Tuesday, 26 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Afshan Saher
  4. Tasawur e Qurbani: Tareekh e Adyan Se Islam Tak

Tasawur e Qurbani: Tareekh e Adyan Se Islam Tak

تصورِ قربانی: تاریخِ ادیان سے اسلام تک

انسانی تمدن کی تاریخ مابعد الطبیعاتی سچائیوں کی تلاش اور کسی برتر ہستی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی ازلی خواہش سے عبارت ہے۔ اس فکری و مادی سفر میں "قربانی" کا تصور ایک ایسے آفاقی ستون کی مانند ہے جس نے ہر دور، ہر خطے اور ہر مذہب میں انسانی جذبۂ ایثار کو مادی پیکر عطا کیا۔ لغوی دائرے میں قربانی کا مادہ "قرب" ہے، جو بظاہر دوریوں کو مٹانے اور محبوبِ حقیقی کی قربت حاصل کرنے کا وسیلہ ہے۔

ادبی اور فلسفیانہ نقطۂ نظر سے، قربانی دراصل انسان کے اندر موجود حیوانی جبلتوں پر اس کی روحانی بیداری کی فتح کا علامتی اظہار ہے۔ یہ محض ایک مذہبی رسم نہیں، بلکہ انسانی نفس کی وہ معراج ہے جہاں وہ اپنی عزیز ترین متاع کو کسی اعلیٰ مقصد پر نچھاور کرنے میں دلی مسرت محسوس کرتا ہے۔ تاریخِ ادیان کا مطالعہ گواہ ہے کہ خوف کی وادیوں سے سفر شروع کرنے والا یہ تصور کس طرح ارتقائی بستیوں سے گزرتا ہوا اسلام کے دامن میں آ کر اپنے معراجِ کمال کو پہنچا۔

تاریخ کے دھندلکوں میں اگر ہم قدیم ترین تہذیبوں کا سراغ لگائیں، تو قربانی کا ابتدائی تصور گہرے خوف، سہمے ہوئے دلوں اور غضب ناک دیوتاؤں کو پرسکون کرنے کی کوششوں سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ بابل، نینوا، قدیم مصر اور یونان کی اساطیری روایات میں مظاہرِ قدرت (جیسے سورج، چاند، سیلاب اور قحط) کو مافوق الفطرت قوتیں سمجھا جاتا تھا جو ذرا سی لغزش پر انسانی بستیوں کو تباہ کر سکتی تھیں۔ ان غیبی طاقتوں کا قہر ٹھنڈا کرنے کے لیے خون کا نذرانہ سب سے کارگر نسخہ مانا جاتا تھا۔ چنانچہ، ان تہذیبوں میں بدترین شکلوں میں "انسانی قربانی" کا رواج پیدا ہوا، جہاں معصوم بچوں اور جنگی قیدیوں کو سنگدل بتوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا تھا۔ یہاں ایثار کا جذبہ مفقود تھا اور اس کی جگہ "خوف اور مجبوری کی سودے بازی" نے لے رکھی تھی، جہاں قاری کو انسان کی فکری پسماندگی کا احساس ہوتا ہے۔

برصغیر پاک و ہند کے مذہبی پس منظر میں ہندو مت کی قدیم ویدک روایت قربانی کو کائنات کا محور تسیلم کرتی ہے۔ ویدوں اور براہمن گرنتھوں میں "یگیہ" (Yajna) کی رسم کو کائناتی نظامِ قدرت (Rta) کو متحرک رکھنے کا واحد ذریعہ مانا گیا۔ اس دور میں یہ عقیدہ راسخ تھا کہ اگر دیوتاؤں کو اگنی (آگ) کے ذریعے اناج، گھی اور معصوم جانوروں کی قربانی (پشو بلی) نہ دی گئی، تو سورج طلوع ہونا بند ہو جائے گا اور کائنات کا توازن اور نظامِ قدرت ان قربانیوں کا محتاج ہے۔ لیکن جب رسوم پرستی نے حد سے تجاوز کیا، تو چھٹی صدی قبلِ مسیح میں بدھ مت اور جین مت کی صورت میں ایک عظيم فکری انقلاب رونما ہوا۔ مہاتما بدھ اور مہاویر نے "اهنسا" (عدم تشدد) کا علم بلند کرکے ظاہری اور حیوانی قربانیوں کا بستر گول کر دیا۔ انہوں نے فلسفہ پیش کیا کہ حقیقی قربانی باہر کسی جانور کو ذبح کرنا نہیں، بلکہ اپنے اندر کی خواہشات، انا، حسد اور غصے کا گلا گھونٹنا ہے، جسے انہوں نے "نروان" کا نام دیا۔ یوں غیر ابراہیمی ادیان میں قربانی مادی و حیوانی سطح سے اٹھ کر باطنی تزکیے کے مرحلے میں داخل ہوئی۔

