Thursday, 29 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Atiq Chaudhary
  4. Jis Ki Lathi, Uss Ka World Order

Jis Ki Lathi, Uss Ka World Order

جس کی لاٹھی، اس کا ورلڈ آرڈر

تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جب بھی کوئی عظیم طاقت اپنے زوال کے خوف میں مبتلا ہوتی ہے یا اپنی برتری کو چیلنج ہوتے دیکھتی ہے تو وہ بین الاقوامی قوانین کی قبا اتار پھینکتی ہے اور "قانونِ قوت" (Law of Might) کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتی ہے۔ 3 جنوری 2026ء کی صبح جب دنیا نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری اور امریکی فورسز کی ایک خودمختار ریاست میں مداخلت کی خبر سنی تو یہ محض ایک حکومت کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ بیسویں صدی کے منرو ڈاکٹرائن کی اکیسویں صدی میں خون آشام واپسی کا اعلان تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس جس میں انہوں نے ایک منتخب صدر کو ہتھکڑیاں لگا کر نیویارک لانے کا فخریہ اعلان کیا، اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر اس آخری کیل کے مترادف ہے جو عالمی نظم و ضبط کے تابوت میں ٹھونکی جا رہی ہے۔ منرو ڈاکٹرائن کی واپسی اور قانونِ قوت، تھوسی ڈائیڈزنے اپنی شہرہ آفاق تصنیف "تاریخِ جنگِ پیلوپونیشین" میں ڈھائی ہزار سال قبل ایک ہولناک سچائی بیان کی تھی کہ طاقتور وہ کرتا ہے جو وہ کر سکتا ہےاور کمزور وہ سہتا ہے جو اسے سہنا پڑتا ہے۔ آج وینزویلا کا واقعہ اسی قدیم فلسفے کی جدید بازگشت ہے۔

صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اب منرو ڈاکٹرائن محض ایک تاریخی اصطلاح نہیں بلکہ امریکی خارجہ پالیسی کا عملی ستون ہے۔ ان کا یہ بیان کہ مغربی نصف کرہ پر امریکی تسلط پر دوبارہ کوئی سوال نہیں کیا جائے گا، عالمی سیاست میں خودمختاری کے تصور کو ملیا میٹ کر دیتا ہے۔ جب ایک سپر پاور یہ اعلان کرے کہ وہ کسی دوسرے ملک کو اس وقت تک چلائے گی جب تک وہاں منصفانہ منتقلی نہیں ہو جاتی تو بین الاقوامی قانون کی اخلاقی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ تیل سے معدنیات تک ونزویلا کا جرم اس کی جغرافیائی حیثیت اور تیل کے وسیع ذخائر ہیں۔

سیموئل ہنٹی گٹن نے اپنی کتاب "The Clash of Civilizations" میں تہذیبوں کے ٹکراؤ کا ذکر کیا تھا لیکن آج ہم "وسائل کے ٹکراؤ" کے عہد میں جی رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی کہ ان کی نظریں وینزویلا کی معدنی دولت پر ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ کہ امریکی کمپنیوں کو لوٹا گیا اور اب وہ یہ دولت نکال کر امریکہ کو معاوضہ دیں گے، کلاسک سامراجیت کی بدترین مثال ہے۔ یہ صرف وینزویلا تک محدود نہیں، گرین لینڈ کی برف پگھلنے سے وہاں کے معدنیات تک رسائی کی امریکی خواہش اور ڈنمارک پر دباؤ ظاہر کرتا ہے کہ اب شمالی قطب سے لے کر جنوبی امریکہ تک، قدرتی وسائل پر قبضے کی ایک نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔

عالمی ردعمل اور خطرناک نظائر امریکی کارروائی نے جہاں لاطینی امریکہ میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، وہیں عالمی سطح پر ایک خطرناک مثال قائم کر دی ہے۔ سینیٹر مارک وارنر کا یہ خدشہ حقیقت پسندانہ ہے کہ اگر امریکہ غیر ملکی رہنماؤں کو اغوا کرنے لگے گا تو چین تائیوان کی قیادت اور روس یوکرینی صدر کے خلاف اسی اختیار کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ جب واشنگٹن پوسٹ یہ خبر دیتا ہے کہ پینٹاگون اپنے وسائل مشرقِ وسطیٰ سے نکال کر مغربی کرے کی جانب منتقل کر رہا ہے تو یہ دراصل تھوسی ڈائیڈز کے اسی جال کی عکاسی ہے جس کا ذکر گراہم ایلیسن نے اپنی کتاب "Destined for War" میں کیا تھا۔

