Wednesday, 29 April 2026
  1.  Home
  2. Zulfiqar Ahmed Cheema
  3. Women University

Women University

ویمن یونیورسٹی

ترقی یافتہ قومیں اپنے لیے جو ترجیحات طے کرتی ہیں، ان میں سڑکوں اور میٹرو بسوں وغیرہ کی اہمیّت ضرور ہے مگر سب سے بڑی ترجیح نہیں ہے۔ ان کی ترجیحِ اوّل تعلیم اور ہنر (knowledge+skill) ہے۔ کئی بار لکھ چکا ہوں کہ ہمارے زوال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نہ تعلیم کو اہمیّت دیتے ہیں اور نہ معلّم کو عزّت دیتے ہیں۔ وہ قومیں جو تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیّت اور استاد کو سب سے زیادہ عزّت دیتی ہیں، وہ آج دنیا کی Leading nations ہیں اور اس کرۂ ارض کی قیادت کا تاج انھی کے سر پر ہے۔

ڈاکٹر شازیہ بشیر جب جی سی یونیورسٹی لاہور کی وائس چانسلر تھیں تو ان سے پہلی ملاقات میں ہی اندازہ ہوگیا کہ فکرِ اقبالؒ کی علمبردار اور نوجوانوں کی کردار سازی کے جذبوں سے سرشار ہیں۔ کافی عرصے کے بعد درسگاہِ اقبالؒ کو ایسی سربراہ میّسر آئی تھیں، جس کی اس عظیم درسگاہ کو ضرورت تھی۔

ان کی غیر معمولی انتظامی صلاحیّتوں کے پیشِ نظر انھیں وسطی پنجاب میں خواتین کی سب سے بڑی یونیورسٹی کی وائس چانسلر مقرّر کیا گیا تو انھوں نے ایک قلیل عرصے میں ہی گورنمنٹ ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں بھی اپنی صلاحیّتوں کے نقش ثبت کردیے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چیف منسٹر پنجاب (جو خود ایک تعلیم یافتہ اور Forward Looking خاتون ہیں) کی ترجیحِ اوّل تعلیم ہوتی، وہ ہر دو مہینے کے بعد وائس چانسلرز کو اپنے دفتر بلا کر ان کے ساتھ ون آن ون (بیوروکریٹوں کی عدم موجودگی میں) میٹنگ کیا کرتیں، ان سے مسائل پوچھتیں، تعلیمی میدان میں ترقی اور سرفرازی کے لیے ان سے مشورے اور تجاویز لیتیں اور ان پر عملدرآمد کرتیں۔ مگر لگتا یوں ہے کہ نظام میں اب بھی صدیوں پرانی فرسودگی حاوی ہے اور تعلیمی ماہرین کی بجائے بیوروکریٹوں کی رائے کو فوقیت دی جاتی ہے۔

حکومت پنجاب سے تو توقع تھی کہ آکسفورڈ، کیمرج اور ہارورڈ جیسی یونیورسٹیوں کے سسٹمز کو سٹدی کرکے وہی جدید نظام صوبۂ پنجاب میں نافذ کیا جائے گا اور تعلیمی معاملات میں تعلیم کے Specialists کی رائے کو فوقیّت دی جائے گی اور بیوروکریٹوں اور سیاسی لوگوں کو تعلیمی اداروں کے معاملات میں دخل اندازی کرنے سے روکا جائے گا۔ مگر عملی طور پر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔

ایسی خبر بھی سننے کو ملی ہے کہ شہرِ اقبالؒ سیالکوٹ میں خواتین یونیورسٹی کی زمین کسی اور منصوبے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں کی داستان بڑی پرانی ہے اور یہ افسوسناک سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ حقائق کے مطابق حکومت پنجاب نے 2013 میں گورنمنٹ ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کو توسیع کے لیے 200 ایکڑ اراضی الاٹ کی تھی تاکہ طالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اس یونیورسٹی میں توسیع کی جا سکے۔

یہ سرکاری اراضی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے نام ٹرانسفر بھی ہو چکی ہے اور یونیورسٹی نے چار دیواری بھی بنا رکھی ہے اور جس میں کچھ شعبہ جات کی توسیع بھی کی گئی ہے اور مزید شعبوں میں اضافے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ مگر سننے میں آیا ہے کہ کچھ بااثر لوگ اس قیمتی اراضی کو مختلف بہانوں سے واپس لینے کی کوششیں کر رہے ہیں جب کہ وائس چانسلر صاحبہ راضی نہیں ہیں۔ بہرحال کبھی میڈیکل کالج کا شوشہ چھوڑا جاتا رہا اور کبھی ایجوکیشن سٹی بنانے کی بات کی جاتی رہی اور کبھی سرکاری افسروں کے دفاتر تعمیر کرنے کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔ سیالکوٹ کے وکلا صحافی اور سول سوسائٹی کے ممتاز افراد بھی گورنمنٹ ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کے حق میں آواز اُٹھارہے ہیں۔ حکومتِ پنجاب کو ایسی کوششوں (بشرطیکہ اگر یہ باتیں سچ ہیں) کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جانا چاہیے۔

