Saturday, 18 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayesha Batool
  4. Masnoi Zahanat Ya Bachon Ki Masoomiat?

Masnoi Zahanat Ya Bachon Ki Masoomiat?

مصنوعی ذہانت یا بچوں کی معصومیت؟

انسان نے ٹیکنالوجی میں بے شمار ترقی کی ہے اور مصنوعی ذہانت (AI) بھی انہی بڑی ایجادات میں سے ایک ہے۔ اگر اس کا استعمال تعلیم، تحقیق اور انسانیت کی بھلائی کے لیے کیا جائے تو یہ ایک عظیم نعمت ہے، لیکن اگر یہی ٹیکنالوجی غلط سمت میں استعمال ہونے لگے تو اس کے نتائج خاص طور پر بچوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

آج کل سوشل میڈیا پر AI سے بنائی گئی پھلوں، سبزیوں اور دیگر کارٹون کرداروں کی ویڈیوز بہت تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ بظاہر یہ رنگین اور دلچسپ دکھائی دیتی ہیں، لیکن ان میں سے بعض ویڈیوز میں ایسے مناظر، اشارے یا رویے شامل ہوتے ہیں جو بچوں کی عمر اور ذہنی نشوونما کے لیے مناسب نہیں ہوتے۔ ہر ایسی ویڈیو نامناسب نہیں ہوتی، لیکن کچھ ویڈیوز واقعی والدین کے لیے فائدے کا باعث ہیں۔

بچہ جب ایسی ویڈیوز دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں فطری طور پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ وہ پوچھتا ہے: "یہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟"، "یہ اس کے اوپر کیوں لیٹا ہے؟"، "یہ حاملہ کیوں ہے؟" والدین اکثر اس صورتحال میں پریشان ہو جاتے ہیں کہ اتنے چھوٹے بچے کو کس انداز میں جواب دیا جائے۔

میرے اپنے گھر میں بھی ایسا ہوا۔ میری بھتیجی نے ایسی ویڈیوز دیکھ کر کئی سوال کیے۔ بعض سوالوں کا میں نے اس کی عمر کے مطابق جواب دینے کی کوشش کی، لیکن کچھ سوال ایسے بھی تھے جن کا جواب دینا میرے لیے آسان نہیں تھا۔ اس لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ اگر یہی صورتحال ہزاروں گھروں میں پیدا ہو رہی ہے تو ہمیں اس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

اصل مسئلہ مصنوعی ذہانت نہیں، بلکہ اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔ اگر یہی AI بچوں کو یہ سکھانے کے لیے استعمال کی جائے کہ پالک میں آئرن ہوتا ہے، دودھ اور دہی کیلشیم فراہم کرتے ہیں، گاجر آنکھوں کے لیے مفید ہے، سیب، کیلا، آم اور دیگر پھل جسم کو توانائی اور وٹامنز دیتے ہیں، تو بچے کھیل ہی کھیل میں صحت مند عادات بھی سیکھیں گے اور اپنی غذا سے محبت بھی کریں گے۔

والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے ہاتھ میں موبائل دینے سے پہلے یہ جانیں کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں۔ صرف وقت محدود کرنا کافی نہیں، بلکہ مواد کا انتخاب بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت، متعلقہ اداروں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ ایسے اکاؤنٹس اور چینلز جو بار بار بچوں کے لیے نامناسب مواد پھیلا رہے ہوں، ان کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر کارروائی ہونی چاہیے تاکہ بچوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول قائم کیا جا سکے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بچے صرف ہمارے گھر کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مستقبل ہیں۔ اگر آج ہم ان کی معصومیت، اخلاق اور ذہنی تربیت کی حفاظت کریں گے تو کل ایک مضبوط، باشعور اور باکردار نسل ہمارے معاشرے کی قیادت کرے گی۔ ٹیکنالوجی کا مقصد انسانیت کی خدمت ہونا چاہیے، نہ کہ بچوں کی معصومیت کو خطرے میں ڈالنا۔

میری دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ہمارے بچوں کے لیے باعث رحمت بنائیں اللہ تعالی ہم بڑوں کو ہمارے چھوٹوں کے لیے اسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا کرے اور ساتھ ہی ساتھ میں یہ بھی دعا کرتی ہوں۔

اے اللہ! ہمارے بچوں کی معصومیت، ایمان، اخلاق اور کردار کی حفاظت فرما۔ انہیں ہر ایسے علم، سوچ اور مواد سے محفوظ رکھ جو ان کے دین، ذہن اور شخصیت کے لیے نقصان دہ ہو۔ والدین، اساتذہ، معاشرے اور ذمہ دار اداروں کو صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں ٹیکنالوجی کو خیر، علم اور ہدایت کے لیے استعمال کرنے والا بنا۔ یا رب العالمین! ہماری آنے والی نسلوں کو اپنی ہدایت، رحمت اور حفاظت میں رکھ۔

Check Also

Sanday Ka Tail

By Syed Mehdi Bukhari