلے احتیاطی اقدامات کیے تھے۔ جون 2025 میں اسرائیل نے ایرانی جوہری اور عسکری اہداف پر حملے شروع کیے، جبکہ چند روز بعد امریکا نے نطنز، فردو اور اصفہان کی تنصیبات پر بمباری کی۔ تب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ حساس جوہری مواد پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا تھا۔ بعد میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی نے بھی اشارہ دیا کہ افزودہ مواد کو محفوظ جگہوں پر منتقل کیا جاچکا تھا۔
اس تمام صورتحال نے ایک اور سوال کو جنم دیا۔ اگر واقعی یہ مواد اصفہان میں موجود ہے تو کیا اسے وہاں سے نکالا جاسکتا ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کام غیرمعمولی طور پر پیچیدہ اور خطرناک ہوگا۔ یورینیم عموماً نسبتاً چھوٹے سلنڈروں یا کنستروں میں محفوظ کیا جاتا ہے، اس لیے اسے مختلف مقامات پر تقسیم کرنا آسان ہے۔ اگر اسے طاقت کے ذریعے قبضے میں لینے کی کوشش کی جائے تو تابکاری کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
اسی لیے سفارت کاری اب بھی سب سے اہم راستہ سمجھی جارہی ہے۔ آئی اے ای اے اور بعض عالمی طاقتیں طویل عرصے سے تجویز دے رہی ہیں کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم کسی تیسرے ملک، مثلاً روس، منتقل کردے یا اس کی افزودگی کی سطح کم کردے۔ گروسی نے تصدیق کی ہے کہ اس بارے میں روس اور دوسرے ممالک کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے۔ عالمی برادری چاہتی ہے کہ یہ مواد یا تو ایران سے باہر چلا جائے یا اس کی افزودگی اتنی کم ہو جائے کہ اسے ہتھیار سازی کے لیے استعمال نہ کیا جاسکے۔
فی الحال حقیقت یہ ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کی درست جگہ دنیا کو معلوم نہیں۔ کچھ شواہد اصفہان کی جانب اشارہ کرتے ہیں، کچھ ماہرین دوسرے خفیہ مقامات کا امکان ظاہر کرتے ہیں اور آئی اے ای اے خود بھی صرف اندازے لگاسکتی ہے۔ یہ غیر یقینی صورتحال ایران کے جوہری مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ جب تک مکمل بین الاقوامی معائنہ بحال نہیں ہوتا، ایران کے افزودہ یورینیم کا سوال مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور عالمی سلامتی کے سب سے اہم معمّوں میں سے ایک رہے گا۔