سیالکوٹ کی یہ یونیورسٹی صرف خواتین کے لیے ہے اس لیے علاقے کے والدین بڑے اعتماد کے ساتھ اپنی بچیوں کو اس یونیورسٹی میں داخل کراتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کی عدالتِ عظمٰی کا واضح فیصلہ موجود ہے کہ حکومت جس مقصد کے لیے اراضی خریدتی ہے، وہ اراضی اسی مقصد کے لیے ہی استعمال کی جا سکتی ہے، یہ اجتماعی عوامی مفاد کا مسئلہ ہے۔ سیالکوٹ کے عوام کو بھی اور محکمہ تعلیم کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ دوسری جانب چیف منسٹر پنجاب سے پوری توقّع ہے کہ وہ خواتین یونیورسٹی کے لیے مختص کی جانے والی زمین کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرنے والوں کی سخت سرزنش کریں گی اور خواتین یونیورسٹیوں کی تمام وائس چانسلرز کو بلا کر انھیں اچھی چائے بھی پلائیں گی اور ساتھ ہی انھیں یقین دہانی بھی کرائیں گی کہ "میرے ہوتے ہوئے کوئی بھی ویمن یونیورسٹی کی زمین کی جانب میلی یا لالچ زدہ آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ "

پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ امریکا اور یورپ کی یونیورسٹیوں کو ہماری درسگاہوں سے امتیازی حیثیّت اس لیے حاصل ہے کہ وہاں یونیورسٹی کے طلباء کے لیے سب سے prestigious career معلّمی یعنی teaching ہے کیونکہ سب سے دلکش پیکیج بھی کالج یا یونیورسٹی کے اساتذہ کا ہے اور معاشرے میں سب سے زیادہ عزّت وتوقیر بھی ٹیچر کو دی جاتی ہے، مگر ہمارے ہاں ہر قسم کے اختیارات اور مراعات بے ہنر بیوروکریٹوں کے دامن میں ڈال دیے جاتے ہیں، بے تحاشا اختیارات کی وجہ سے ان کی nuisance value چونکہ سب سے زیادہ ہے اس لیے معاشرے میں سب سے زیادہ اہمیّت بھی انھی کی ہے اور لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی عزّت انھی کو دیتے ہیں، لہٰذا برِّصغیر پاک و ہند میں یونیورسٹیوں کے طلباء کی پہلی ترجیح افسر بننا ہے استاد بننا نہیں۔

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ ایک بار پاکستان کے دورے پر آئیں تو انھوں نے ایک تعلیمی ادارے کے دورے کے دوران مختلف طلبا سے پوچھا کہ "تم کیا بننا چاہتے ہو؟" کسی نے کہا کہ میں پائلٹ بننا چاہتا ہوں، کسی نے کہا میں ڈاکٹر بننا چاہتاہوں، کسی نے کہا میں پولیس افسر بنوں گا، کسی نے کہامیں جج بنوں گا، وغیرہ وغیرہ۔ آخر میں ملکہ نے اس وقت کے گورنر مغربی پاکستان سے مخاطب ہو کر کہا "مسٹر گورنر! مجھے آپ کے ملک کی ترقی کے بارے میں خدشات بھی ہیں اور تشویش بھی۔ " گورنر نے کہا "ملکہ محترمہ! وہ کیوں؟ اس پر ملکہ نے کہا "جس ملک کی ایک اچھی یونیورسٹی کا کوئی نوجوان ٹیچر نہیں بننا چاہتا، اس کا مطلب ہے کہ آپ کے ملک میں ٹیچنگ کو قابلِ عزّت شعبہ نہیں سمجھا جاتا۔ یادرکھیں! جس ملک میں ٹیچر اور teaching کے شعبے کی عزت نہ ہو وہ ملک کبھی ترقّی نہیں کرسکتا" ہمارا ملک اصل ترقّی کے زینے پر اس وقت قدم رکھے گا جب جی سی لاہور اور LUMS، NUST اور IBA کراچی کے فارغ التحصیل نوجوانوں کی پہلی ترجیح سی ایس ایس کے ذریعے افسر بننے کے بجائے teaching ہوگی۔ کسی بھی ملک کی افسر شاہی اسٹیٹس کوکی علامت ہوتی ہے جو ترقّی کے سفر میں رکاوٹ بنتی ہے، معاون نہیں بنتی۔ ہم نے آگے بڑھنا ہے تو تعلیم کو ترجیحِ اوّل بنانا ہوگا اور معلّم کو سب سے زیادہ عزّت دینا ہوگی۔ اصل ترقّی کا سفر تب شروع ہوگا جب ٹیچر کو سب سے زیادہ عزّت و تکریم ملے گی اور جب لاہور کے جی او آر ون میں سب سے زیادہ گھر استادوں کو الاٹ ہوں گے اور چیف منسٹر اور پرائم منسٹر کی سرکاری تقریبات میں پہلی قطار کی نشستیں وزیروں اور افسروں کی بجائے تعلیمی درسگاہوں کے سربراہوں کے لیے مخصوص ہوں گی۔

سب سے زیادہ عزت وتکریم کے حقدار افسر نہیں استاد ہیں۔ پروفیسرز اور وائس چانسلرز کو سب سے زیادہ عزت اور احترام دیں اور ان کی بات کو سب سے زیادہ اہمیّت دیں۔ مذکورہ معاملے میں وائس چانسلر صاحبہ کا موقف درست ہے اس لیے فیصلہ ان کے حق میں ہونا چاہیے۔

Check Also

Waham, Rad e Amal Aur Bikharta Muashra

By Saadia Bashir