Thursday, 28 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayaz Khawaja
  4. Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (4)

Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (4)

ڈھلتے سورج کے تعاقب میں (4)

3 - بائیک

اسنے ایک ویٹر کو پانی کا گلاس لانے کو کہا۔ ویٹر پانی کا گلاس لایا اور اس سے چائے کا پوچھا عمر نے اسے جوس لانے کو کہا اور ایڈوانس میں پیسے بھی دے دیئے۔ وہ سڑک کنارے ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔ جہاں سے وہ ٹیکسی کو ٹھیک ہوتے ہوے بھی دیکھ سکتا تھا۔ جوس پینے کے بعد وہ ڈرائیور کے پاس آیا اور کہا کے اگر وہ کرایہ ادا کر دے تو کیا دوسری ٹیکسی لے کر جا سکتا ہے، لیکن ڈرائیور نے کہا، " نہیں، بس دس منٹ اور"۔

عمر دوبارہ بینچ پر آکر بیٹھ گیا اور اپنا اورنج جوس ختم کرنے لگا۔ اسکے بینچ کے قریب ایک بوڑھا آدمی بری طرح کھانس رہا تھا۔ جب اس نے اس شخص کی طرف دیکھا تو بوڑھے آدمی نے ہاتھ کے اشارے سے معزرت کی۔ عمر نے جواباً ہاتھ ہلا کر بتایا کے کوئی بات نہیں، سب ٹھیک ہے۔ اسکی نذر اس آدمی کے پاس ایک نیلے رنگ کے پلاسٹک کے آلے پر پڑی۔ اس نے عمر کو یاد دلا دی جو کچھ اسکے ساتھ کالج کے دنوں میں ہوا تھا۔ وہ پرانی یادوں میں کھو گیا۔

بہت سال پہلے ایک اتوار کی شام کسی نے اسکے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا، وہ بے خبر سو رہا تھا۔ پہلے تو اسے لگا کے وہ خواب دیکھ رہا ہے، لیکن جب دروازہ مسلسل بجتا رہا تو اس نے بے رخی سے پوچھا، "کیا مسئلہ ہے؟ کون ہے اس وقت؟" اگرچہ اسوقت شام کے پانچ بج رہے تھے اور چونکے وہ غلط وقت پر سو گیا تھا اسے وقت کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ باہر سے جواب آیا، "ابھی صرف پانچ بجے ہیں۔۔ کیا میں تمہاری بائسیکل ادھار لے سکتا ہوں پلیز؟" عمر نے اپنا سر اٹھایا اور چلا کر بولا، "کیا تم نے بائیسکل کہا؟ بلکل نہیں، چلے جاؤ یہاں سے" اس نے بہت زور سے آنکھیں ملتے ہوئے کہا اور دوبارہ تکیئے پر لیٹ گیا۔

اسکے بعد اسے دروازے پر کوئی آواز سنای نہ دی۔ حالانکہ وہ ابھی نیند میں تھا لیکن پھر بھی اس نے اگلی دستک کا انتظار کیا۔ جب اسے کوئی آواز نہ آئی تو وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور باہر آکر دیکھنے لگا کے پندرہ منٹ پہلے یہاں کون تھا۔ وہ تجسس میں تھا۔ اس نے میل باکس کے قریب ایک لڑکا دیکھا جس نے ہڈ والی جکیٹ پہنی ہوئی تھی، وہ اداس کھڑا تھا۔ "تم مجھے اپنی بائیک ادھار کیوں نہیں دے دیتے؟" لڑکے نے کہا۔ عمر نے جواب دیا "تم نہیں سمجھتے، پچھلی بار کوئی میری بائیک لے کر گیا، جب وہ واپس آیا تو بائیک کی سیٹ پھٹی ہوئی تھی، وہ رات کا وقت تھا میں نہیں دیکھ سکا لیکن جب صبح ہوئی تو میں نے دیکھا سیٹ بری طرح پھٹی ہوئی تھی۔ مجھے یقین ہے وہ صرف چلانے سے نہیں پھٹی تھی، اس نے کوئی چاقو یا بلیڈ سے اسے پھاڑا تھا۔ "لوگ ایسی حرکتیں کیوں کرتے ہیں"، یہ بہت بری بات ہے" اس نے چلا کر کہا۔ پھر لڑکے سے پوچھا، "ویسے تمہیں بائیک کیوں چاہئے؟"

