Asians Logon Ke Liye Zameen Tang
ایشیائی لوگوں کے لیے زمین تنگ

آج کل دنیا میں دوسرے ملکوں میں رہنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل محسوس ہونے لگا ہے، خاص طور پر امریکہ میں اور عمومی طور پر اُن لوگوں کے لیے جن کا تعلق برصغیر پاک و ہند سے ہے، جیسے پاکستانی، انڈین، بنگلہ دیشی، سری لنکن، نیپالی، برمی، بھوٹانی وغیرہ۔ اسی طرح لاطینی امریکی (South Americans اور Latinos) کمیونٹیز کے لیے بھی کئی ممالک میں معاشی اور امیگریشن دباؤ کی وجہ سے زندگی پہلے سے زیادہ مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
اگر پانچ سال پہلے یعنی تقریباً 2019-2020 کے دور سے موازنہ کیا جائے تو اُس وقت عالمی ماحول نسبتاً زیادہ کھلا، tolerant اور multicultural سمجھا جاتا تھا، جبکہ اب سوشل میڈیا polarization، عالمی جنگوں، امیگریشن بحران، معاشی دباؤ اور سیاسی تقسیم کی وجہ سے حالات کافی تبدیل ہو چکے ہیں۔ COVID-19 کے بعد دنیا بھر میں معاشی مشکلات، layoffs، inflation، housing crisis اور job competition میں اضافہ ہوا، جس کے بعد امیگرنٹس کے بارے میں بحث اور جانچ پڑتال بھی زیادہ ہونے لگی۔ چونکہ جنوبی ایشیائی لوگ زیادہ تر براؤن کلرڈ سمجھے جاتے ہیں، اس لیے اکثر مختلف قومیتوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ان سب کے ساتھ ایک خاص قسم کا رویہ بڑھتا جا رہا ہے۔
امریکہ میں ایشیائی اور براؤن کمیونٹیز کے خلاف نفرت اور امتیازی رویوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مختلف سرویز کے مطابق بڑی تعداد میں ایشین امریکنز اور مسلمانوں نے نسلی تعصب، امتیازی سلوک یا اسلاموفوبیا کا سامنا کیا ہے۔
انڈینز کی امریکہ میں تعداد بہت زیادہ بڑھ رہی ہے اور لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ بزنسز، ٹیکنالوجی، میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں بہت آگے بڑھ رہے ہیں۔ H-1B ویزا پروگرام میں بھی انڈین پروفیشنلز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف بحث، تنقید اور بعض اوقات نفرت انگیز مواد بھی بڑھا ہے۔
سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز اور دیگر معلومات میں یہ باتیں بھی تیزی سے سامنے آ رہی ہیں کہ بعض اوقات کچھ امیگرنٹ بزنس ماحول میں فیورٹ ازم (favoritism)، بند یا محدود پروفیشنل نیٹ ورکس اور مواقع کی غیر مساوی تقسیم جیسے مسائل کے بارے میں خدشات اور الزامات اٹھائے جاتے ہیں۔ یہ بیانیے اکثر بہت زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں اور عوامی رائے کو متاثر کر سکتے ہیں، جس سے بعض اوقات وسیع تر امیگرنٹ کمیونٹیز کے بارے میں عمومی تاثر بھی بدل جاتا ہے۔ نتیجتاً ورک پلیس میں انصاف، شفافیت اور برابر مواقع کے بارے میں مسلسل بحث جاری رہتی ہے، خاص طور پر اُن صنعتوں میں جہاں نیٹ ورکنگ بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی دوران بہت سے قانون کی پابندی کرنے والے پروفیشنلز قانونی اور منظم امیگریشن اور کیریئر کے راستوں پر عمل کرتے رہتے ہیں اور جب چند محدود یا غیر تصدیق شدہ دعووں کی بنیاد پر عمومی رائے قائم کی جاتی ہے تو اس سے ان کے تجربات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح پاکستانی، بنگلہ دیشی اور مسلمان کمیونٹیز کے ساتھ الگ مسائل ہیں، خاص طور پر کیونکہ کچھ خواتین حجاب کرتی ہیں اور بعض مرد داڑھی اور ٹوپی رکھتے ہیں، اس لیے وہ آسانی سے نمایاں ہو جاتے ہیں۔ ایران، غزہ، اسرائیل اور عالمی سیاست کے بعد اسلاموفوبیا میں اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تبصرے، مذاق، ہراسانی اور بینٹر عام ہو چکے ہیں۔
