Ghurbat: Fard Ki Nakami Ya Nizam Ki Kharabi?
غربت: فرد کی ناکامی یا نظام کی خرابی؟
دنیا کے ہر معاشرے میں غربت ایک اہم سماجی مسئلہ رہی ہے، لیکن ترقی پذیر ممالک خصوصاً پاکستان میں یہ مسئلہ زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ غریب لوگ اپنی غربت کے خود ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ محنت نہیں کرتے یا سستی اور کاہلی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ سوچ نہ صرف حقیقت کے برعکس ہے بلکہ ایک سنگدلانہ اور غیر منصفانہ رویہ بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غربت محض فرد کی ذاتی ناکامی نہیں بلکہ معاشی ناہمواری، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، ناقص نظامِ تعلیم، بے روزگاری، بدعنوانی اور سماجی ناانصافیوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔
پاکستان میں لاکھوں لوگ دن رات سخت مشقت کرتے ہیں۔ مزدور، کسان، رکشہ ڈرائیور، فیکٹری ورکرز، گھریلو ملازمین اور دیہاڑی دار افراد شدید گرمی، تھکن اور کم اجرت کے باوجود اپنی زندگی گزارنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ اگر محنت ہی کامیابی کی واحد شرط ہوتی تو شاید یہی لوگ سب سے زیادہ خوشحال ہوتے، کیونکہ جسمانی مشقت سب سے زیادہ یہی طبقہ کرتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی محنت کا صلہ انہیں مناسب طور پر نہیں ملتا۔ وہ ایک ایسے نظام میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں دولت اور مواقع چند مخصوص طبقات تک محدود ہیں۔
معاشرتی ناہمواری کا سب سے بڑا سبب وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ ایک طرف ایسے لوگ ہیں جن کے پاس بے شمار دولت، جائیداد، اعلیٰ تعلیم اور اثر و رسوخ موجود ہے، جبکہ دوسری طرف کروڑوں افراد ایسے ہیں جو دو وقت کی روٹی، علاج اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی شخص غربت کو صرف "سستی" کا نتیجہ قرار دے تو یہ دراصل اصل مسائل سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔ مشہور فلسفی Karl Marx نے کہا تھا: "سرمایہ چند ہاتھوں میں جمع ہو کر معاشرے میں طبقاتی تقسیم پیدا کرتا ہے"۔
مارکس کے مطابق جب دولت اور وسائل چند لوگوں کے قبضے میں آ جائیں تو غریب طبقہ مسلسل محرومی کا شکار رہتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی محنت کیوں نہ کرے۔ یہی صورتحال ہمیں آج کئی معاشروں میں نظر آتی ہے۔
اسی طرح فرانسیسی فلسفی جین ژاک روسو Jean-Jacques Rousseau نے کہا تھا "انسان آزاد پیدا ہوتا ہے مگر ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے"۔ روسو کا اشارہ ان سماجی اور معاشی بندشوں کی طرف تھا جو غریب طبقے کو ترقی کے مواقع سے محروم کر دیتی ہیں۔ جب ایک بچہ غربت میں پیدا ہوتا ہے، ناقص تعلیمی اداروں میں پڑھتا ہے، کم عمری میں مزدوری پر مجبور ہو جاتا ہے اور مناسب رہنمائی سے محروم رہتا ہے تو اس کے لیے ترقی کی منزل تک پہنچنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
اسلام بھی معاشی انصاف اور مساوات پر بہت زور دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: "اور ان کے مالوں میں حق ہے مانگنے والے اور محروم کے لیے"۔ یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ دولت صرف ذاتی ملکیت نہیں بلکہ معاشرے کے محروم افراد کا بھی اس میں حق موجود ہے۔ اسلام دولت کے ارتکاز کے بجائے اس کی گردش اور منصفانہ تقسیم کا درس دیتا ہے۔ حضرت علیؓ کا مشہور قول ہے: "کوئی شخص اس وقت تک بھوکا نہیں رہتا جب تک کوئی دوسرا اپنی ضرورت سے زیادہ نہ رکھے"۔
یہ قول معاشی ناہمواری کی جڑ پر ضرب لگاتا ہے۔ اگر دولت اور وسائل چند ہاتھوں میں جمع نہ ہوں اور ہر فرد کو اس کا حق ملے تو غربت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
برطانوی مفکر Bertrand Russell نے کہا تھا: "ایک اچھا معاشرہ وہ ہے جہاں کمزور انسان بھی عزت کے ساتھ زندہ رہ سکے"۔