لڑکے نے جواب دیا، مجھے میڈیکل سٹور سے ایستھما (Asthma) کی دوائی لینی ہے، جو یہاں سے 20 منٹ کی مسافت پر ہے اور میری بائیک کا ٹائر پنکچر ہوگیا ہے۔ میرے پاس اسے ٹھیک کرنے کا ٹائم نہیں ہے"۔ عمر نے لڑکے کی طرف دیکھا جیسے یقین کرنے کی کوشش کر رہا ہو کہ وہ جھوٹ تو نہیں بول رہا۔ لڑکے نے چھوٹا سا نیلے رنگ کا ایک انہیلر (Inhaler) اسے دکھایا۔ مصنوئی سانس لینے کا الہ دیکھ کر اس نے اپنی انگلی سے ہوا میں ایک دائرہ بنایا، پھر وہ اندر گیا اور بائیسکل کی چابی لے آیا۔ اسنے بائیک کا لاک کھولتے ہوے لڑکے سے کہا، میڈیکل سٹور بیس نہیں بلکے تیس منٹ کے فاصلے پر ہے، تمہے تیزی سے پیڈل چلانے ہوں گے کیونکے اتوار کو وہ سٹور جلدی بند ہو جاتا ہے۔ لڑکے کو بائیک دینے کے بعد اسنے کچھ پیسے دینے چاہے لیکن لڑکا بولا، "آاپکا بہت شکریہ، مجھے صرف آپکی بائیک چاہئے تھی"۔

اس نے بائیک لی اور نکل پڑا۔ اس نے لڑکے کی سونے کی چین ضمانت کے طور پر رکھ لی کہ وہ اسکی بائیک وقت پر اور صحیح حالت میں واپس کرے گا۔ یہ ایک کمینی حرکت تھی لیکن اس نے کی۔ لڑکا میڈیکل سٹور بند ہونے سے پہلے وہاں پہنچ گیا۔ اس نے دوائی لی بائیسکل لوٹائی اور اپنی سونے کی چین واپس لے لی۔ اس لڑکے کا نام رکی (Ricky) تھا اور اس واقعے کے بعد وہ عمر کا ایک اچھا دوست بن گیا۔ وہ اس بے خودی کی کیفیت سے باہر آیا اور اس کھانستے ہوئے بوڑھے شخص کی طرف دیکھا۔ وہ اب آرام سے چائے پی رہا تھا۔ اس نے ٹیکسی ڈرائیور کی طرف دیکھا، ٹیکسی ٹھیک ہو چکی تھی۔ وہ پچھلی سیٹ پر جا بیٹھا، ڈرائیور نے بیک مرر سے اسکی طرف دیکھا اور پھر دیش بورڈ صاف کرنے لگا۔ ٹیکسی ایک بار پھر فراٹے بھرنے لگی۔ عمر نے سونے کے لئے آنکھیں بند کر لیں۔۔

ایک گھنٹے کے بعد جیپ ایک بڑے سے قلعے نما عمارت کے سامنے رک گئی۔ ڈرائیورز نے فرح کو پکڑا اور ایک اندھیرے راستے سے ہوتے ہوے اسے جمال رحیمی کے چیمبر تک لے گئے۔ جمال رحیمی نے انہیں فرح کے ہاتھ کھولنے اور آنکھوں سے پٹی ہٹانے کو کہا۔ جب انہوں نے فرح کی آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو چند سیکنڈ تو اسے کچھ نظر نہ آیا کیونکے پچھلے ایک گھنٹے سے سختی سے اسکی آنکھیں بند کی گئیں تھیں۔ وہ انجان چہروں کے درمیان کھڑی تھی اور ایک ادھیڑ عمر کا افغانی سامنے ایک دیوان پر بیٹھا تھا۔ جب فرح اپنے آس پاس کے ماحول کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی، رحیمی کے لوگ اپنی زبان میں کچھ سرگوشی کر رہے تھے۔

ستاون سالہ رحیمی لمبا، براؤں آنکھیں، گھنگریالے بال اور چھوٹی سی داڑھی، اس نے انگور کا ایک دانہ منہ میں ڈالا اور مسکراتے ہوے اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں فرح سے پوچھا، "تو تم امریکا سے اپنے خاندان سے ملنے آئی ہو؟" فرح نے اشاروں کی زبان میں جواب دیا "ہاں، کیا میں اب جا سکتی ہوں؟" رحیمی نے اپنی بڑی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، "مجھے نہیں پتا تم اپنے اشاروں کی زبان میں کیا کہ رہی ہو، لیکن میں جانتا ہوں کہ تم اب ہے۔ جانا چاہتی ہو"۔ اسکے چاندی کے دانت کمرے میں لگے بلب کی روشنی میں چمک رہے تھے۔

