Ye Hai Mumlikat e Khudadad Pakistan
یہ ہے مملکت خداداد پاکستان

دنیا کے بڑے بڑے مؤقر جریدوں نے آج پاکستان کے بارے میں جو قصیدے لکھے ہیں وہ اکھنڈ بھارت کے منہ پر طمانچوں کی صورت میں پڑے ہیں۔
"واشنگٹن پوسٹ" نے لکھا کہ ٹرمپ نے حملہ روکنے کا فیصلہ پاکستانی اپیل کے بعد کیا۔
"رائٹر" نے، جنگ بندی کو پاکستان کی mediation کا نتیجہ بتایا۔
"The New York Times" پاکستان کو ایک backchannel mediator کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کو محض ایک جغرافیائی ریاست سمجھنا اس کی اصل روح سے ناانصافی ہے۔ یہ ملک ایک نظریے، ایک عقیدے اور ایک خاص مقصد کے تحت وجود میں آیا۔ تاریخ کے مختلف پہلوؤں پر نظر ڈالیں تو کئی ایسے حیران کن حقائق سامنے آتے ہیں جو انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ کیا واقعی یہ سب محض اتفاقات کا سلسلہ ہے، یا اس کے پیچھے ایک بڑی حکمت اور مشیت کارفرما ہے۔
برصغیر کے مسلمانوں نے جب ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا تو دنیا کے بڑے بڑے تجزیہ کار اس کو ایک ناممکن خواب سمجھتے تھے۔ لیکن 27 رمضان المبارک، جو نزولِ قرآن کا بابرکت دن ہے اور جمعۃ المبارک جیسے مقدس دن پر پاکستان کا قیام عمل میں آنا ایک غیر معمولی امر ہے۔ ایک ایسا دن جو روحانیت، برکت اور ہدایت کی علامت ہے، اسی دن ایک اسلامی ریاست کا وجود میں آنا محض حادثہ نہیں لگتا بلکہ ایک خاص ترتیب کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔
مزید غور کریں تو بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کا نام بھی ایک خاص معنویت رکھتا ہے۔ "محمد علی" ایک ایسا نام جو اسلامی تاریخ اور روحانیت سے جڑا ہوا ہے۔ اسی طرح 1947 کا سال، جس میں پاکستان وجود میں آیا، قرآن پاک کی سورۃ محمد کا نمبر بھی 47 ہے۔ یہ ہم آہنگی بہت سے لوگوں کے نزدیک محض اتفاق ہو سکتی ہے، لیکن ایک مومن کے لیے یہ غور و فکر کا مقام ہے۔
اسی طرح پاکستان کا بین الاقوامی ڈائلنگ کوڈ 92 ہے۔ یہ کوڈ عالمی اداروں کے ذریعے طے ہوتا ہے، کسی ملک کی اپنی مرضی سے نہیں۔ اگر علمِ ابجد کے مطابق دیکھا جائے تو لفظ "محمد" کا عددی مجموعہ بھی 92 بنتا ہے۔ یہ مماثلت بھی ایک گہرا اشارہ محسوس ہوتی ہے کہ اس سرزمین کا تعلق محض جغرافیہ سے نہیں بلکہ ایک روحانی نسبت سے بھی ہے۔
ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی آزادی کی تاریخ 14 اگست اور بانیٔ پاکستان کی پیدائش 25 دسمبر ہے۔ حیرت انگیز طور پر، کسی بھی سال کے کیلنڈر میں یہ دونوں تاریخیں ایک ہی دن پر آتی ہیں۔ یہ ریاضیاتی ہم آہنگی بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تاریخ کے کچھ پہلو محض اتفاقات نہیں بلکہ ایک خاص ترتیب کے تحت ہوتے ہیں۔
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر، کے سلسلے سے پیدا ہونے والے اہلبیت کے ایک شخصیت، غلام مرتضیٰ سید جسے دنیا جی ایم سید کے نام سے جانتی ہے، جسے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ بر صغیر کی تاریخ کے پہلی شخصیت بنی جس نے 1943 میں سندھ اسمبلی میں پاکستان کے حق میں قرارداد پیش کی اور اس طرح، سندھ پہلی صوبائی اسمبلی بنی جس نے پاکستان کے قیام کی حمایت کی۔ کیا یہ بھی اتفاق تھا۔
پاکستان کو دنیا میں ایک منفرد مقام اس وقت حاصل ہوا جب یہ اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بنا۔ ایک ایسا کارنامہ جس نے نہ صرف پاکستان کو دفاعی طور پر مضبوط کیا بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک نئی امید بھی پیدا کی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے اپنے آئین اور قوانین میں اسلامی اصولوں کو نمایاں مقام دیا اور توہینِ مذہب کے حوالے سے سخت قوانین نافذ کیے، جو اس کے نظریاتی تشخص کی عکاسی کرتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا کردار کئی مواقع پر اہم رہا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق مختلف مواقع پر پاکستان نے ثالثی اور امن کے قیام میں کردار ادا کیا۔ یہ پہلو بھی اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستان کو دنیا میں ایک خاص ذمہ داری کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
ایک مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو یہ ہے کہ کائنات میں کوئی بھی چیز اللہ کے حکم کے بغیر نہیں ہوتی۔ ایک پتے کا ہلنا بھی اسی کی مشیت سے مشروط ہے، تو پھر ایک ملک کا قیام، اس کی تاریخ، اس کے نام، اس کے اعداد و شمار اور اس کی عالمی حیثیت کو محض اتفاقات کا مجموعہ قرار دینا شاید حقیقت کا مکمل ادراک نہیں۔
پاکستان کو "مملکتِ خداداد" کہنا محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عقیدہ ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جس کے بارے میں بہت سے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ اسے ایک خاص مقصد کے لیے وجود میں لایا گیا۔ یہ مقصد صرف اپنے عوام کی فلاح نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک مثال اور رہنمائی فراہم کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ چاہے کوئی ان تمام حقائق کو اتفاق سمجھے یا ایک الٰہی منصوبہ، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان ایک غیر معمولی ریاست ہے۔ اس کی بنیادیں، اس کی تاریخ اور اس کا سفر عام ممالک سے مختلف ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اسے "مملکتِ خداداد پاکستان" کہا جاتا ہے۔

