Saturday, 27 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ali Abbas Kazmi
  4. Karbala Khatam Nahi Hui

Karbala Khatam Nahi Hui

کربلا ختم نہیں ہوئی

بعض دن تاریخ کے اوراق پر نہیں اترتے، بلکہ انسان کے ضمیر پر نقش ہو جاتے ہیں۔ وہ صدیوں کے فاصلے طے کرکے ہر نسل کے دروازے پر دستک دیتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تم نے حق، سچائی اور انسانیت کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ یومِ عاشورہ بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔ محرم کی دسویں صبح جب افق پر سورج طلوع ہوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صحرائے کربلا کی ریت آج بھی گرم ہے، فرات کا کنارا آج بھی تشنہ لبوں کی گواہی دے رہا ہے اور تاریخ کے سینے سے ایک آواز آج بھی بلند ہو رہی ہے جو انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلاتی ہے۔ یہ صرف ایک دن نہیں، ایک احساس ہے۔۔ صرف ایک واقعہ نہیں، ایک آئینہ ہے اور صرف ایک یاد نہیں، بلکہ انسانیت کے ضمیر میں گونجتی ہوئی ایک لازوال صدا ہے۔

کربلا کی داستان کو اگر صرف ماضی کا ایک باب سمجھ لیا جائے تو شاید ہم اس کی حقیقت تک کبھی نہ پہنچ سکیں۔ کیونکہ کربلا تلواروں کی جنگ سے کہیں بڑھ کر اقدار کی جنگ تھی۔ ایک طرف اقتدار کی قوت تھی اور دوسری طرف حضرت امام حسینؑ کا وہ استقامت بھرا کردار، جس نے دنیا کو یہ سکھایا کہ حق کی عظمت تعداد، لشکر اور وسائل سے نہیں ناپی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ عاشورہ ایک دن، ایک پیغام اور ایک انقلاب بن کر زمانوں سے سفر کر رہا ہے۔ کربلا سے اٹھنے والی صدا آج بھی زندہ ہے، کیونکہ یہ کسی ایک عہد کے انسان سے نہیں بلکہ ہر دور کے ضمیر سے مخاطب ہے۔ یومِ عاشورہ دراصل انسانیت کا امتحان بھی ہے۔ ہر زمانے میں انسان کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ طاقت کے ساتھ کھڑا ہوگا یا حق کے ساتھ۔ تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ اکثر لوگ طاقت کو حق سمجھ لیتے ہیں اور حق کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ کربلا اسی انسانی کمزوری کو بے نقاب کرتی ہے۔ حضرت امام حسینؑ نے یہ ثابت کیا کہ سچائی کی طاقت تعداد، وسائل اور اقتدار کی محتاج نہیں ہوتی۔

آج جب ہم اپنے گردوپیش پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہر دور کا یزید اور ہر زمانے کا حسین موجود ہے۔ یزید صرف ایک تاریخی شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک رویے، ایک سوچ اور ایک ذہنیت کی علامت ہے۔ جب طاقت انصاف پر غالب آنے لگے، جب سچ بولنا جرم بن جائے، جب ضمیر بکنے لگیں، جب کمزور کی آواز دبائی جائے اور جب انسان اپنے مفاد کے لیے اصولوں کا سودا کرنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ یزیدی فکر کسی نہ کسی شکل میں زندہ ہے۔ اسی طرح جہاں کوئی شخص حق کے لیے تنہا کھڑا ہو، ظلم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرے اور نقصان اٹھا کر بھی سچ کا ساتھ دے، وہاں حسینی فکر کی روشنی موجود ہوتی ہے۔

عاشورہ کا ایک بڑا سبق آزادیٔ ضمیر بھی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں بہت کم مثالیں ایسی ملتی ہیں جہاں ایک انسان اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے ساتھیوں کی قربانی دے کر یہ اعلان کرے کہ ضمیر کو زنجیروں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت امام حسینؑ نے دراصل انسان کو اس کے باطن کی آزادی واپس دی۔ انہوں نے بتایا کہ انسان صرف جسم کا نام نہیں، وہ ایک فکر، ایک اصول اور ایک کردار کا نام بھی ہے۔ اگر انسان اپنے ضمیر کی آزادی کھو دے تو اس کی ظاہری زندگی باقی رہتی ہے مگر اس کی روح مر جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عاشورہ خاموشی کے خلاف ایک عظیم احتجاج بھی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ظلم صرف ظالم کے ہاتھوں نہیں پھیلتا بلکہ اکثر اوقات خاموش لوگوں کی بے حسی بھی اسے طاقت دیتی ہے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ غیر جانبداری ہمیشہ انصاف نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموش رہنا بھی ظلم کے ساتھ کھڑے ہونے کے مترادف بن جاتا ہے۔ حضرت امام حسینؑ نے اپنے عمل سے واضح کیا کہ جب حق اور باطل آمنے سامنے ہوں تو خاموشی کوئی قابلِ فخر مقام نہیں رہتی۔

ہم اکثر سچ بولنے کے فوائد بیان کرتے ہیں مگر اس کی قیمت کا ذکر کم کرتے ہیں۔ کربلا بتاتی ہے کہ سچائی کبھی کبھی تنہائی، محرومی، مخالفت اور قربانی کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جو قومیں سچائی کی قیمت ادا نہیں کرتیں، وہ جھوٹ کی غلامی میں چلی جاتی ہیں۔ حضرت امام حسینؑ نے اپنا سب کچھ قربان کرکے آنے والی نسلوں کو یہ سرمایہ دیا کہ حق کا راستہ اگرچہ دشوار ہے، مگر یہی انسان کو عزت عطا کرتا ہے۔

آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہے کہ ہم نے شعور کی جگہ رسم کو اہمیت دینا شروع کر دی ہے۔ عاشورہ کے حوالے سے بھی یہی خطرہ موجود ہے۔ اگر یہ دن صرف جلوسوں، مجالس اور ظاہری رسومات تک محدود ہو جائے اور اس کے فکری و اخلاقی پیغام کو نظر انداز کر دیا جائے توہم کربلا کے حقیقی پیغام سے کٹ جائیں گے۔ عاشورہ رسم سے شعور تک کے سفر کا نام ہے۔ یہ انسان کے اندر سوال پیدا کرتا ہے کہ وہ کس کے ساتھ کھڑا ہے، اس کے فیصلوں کی بنیاد کیا ہے اور اس کی زندگی میں حق کی حیثیت کتنی ہے۔ ہم انصاف چاہتے ہیں مگر انصاف کے لیے قربانی نہیں دینا چاہتے۔ ہم سچائی کی تعریف کرتے ہیں مگر سچ بولنے والے کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم ظلم کی مذمت کرتے ہیں مگر اپنے مفادات کے لیے ظالموں سے سمجھوتہ بھی کر لیتے ہیں۔ یہی وہ تضادات ہیں جن پر کربلا آج بھی سوال اٹھاتی ہے۔

عاشورہ ہمیں صرف ماضی نہیں دکھاتا بلکہ ہمارا حال بھی ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ کربلا سے اٹھنے والی صدا آج بھی گونج رہی ہے کیونکہ وہ کسی خاص زمانے یا جغرافیے کی آواز نہیں تھی۔ وہ انسانی وقار کی آواز تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف مذاہب، ثقافتوں اور قوموں کے لوگ بھی حضرت امام حسینؑ کے کردار میں انسانیت کی عظمت دیکھتے ہیں۔ ان کی قربانی صرف مسلمانوں کا سرمایہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے اخلاقی ورثے کا حصہ ہے۔

عاشورہ کی شام تاریخ کے دردناک ترین مناظر میں شمار ہوتی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ سب کچھ ختم ہوگیا ہے۔ مگر حقیقت میں اسی شام ایک نئی صبح جنم لے رہی تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب طاقت جیت کر بھی ہار گئی اور قربانی ہار کر بھی امر ہوگئی۔ یہی کربلا کا سب سے بڑا فلسفہ ہے کہ حق کی کامیابی ہمیشہ فوری نتائج سے نہیں ناپی جاتی۔ آج کی دنیا نئے چیلنجز سے دوچار ہے۔ جھوٹ پہلے سے زیادہ منظم ہو چکا ہے، ظلم کے انداز بدل گئے ہیں، استحصال کے طریقے جدید ہو گئے ہیں اور سچ بولنے والوں کی آزمائشیں بھی نئی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ مگر عاشورہ کا پیغام آج بھی اتنا ہی تازہ ہے جتنا صحرائے کربلا میں تھا۔ یہ پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق کبھی پرانا نہیں ہوتا اور ظلم کبھی جدید نہیں بن سکتا۔ نام بدل جاتے ہیں، صورتیں بدل جاتی ہیں، مگر حق و باطل کی کشمکش ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ کیا ہم نے حضرت امام حسینؑ کے پیغام کو اپنی زندگی، اپنے معاشرے، اپنے رویوں اور اپنے فیصلوں میں جگہ دی ہے؟ کیا ہم سچائی کے لیے کوئی قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہیں؟ کیا ہم ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ اور کیا ہم اپنی خاموشیوں کا محاسبہ کرنے کے لیے تیار ہیں؟

کربلا سے عاشورہ تک اور عاشورہ سے ابد تک ایک ہی پیغام سفر کر رہا ہےکہ انسان اپنی عزت، آزادیٔ ضمیر اور سچائی کا سودا نہ کرے۔ یہی حضرت امام حسینؑ کا مشن تھا، یہی عاشورہ کی صداقت کی گواہی ہے اور یہی انسانیت کی معراج بھی۔ شاید اسی لیے عاشورہ آج بھی زندہ ہے، اس کا چراغ آج بھی روشن ہے اور صحرائے کربلا کی وہ لازوال صدا آج بھی زمانے کے شور میں سنائی دیتی ہے۔ وہ صدا ہمیں پکار کر کہتی ہے کہ حق کا راستہ آسان نہیں، مگر یہی راستہ انسان کو انسان بناتا ہے۔ اگر ہم واقعی عاشورہ کو سمجھ لیں تو شاید ہمارے معاشرے بدل جائیں، ہماری ترجیحات بدل جائیں اور ہمارے اندر کا انسان بھی بدل جائے۔ کیونکہ عاشورہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، یہ انسانی ضمیر کی وہ زندہ آواز ہے جو ہر دور کے انسان سے پوچھتی ہےکہ جب حق اور باطل آمنے سامنے ہوں گے، تو تم کس طرف کھڑے ہو گے؟

Check Also

Dere Ka Shah Ji

By Rauf Klasra