اب فرح نے اپنے پرس سے کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا اور اس پر لکھنے لگی، "آپ لوگ ائیرپورٹ سے یہاں تک مجھے ایک عجیب و غریب طریقے سے لائے اس پر میں اپکا شکریہ ادا کرتی ہوں، ایک مہمان کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر لانا ایک مہذب طریقہ نہیں تھا"۔ رحیمی نے کاغذ پڑھا تو ایک عجیب انداز میں مسکراتے ہوے بولا، "اگر میں یہ طریقہ استعمال نہ کرتا تو تم کبھی مجھ سے ملنے نہ آتی"۔ اسکے چاندی کے دانت کمرے کے مرکری بلب کی روشنی میں چمکنے لگے۔ فرح نے ایسے انداز میں سر ہلایا جیسے کہ رہی ہو، "میں کچھ نہیں جانتی" اور کمرے کے ایک اندھیرے کونے کی طرف گھورنے لگی، جہاں آتشدان کی قریبی دیوار پر ایک کالے اور سفید رنگ کے عربی گھوڑے کی تصویر لگی ہوئی تھی۔

رحیمی نے دانت چباتے ہوے کہا، "ہم پھر ملیں گے" اور اپنے ایک کارندے کو اشارہ کیا کے فرح کو اسی گاڑی تک چھوڑ آئے جس میں اسے لے کر آئے تھے۔ "اور آنکھوں پر پٹی باندھنا مت بھولنا"، اس نے یاد دلایا۔ ایک چھوٹے قد کے کالے آدمی نے فرح کو پٹی باندھی اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا دیا۔ گاڑی دوبارہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئی۔۔ منزل تھی: کابل ائیرپورٹ۔۔

مسلسل تین دن فرح کی تصویر ہاتھ میں لئے، بغیر کسی کامیابی کے، اسکی امید ٹوٹنے لگی اور وہ تھکنے لگا۔ اب تک صرف ایک اچھی بات ہوئی تھی کے وہ تھوڑی بہت پشتو بولنے لگا تھا۔ پھر نیچے بازار میں "کریم جوتوں" کی دکان پر ایک اہم پیش رفت ہوئی۔ اس دکان کے باہر فٹ پاتھ پر آرام فرماتا ایک آدمی اس پیش رفت کا اہم کردار تھا۔ میں اس دکان پر فرح کے بارے میں پوچھنے گیا کہ شائد کسی نے اسے دیکھا ہو، پہلے تو دکان کے مالک نادر نے کوئی توجہ نہ دی، لیکن جب میں نے فرح کا نام لے کر تصویر دکھائی تو وہ ایک اچھل کر اپنی کرسی سے کھڑا ہوگیا۔ اگلے ہی لمحے وہ بغیر کچھ کہے دکان سے باہر تھا۔ دکان کا مالک اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا، "اے قاسم کیا تم اسے جانتے ہو؟" عمر کی آنکھوں میں بھی وہی سوال تھا، وہ آدمی جس کا نام قاسم تھا بھاگتا جا رہا تھا۔ نادر نے اسکا پیچھا کیا اور پکڑ لیا۔ اب وہ دونوں اپنا سانس برابر کر رہے تھے اور کچھ بات چیت بھی۔

عمر کو بلکل اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ نادر نے اس آدمی کا پیچھا کیوں کیا اور اب وہ کیا باتیں کر رہے تھے؟ دس منٹ کی بات چیت کے بعد نادر واپس آیا اور بتایا، "قاسم اپنی بیوی کے ذریعے سے اسے جانتا ہے"۔ یہ سنتے ہی عمر اچھل کر رہ گیا۔ "کیا وہ مجھے اس لڑکی کے گھر لے جا سکتا ہے ابھی؟" نادر نے جواب دیا، "وہ کل آئے گا تو میں اس سے کہوں گا"۔ عمر نے پھر پوچھا، "کیا آج ممکن نہیں"۔ "وہ بہت دور رہتا ہے"، نادر نے جواب دیا اور اپنی دکان میں دیوار پر لگے سینڈل صاف کرنے لگا۔۔

Check Also

Dawn Ke Ashar Rehman Se Murree Ki Sahafat Tak

By Muhammad Idrees Abbasi