Bare Taya Abbu (4)
بڑے تایا ابو (4)

آج کل بڑے تایا ابو بے حد اداس اور غمگین ہیں۔ بلکہ کافی حد تک مایوس بھی لگ رہے ہیں۔ پہلے کتنے خوش رہتے تھے۔ جہاں جاتے تھے ناچتے جھومتے تھے۔ دوسروں کا مذاق پوری سنجیدگی سے بناتے تھے۔ خوش باش رہتے تھے۔
مگر نا جانے کس حاسد کی بری نظر لگ گئی۔
چھوٹے بہن بھائیوں پر ساری زندگی پیسہ لٹاتے رہے کہ وہ میرے غلام بن کر رہیں گے۔ سب کچھ بے کار گیا۔ چھوٹے بظاہر جی حضوری کرتے رہے۔ مفادات پورے کرتے رہے مگر دل میں اکتاہٹ بھی محسوس کرتے رہے۔ اب نتائج سب کے سامنے ہیں۔
اب نا تو کوئی ڈر رہا ہے، عزت تو دور کی بات ہے۔ ویسے بھی ڈر صرف ایک مرتبہ کا ہی ہوتا۔ جب خوف ختم ہو جائے تو پھر جو بھی ہو انسان تیار رہتا ہے۔
تایا ابو مرنے مارنے کی دہمکیاں بھی دے رہے ہیں تو کوئی نوٹس ہی نہیں کر رہا۔۔ ان کے اپنے گھر والے بھی بیزار ہو رہے ہیں اور پابندیاں لگا کر ان کے ہاتھ پاؤں باندھ چکے ہیں۔ دراصل بڑے تایا ابو کی سیاست یہ ہے کہ سب چھوٹے آپس میں لڑیں مگر ان کے وفادار غلام رہیں۔ وہ بھول گئے ہیں کہ یہ ہتھکنڈے پرانے ہو چکے۔۔
تایا ابو بظاہر تو خاموش ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ مگر یہ خاموشی معنی خیز ہے۔ کیوں کہ انھیں شہرت پسند ہے اور یہ خوراک انھیں مل نہیں رہی۔۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑے تایا ابو کو ہدایت دے۔۔ جو کہ فی الحال مشکل لگ رہا ہے۔ ان کے سازشی ذہن کی زنبیل سے کیا نکلتا ہے؟ سب منتظر ہیں۔۔