امریکہ اپنے بیک یارڈکو چین کی معاشی رسائی سے پاک کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے، جو کہ ایک براہِ راست عالمی تصادم کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک اسٹریٹجک امتحان بھی ہے اور بہت سارے مواقع بھی فراہم کرتی ہے کہ پاکستان اپنے کارڈز کو کیسے استعمال کرکے فوائد سمیٹ سکتا ہے اور ممکنہ چیلنجز کا ابھی سے ادراک کرکے اس سے بچاءو کی حکمت عملی بنا سکتا ہے۔

سٹیفن کوہن نے اپنی کتاب "The Idea of Pakistan" میں پاکستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت کا ذکر کیا تھا۔ آج جب امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے نکل رہا ہے، تو خطے میں پیدا ہونے والا پاور ویکیوم خطے میں مختلف چیلنجز پیدا کررہا ہے۔ پاکستان کے برادار اسلامی ملک ایران کے ساتھ امریکہ کے کشیدہ تعلقات اور وہاں پر عوامی احتجاج کو لے کر صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات بھی مستقبل کے چیلنجز کی طرف اشارہ دے رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں یمن کی صورتحال کو لیکر دو برادار اسلامی ملکوں سعودی عرب اور یواے ای میں کشیدگی بھی مشرق وسطی کے تناظر میں اہم ہے۔ غزہ امن معاہدے کے بعد غزہ میں امن فورس میں پاکستان کا کردار بھی بین الاقوامی کوارٹرز میں زیر بحث ہے۔ پاکستان کو ایک طرف افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات کا سامنا ہے تو دوسری طرف چین کے ساتھ سی پیک کے تحفظ کا چیلنج۔ اگر امریکہ اور چین کے درمیان وسائل کی یہ جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو پاکستان کے لیے غیر جانبداری برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نئے عالمی نظام میں کمزوروں کے لیے صرف ہمدردی کے الفاظ ہوتے ہیں عملی تحفظ نہیں۔ میڈیا کا کردار اور شاک ڈاکٹرائن صدر ٹرمپ کی پریس کانفرنس اور اس میں صحافیوں کے سطحی سوالات یہ ثابت کرتے ہیں کہ عالمی میڈیا اب ریاستوں کے بیانیے کا غلام بن چکا ہے۔ نومی کلائن نے اپنی کتاب "The Shock Doctrine" میں واضح کیا تھا کہ طاقتور ممالک بحرانوں کا فائدہ اٹھا کر کس طرح دوسرے ممالک پر اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں۔

آج وینزویلا میں ڈرگز کا بہانہ بنا کر جو کچھ کیا گیا وہ اسی شاک ڈاکٹرائن کا حصہ ہے۔ کولمبیا کے صدر کو دھمکیاں اور میکسیکو پر دباؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب سفارت کاری کی جگہ صریح دھونس نے لے لی ہے۔ دنیا آج پھر وہیں کھڑی ہے جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول رائج ہے۔ وینزویلا میں جو کچھ ہوا وہ محض ایک ملک کی کہانی نہیں بلکہ ہر اس قوم کے لیے وارننگ ہے جو اپنی خود مختاری پر سودے بازی نہیں کرنا چاہتی۔ جب طاقت اخلاق کا لبادہ اوڑھ کر تباہی پھیلاتی ہے تو پیچھے صرف کھنڈرات باقی رہ جاتے ہیں۔

پاکستان کو اس بدلتے ہوئے ورلڈ آرڈر میں اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے داخلی استحکام اور ایک ایسی خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جو کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے کے بجائے اپنے مفادات کا دفاع کر سکے۔ اگر ہم نے اب بھی ماضی کی طرح محض ڈنگ ٹپاو پالیسی بناکر جینے کی کوشش کی تو نئے عالمی منظرنامے میں ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے، کیا ہم اس بار سبق سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟

Check Also

Berozgar Beta

By Azhar Hussain Bhatti