Saturday, 14 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Quran: Insan Ki Fitrat Se Ham Kalam Kitab

Quran: Insan Ki Fitrat Se Ham Kalam Kitab

قرآن: انسان کی فطرت سے ہم کلام کتاب

قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ یہ وہ واحد الہامی کتاب ہے جو اپنے اصل متن کے ساتھ قیامت تک کے لیے محفوظ کر دی گئی ہے۔ اگرچہ یہ عربی زبان میں نازل ہوئی، مگر ترجموں کے ذریعے ان تمام انسانوں کے لیے قابلِ فہم بنا دی گئی ہے جو عربی زبان سے واقف نہیں۔ یہ بات درست ہے کہ کوئی بھی ترجمہ اصل متن کا نعم البدل نہیں ہو سکتا، لیکن اس کے باوجود ترجمے ایک نہایت اہم اور بنیادی مقصد پورا کرتے ہیں۔ اللہ کے کلام کو عربی بولنے والی اقوام سے آگے، پوری انسانیت تک پہنچانا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں، ثقافتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے افراد قرآن کے پیغام سے روشناس ہو رہے ہیں اور اس سے رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔ قرآن کا پیغام کسی ایک نسل، قوم یا زبان کے لیے محدود نہیں، بلکہ یہ پوری نوعِ انسان کے لیے ہے اور ترجمے اسی عالمگیر دعوت کے سفیر ہیں۔

ظاہری طور پر قرآن عربی زبان میں ہے، مگر حقیقت میں یہ فطرت کی زبان میں ہے۔ یعنی وہ زبان جس میں اللہ نے تخلیق کے وقت براہِ راست تمام انسانوں سے خطاب کیا۔ یہ وہ ازلی خطاب ہے جو انسانی شعور کی گہرائیوں میں محفوظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن عالمگیر طور پر قابلِ فہم ہے، کسی کے لیے شعوری سطح پر اور کسی کے لیے لاشعوری سطح پر۔ قرآن خود اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے کہ یہ "واضح آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنہیں علم دیا گیا" اور پھر فرمایا کہ "ہماری آیات کا انکار صرف ظالم ہی کرتے ہیں "۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ الٰہی حقیقت جسے قرآن شعوری سطح پر بیان کرتا ہے، وہ انسان کے اندر پہلے سے، لاشعور کی سطح پر موجود ہے۔ قرآن کوئی اجنبی پیغام نہیں لاتا، بلکہ وہ اس حقیقت کو لفظوں میں ڈھالتا ہے جو انسان کی اپنی فطرت کے عین مطابق ہے اور جس سے وہ اندرونی طور پر پہلے ہی مانوس ہے۔

قرآن یہ واضح کرتا ہے کہ اللہ کا پیغام انسان کے لیے نیا نہیں، بلکہ ایک یاد دہانی ہے۔ انسان کی تخلیق کے آغاز ہی میں اللہ نے تمام انسانی ارواح سے براہِ راست مکالمہ فرمایا تھا۔ قرآن کے مطابق، حضرت آدمؑ کی تخلیق کے وقت ان کی نسلوں کو ان کی پشتوں سے نکالا گیا اور ان سب سے یہ سوال کیا گیا: "کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟" اور سب نے جواب دیا: "کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں۔ " یہ گواہی اس لیے لی گئی تاکہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم اس حقیقت سے بے خبر تھے۔ اس آیت سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ توحید اور ربوبیت کا شعور انسان کے وجود میں ودیعت کر دیا گیا ہے۔ یہ کوئی بیرونی نظریہ نہیں، بلکہ انسان کی اپنی داخلی ساخت کا حصہ ہے۔

اسی سلسلے کو قرآن ایک اور مقام پر مزید وضاحت سے بیان کرتا ہے، جہاں آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے "امانت" پیش کیے جانے کا ذکر ہے۔ یہ سب اس امانت کو اٹھانے سے گھبرا گئے، مگر انسان نے اسے قبول کر لیا، اگرچہ وہ اکثر اوقات اس ذمہ داری کے بوجھ کو سمجھ نہ سکا اور ناانصافی اور نادانی کا مظاہرہ کرتا رہا۔ یہ امانت دراصل شعور، ارادہ، اخلاقی ذمہ داری اور اللہ کی معرفت کی صلاحیت ہے۔ قرآن انسان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ محض مٹی کا پُتلا نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری کا حامل وجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن انسان سے ایسے خطاب کرتا ہے جیسے وہ پہلے ہی اس پیغام کو جانتا ہو، بس اسے بھلا بیٹھا ہو۔

اسی تناظر میں یہ بات نہایت اہم ہو جاتی ہے کہ قرآن انسان کے لیے ایک بالکل اجنبی کتاب نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت کا انکشاف ہے جو اس کے اندر پہلے سے موجود ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ قرآن دراصل انسانی ذہن اور انسانی فطرت کا انکشاف ہے۔ جب کوئی ایسا شخص، جس کی فطرت زندہ ہو اور جو بعد کی مصنوعی شرط بندیوں، تعصبات اور ذہنی آلودگیوں سے کسی حد تک آزاد ہو، قرآن کو پڑھتا ہے تو اس کے اندر وہی خلیے متحرک ہو جاتے ہیں جہاں اللہ کا پہلا خطاب محفوظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ قرآن کو پہلی بار پڑھتے ہوئے بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ باتیں نئی نہیں، بلکہ جانی پہچانی سی ہیں، جیسے کوئی بھولی بسری حقیقت دوبارہ یاد آ گئی ہو۔

اگر اس نکتے کو ذہن میں رکھا جائے تو قرآن کے ترجمے کی اہمیت اور افادیت کو سمجھنا مشکل نہیں رہتا۔ اگر اللہ کا پہلا خطاب "پہلا عہد" تھا تو قرآن "دوسرا عہد" ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ پہلا عہد انسان کی فطرت میں ثبت ہے اور دوسرا عہد الفاظ کی صورت میں اس کے سامنے رکھا گیا ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص عربی زبان سے واقف نہیں اور قرآن کو صرف ترجمے کے ذریعے پڑھ سکتا ہے تو اسے یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ قرآن کے فہم سے محروم رہ جائے گا۔ قرآن کا تصورِ انسان یہ ہے کہ انسان بذاتِ خود اللہ کے کلام کا فطری مخاطب ہے۔ جدید دور میں جینیاتی کوڈ کی دریافت اور بشریات کی تحقیقات بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہیں کہ انسان کے اندر معلومات اور یادداشت کی حیران کن صلاحیتیں موجود ہیں، جو محض سیکھنے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی تخلیقی ساخت کا حصہ ہیں۔ اس پس منظر میں قرآن کا ترجمہ محض ایک سہولت نہیں، بلکہ ایک معتبر اور بامعنی ذریعہ ہے، جو انسان کو اس کی اپنی فطرت سے دوبارہ ہم کلام ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

Check Also

Bangladesh Ka Faisla

By Hameed Ullah Bhatti