ابراہیمی ادیان کے سلسلے میں قربانی کا ادارہ ایک منظم اور شرعی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہودیت کی مقدس کتاب تورات (بالخصوص کتابِ احبار) میں قربانیوں کے سخت اور مفصل قوانین وضع کیے گئے۔ ہیکلِ سلیمانی میں "قربان" کا تصور خدا کے ساتھ کیے گئے عہد کو تازہ کرنے اور خطاؤں سے پاک ہونے کا ذریعہ تھا۔ عبرانی معاشرے میں گناہوں کے کفارے کے لیے "قربانی کے بکرے" (Scapegoat) کی منفرد روایت قائم ہوئی، جس پر پورے قبیلے کے گناہ علامتی طور پر لاد کر اسے بیابان کی نذر کر دیا جاتا تھا۔ تاہم، ستر عیسوی میں رومیوں کے ہاتھوں ہیکل کی مسماری کے بعد یہودیت میں مادی قربانی عملی طور پر ختم ہوگیا اور اس کی جگہ گریہ و زاری، دعا اور صدقات نے لے لی۔

عیسائیت نے قربانی کے اس پورے روایتی ڈھانچے کو ایک اچھوتے اور مابعد الطبیعاتی نظریے میں بدل دیا۔ عیسائی الہیات کے مطابق، آدم کا گناہِ اولیں (Original Sin) انسانی نسل کا وہ مقدر بن چکا تھا جس کا متبادل کوئی عام انسان یا جانور ادا نہیں کر سکتا تھا۔ اس گرہ کو کھولنے کے لیے خدا نے اپنے بیٹے (حضرت عیسیٰؑ) کو زمینی چولے میں بھیجا، جنہوں نے صلیب پر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے تمام انسانیت کے گناہوں کا ابدی اور حتمی کفارہ ادا کر دیا۔ سینٹ پال کے خطوط کے رو سے مسیح کے اس مصلوبیت کے بعد اب دنیا میں کسی بھی قسم کی ظاہری یا حیوانی قربانی کی حاجت باقی نہیں رہی، کیونکہ یہ ایک ایسی قربانی تھی جو ہمیشہ کے لیے کافی ہوگئی۔ عیسائی دنیا آج بھی "عشائے ربانی" کی رسم میں اسی علامتی روٹی اور شراب کے ذریعے اس تاریخی ایثار کی یاد تازہ کرتی ہے۔

تاریخِ ادیان کے اس طویل اور پرپیچ سفر کے بعد جب ہم اسلام کے سائے میں اِس تصور کا جائزہ لیتے ہیں، تو قربانی اپنے تلاطم سے نکل کر امن، محبت، تقویٰ اور سماجی افادیت کا ایک بے مثال شاهکار نظر آتی ہے۔ اسلام نے قربانی کو خوف اور سودے بازی کی تمام تر غلاظتوں سے پاک کرکے اسے خالصتاً "عشقِ الٰہی اور اطاعتِ مطلق" کے سانچے میں ڈھال دیا۔

اسلام میں عید الاضحیٰ کے ایام میں دی جانے والی قربانی براہِ راست ابراہیمی روایت کا تسلسل اور احیاء ہے۔ یہ اس لازوال واقعے کی یادگار ہے جب سیدنا ابراہیمؑ کو اپنے لختِ جگر سیدنا اسماعیلؑ کی قربانی کا حکم ملا۔ یہ باپ کی ممتا اور بیٹے کی جوانی کا نہیں، بلکہ دو جذبوں کے مابین عشقِ الٰہی کا امتحان تھا، جہاں چھری کے نیچے گردن رکھنے والے نے بھی مسکرا کر کہا کہ "اباجان! آپ کو جو حکم ملا ہے، کر گزرئیے"۔ اللہ رب العزت کو یہ تڑپ اور خلوص اس قدر پسند آیا کہ اس نے چھری کو کند کر دیا اور ذبحِ عظیم کے ذریعے اس خلوص کو رہتی دنیا تک کے لیے مومنوں کا شعار بنا دیا۔ یہ واقعہ پیغام دیتا ہے کہ اسلام میں قربانی کسی غضب ناک ہستی کو منانے کا نام نہیں، بلکہ محبوب کے ایک اشارے پر اپنی کائنات لٹا دینے کا عزم ہے۔

قرآنِ کریم نے قربانی کی اس باطنی روح کو سورہ الحج میں جس ادبی اور فصیح انداز میں بیان کیا ہے، وہ دنیائے مذاهب میں اپنی مثال آپ ہے:

لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقُوَىٰ مِنكُمُ

"اللہ کو ہرگز نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اسے تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے"۔ (سورہ الحج: 37)

یہ لافانی آیت اس مادی زیاں کی نفی کرتی ہے جو دیگر مذاہب کا شیوہ تھا۔ خدا بے نیاز ہے، اسے خون کی ندیاں مطلوب نہیں، وہ تو بندے کے دل میں چھپی نیت اور تقویٰ کا خریدار ہے۔ جانور کے گلے پر چھری پھیرتے وقت مومن دراصل یہ عہد کرتا ہے کہ اگر دینِ حق کی خاطر کبھی جان، مال یا اپنی حیوانی خواہشات کی قربانی دینا پڑی، تو وہ اس سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔

اسلام کے فلسفۂ قربانی کی سب سے خوبصورت اور ادبی جہت اس کا سماجی نظام ہے۔ دیگر مذاہب میں یا تو قربانی کو چتا کی آگ میں جلا کر راکھ کر دیا جاتا تھا یا وہ ہیکل کے پجاریوں کی تجوریوں کی نذر ہو جاتا تھا، جس سے معاشرے کا عام اور مفلوک الحال انسان محروم رہتا تھا۔ اسلام نے اس عمل کو ایک عظیم الشان معاشی بہبود کے نظام میں تبدیل کر دیا۔ حکم دیا گیا کہ قربانی کے گوشت کے تین برابر حصے کیے جائیں، ایک حصہ اپنی ذات کے لیے، دوسرا اقربا اور رشتہ داروں کے لیے اور تیسرا حصہ معاشرے کے ان پسے ہوئے، غریب اور سفید پوش انسانوں کے لیے جنہیں سال بھر اچھے رزق کی فراہمی ممکن نہیں ہوتی۔ یہ تقسیم معاشرتی اونچ نیچ کی دیواروں کو گرا دیتی ہے، دلوں میں ہمدردی کا نور پیدا کرتی ہے اور ایثار کو مابعد الطبیعاتی دنیا سے نکال کر انسانیت کی خدمت کا عملی ذریعہ بنا دیتی ہے۔

ادیانِ عالم کی اس فکری سیاحت کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اسلام کا تصورِ قربانی اپنی جامعیت میں منفرد ہے۔ جہاں قدیم بت پرست تہذیبوں میں قربانی کا بنیادی محرک خوف تھا اور مادی انجام سرمائے کا ضیاع تھا، وہیں ویدک ہندو مت میں اسے دیوتاؤں کی غذا سمجھا جاتا تھا۔ یہودیت نے اسے ہیکل کی رسومات اور گناہوں کے کفارے تک محدود کیا اور عیسائیت نے حضرت عیسیٰ کی مصلوبیت کو آخری کفارہ مان کر ظاہری قربانی کا باب ہی بند کر دیا۔ ان تمام کے برعکس، اسلام نے قربانی کو خوف اور توہم پرستی سے آزاد کرکے اسے عشقِ الٰہی، تزکیۂ نفس اور سماجی بہبود کا ایک حسین سنگم بنا دیا۔ یہاں مادی عمل بھی موجود ہے اور اس کی باطنی روح بھی بیدار ہے، جو انسان کو صراطِ مستقیم پر گامزن رکھتی ہے۔

تصورِ قربانی کا تاریخِ ادیان سے اسلام تک کا یہ سفر دراصل انسانی شعور کے ارتقاء کی داستان ہے۔ انسان نے جس خوف کے سائے میں قربانی کا آغاز کیا تھا، اسلام نے اسے محبت اور معرفت کی روشنی عطا کر دی۔ عید الاضحیٰ کے ایام میں دی جانے والی یہ قربانی محض ایک سالانہ تہوار نہیں، بلکہ مومن کے لیے اپنے باطن کو ٹٹولنے کا ایک نادر موقع ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ کائنات کی ہر شے کا حقیقی مالک اللہ ہے اور اس کی رضا کے لیے اپنی انا، اپنے حیوانی نفس اور اپنے سرمائے کو قربان کر دینا ہی انسانیت کا معراج ہے۔ چنانچہ، اسلام کا یہ فلسفۂ قربانی جہاں انسان کو اپنے خالق سے جوڑتا ہے، وہاں اسے مخلوقِ خدا کے دکھ درد کا ساتھی بھی بناتا ہے اور یہی ایثار کا وہ عالمگیر سفر ہے جو تاریخِ ادیان کا اصل حاصل ہے۔

Check Also

Eentain Nahi, Balkay Kitabein

By Ammar Riaz Chohan