آج کل ہر انسان سوشل میڈیا سے جڑا ہوا ہے۔ انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب، واٹس ایپ اور اسنیپ چیٹ پر خبریں، ویڈیوز اور رائے چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس وجہ سے ہیٹ، پراپیگنڈا اور غلط معلومات بھی تیزی سے پھیلتی ہیں۔
امیگریشن کے حوالے سے بھی ماحول کافی سخت ہو چکا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ غیر قانونی امیگریشن، ویزا اوور اسٹے، فراڈ، گھوسٹ کمپنیاں اور جعلی دعووں نے امیگریشن سسٹم کو نقصان پہنچایا ہے۔ کچھ undocumented لوگ جرائم یا اسکیمز میں بھی ملوث پائے گئے، جس کی وجہ سے پورے امیگرنٹ کمیونٹی پر شک کیا جانے لگا۔ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی اور قانون نافذ کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ نہ صرف قانون توڑتے ہیں بلکہ اُن لوگوں کی زندگی اور کیریئر کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں جو قانونی طریقے سے امیگریشن کے مشکل مراحل سے گزرتے ہیں۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اکثریت امیگرنٹس قانون کی پابندی کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ برسوں گرین کارڈ کے انتظار میں رہتے ہیں، مہنگے وکیلوں کی فیس دیتے ہیں، ویزا رینیو کرتے ہیں، نوکریوں کے دباؤ میں رہتے ہیں اور پھر کئی سال بعد جا کر شہریت حاصل کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی اپنی مشکلات، قربانیاں اور ذہنی دباؤ ہوتے ہیں جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
بہت سے سیاستدان اور سماجی رہنما اب بھی ڈائیورسٹی، امیگرنٹس کے حقوق اور نرم امیگریشن پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ امیگرنٹس امریکی معیشت کا اہم حصہ ہیں۔ وہ workforce بھی ہیں اور consumers بھی۔ ٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر، ٹرانسپورٹ، ریسرچ، تعلیم اور بزنس جیسے شعبوں میں امیگرنٹس کا کردار بہت اہم مانا جاتا ہے۔
امریکہ اور کینیڈا میں کئی ڈیموکریٹ سیاستدان اور پروگریسو لیڈرز یہ بات کرتے ہیں کہ ملک کی ترقی صرف بارڈرز سخت کرنے سے نہیں بلکہ ایک balanced اور humane امیگریشن سسٹم سے ممکن ہے۔ کینیڈا میں Justin Trudeau کی حکومت کو اکثر multiculturalism اور diversity کے حوالے سے مثال کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح امریکہ میں Bernie Sanders، Alexandria Ocasio-Cortez اور دیگر progressive رہنما امیگرنٹس کے لیے نسبتاً نرم پالیسیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
دوسری طرف کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر امیگریشن سسٹم میں نظم و ضبط نہ ہو تو housing، jobs، healthcare اور public services پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں اب debate یہ بن چکی ہے کہ کس طرح ایک ایسا نظام بنایا جائے جس میں قانون بھی برقرار رہے، سیکیورٹی بھی قائم رہے اور ساتھ ہی قانونی اور محنتی امیگرنٹس کے ساتھ انصاف بھی ہو۔
یہ تمام عوامل، سوشل میڈیا، عالمی سیاست، امیگریشن پالیسیاں، معاشی دباؤ اور چند منفی واقعات، مل کر ایک ایسا ماحول بنا رہے ہیں جس میں براؤن، مسلم، جنوبی ایشیائی اور امیگرنٹ کمیونٹیز خود کو زیادہ دباؤ، نگرانی اور غیر یقینی صورتحال میں محسوس کرتی ہیں۔ مستقبل میں شاید ایسی قیادت سامنے آئے جو دوبارہ ڈائیورسٹی، سوشل ہارمنی اور balanced immigration reform کو ترجیح دے تاکہ لوگ سکون اور اعتماد کے ساتھ اپنی زندگیاں گزار سکیں۔