یہی کسی مہذب معاشرے کی اصل پہچان ہے۔ اگر معاشرے میں صرف امیر طبقہ ترقی کرے جبکہ غریب بنیادی ضروریات کے لیے ترستا رہے تو ایسی ترقی کھوکھلی تصور کی جائے گی۔
علامہ محمد اقبال نے جاگیردارانہ اور استحصالی نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے فرمایا:
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
اقبالؒ کا یہ شعر دراصل معاشی انصاف کا مطالبہ ہے۔ وہ اس نظام کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں جس میں محنت کرنے والا ہی محروم رہ جائے۔
غربت کی ایک بڑی وجہ تعلیم اور صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی بھی ہے۔ پاکستان میں بہت سے بچے غربت کے باعث اسکول چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کئی خاندانوں میں بچے کم عمری سے ہی مزدوری شروع کر دیتے ہیں تاکہ گھر کا خرچ چلایا جا سکے۔ ایسے بچوں سے یہ توقع کرنا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنی تقدیر بدل لیں گے، حقیقت پسندانہ نہیں۔ تعلیم، اچھی خوراک، محفوظ ماحول اور صحت کی سہولیات انسان کی ترقی کے لیے بنیادی عوامل ہیں اور جب یہ میسر نہ ہوں تو غربت نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔
امعروف امریکی فلسفی John Rawls نے اپنی کتاب A Theory of Justice میں لکھا: "ایک منصفانہ معاشرہ وہ ہے جہاں سماجی اور معاشی ناہمواریاں صرف اسی صورت قابلِ قبول ہوں جب وہ کمزور طبقے کے فائدے کا سبب بنیں"۔
راولز کے مطابق ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے نظام تشکیل دیں جہاں کمزور طبقہ مزید کمزور نہ ہو بلکہ اسے ترقی کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔
اسی طرح مہاتمہ گاندھی کے فلسفۂ معاشرت کے مطابق، قدرتی وسائل انسانوں کی ضروریات کے لیے کافی ہیں، مگر انسانی حرص اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم غربت کو جنم دیتی ہے۔
یہ نظریہ آج کے سرمایہ دارانہ نظام پر ایک گہرا تبصرہ ہے جہاں چند لوگ بے تحاشا وسائل جمع کر لیتے ہیں جبکہ کروڑوں لوگ بنیادی ضروریات سے محروم رہتے ہیں۔
غربت صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی مسئلہ بھی ہے۔ مسلسل محرومی، بے روزگاری، مہنگائی اور عدم تحفظ انسان کے اعتماد اور امید کو متاثر کرتے ہیں۔ ایک شخص جو ہر روز اپنے بچوں کی بھوک، بیماری اور قرضوں کے دباؤ میں زندہ رہتا ہے، اس کے لیے مستقبل کے خواب دیکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے افراد کو "سست" یا "کام چور" کہنا ان کی مشکلات کا مذاق اڑانے کے برابر ہے۔
یہ بات درست ہے کہ محنت، نظم و ضبط اور تعلیم انسان کی زندگی بدلنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن صرف انفرادی کوشش ہی کافی نہیں ہوتی۔ اگر معاشرہ اور ریاست انصاف، مساوی مواقع اور بنیادی سہولیات فراہم نہ کریں تو محنت کا پھل صرف چند خوش نصیب افراد تک محدود رہ جاتا ہے۔
ایک مہذب اور انصاف پسند معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کمزور طبقات کا سہارا بنے۔ خوشحال افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی دولت اور وسائل کو صرف ذاتی آسائش کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ معاشرے کی فلاح میں بھی استعمال کریں۔ زکوٰۃ، صدقات، فلاحی منصوبے، تعلیمی وظائف اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا معاشرتی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ پاکستان کے غریب لوگ اپنی غربت کے مکمل ذمہ دار نہیں۔ ان کی محرومی کے پیچھے ناقص معاشی نظام، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، طبقاتی فرق، بے روزگاری، مہنگائی، بدعنوانی اور تعلیم کی کمی جیسے عوامل کارفرما ہیں۔ لہٰذا ہمیں غریبوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے ایک ایسا منصفانہ معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں ہر انسان کو عزت، مواقع اور بنیادی حقوق حاصل ہوں اور جہاں دولت چند ہاتھوں تک محدود رہنے کے بجائے پورے معاشرے کی بھلائی کا ذریعہ بنے۔

