Friday, 23 January 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Teesri Aalmi Jang Ki Taraf Barhta Trump

Teesri Aalmi Jang Ki Taraf Barhta Trump

تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھتا ٹرمپ

ہوش سنبھالنے کے برس سے مسلسل سن اور پڑھ رہا ہوں کہ انسان کبھی جانوروں کی طرح ہی تھا۔ وحشت اس کی فطرت تھی۔ خود غرض ہونے تک ہی محدود نہ تھا۔ دوسروں کو اپنا مطیع وفرمانبردار رکھنا اس کی جبلت بن چکا تھا۔ کئی صدیاں گزرجانے کے بعد مگر اللہ کے نیک بندوں نے علم کی روشنی پھیلانا شروع کردی۔ انسانوں میں رحم کے جذبات کو اجاگر کیا۔ انسان مگر تبدیل ہونے سے انکاری رہے۔

اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے دنیا کے وسیع ترین خطوں پر اجارہ داری قائم کرنے کو ڈٹ گئے۔ افریقہ، ایشیاءاور لاطینی امریکہ کے تقریباََ ہر ملک کو برطانیہ، فرانس، ہالینڈ اور سپین جیسے سامراجی ممالک نے اپنا غلام بنالیا۔ "مزید" کی ہوس نے بالآخر بالاتر سامراجی قوتوں ہی کو ایک دوسرے کا دشمن بنادیا۔ اس کے نتیجے میں دنیا کو ایک نہیں دو عالمی جنگوں کو یکے بعد دیگرے برداشت کرنا پڑا۔ دوسری جنگ عظیم کے انجام پر ایٹم بم بھی استعمال ہوگیا۔ ان دو جنگوں نے جو تباہی پھیلائی۔ ایٹم بم کی دہشت دنیا پر عیاں ہوئی تو انسان "انسان" بننے کو مجبور ہوگیا۔

بچپن سے جوانی کی حدود اور پھر بڑھاپے میں داخل ہوکر جو کچھ کئی راتوں کو دیر تک جاگتے ہوئے پڑھااور سنا وہ سب بدھ21جنوری 2026ءکی شام مجھے قطعاََ جھوٹ اور افسانوی محسوس ہوا۔ سورج ڈھلتے ہی ٹی وی کھول کر سی این این کی سکرین پر آنکھیں جمائے ہوئے تھا۔ تقریباََ ساڑھے چھ بجے کے قریب دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتے ملک کے صدر ٹرمپ نے جدید "تہذیب" کے مرکز مانے ایک ملک سوئٹزرلینڈ میں دنیا بھر کی اشرافیہ کے نمائندہ اجتماع سے ڈیوس کے شہر میں خطاب کرنا تھا۔ موصوف کا خطاب شروع ہوا تو آٹھ بج کردس منٹ تک چلتا رہا۔ اس کے بعد سوال جواب بھی ہوئے۔ وہ سنتے اور دیکھتے ہوئے میں خود کو بارہا یقین دلانے کی کوشش کرتا رہا کہ ٹی وی سکرین پر "ہاؤس آف کارڈز" جیسی سیریز کا فرضی صدر تقریر نہیں کررہا۔ ہم سے مخاطب وہ شخص ہے جسے امریکہ کے عوام نے چار سال وائٹ ہاؤس سے باہر رکھ کر گزشتہ برس مزید چار سال کے لئے اپنے ملک کا صدر منتخب کیا ہے۔

اپنی تقریر کے ابتدائیہ میں کافی دیر تک امریکی صدر اپنی ہی شخصیت کی برتری جتلانے میں مصروف رہا۔ ہمیں مسلسل یہ بتاتا رہا کہ اس کے پہلے سال اقتدار کے دوران امریکہ کی معیشت میں "انقلابی" تبدیلی آئی ہے۔ روزمرہّ اشیاءکی قیمتوں میں ناقابل یقین حد تک کمی واقعہ ہوئی ہے۔ معیشت جمود کے پنجے سے رہائی پاکر استحکام وخوش حالی کی جانب بڑھ نہیں دوڑ لگارہی ہے۔ امریکہ میں اب غریب ممالک کے "جرائم پیشہ" افراد حکومتی فراخ دلی کا فائدہ اٹھاکر داخل نہیں ہوسکتے۔ غیر ملکی تارکین وطن کے لئے اپنے دروازے بند کرلینے کے بعد ا مریکہ مصنوعی ذہانت کی بدولت نت نئی ایجادات متعارف کروانے کی جانب بڑھ ر ہا ہے۔

یورپ سمیت دنیا کا جو بھی ملک اگر ترقی کرنا چاہ رہا ہے تو اسے ٹرمپ کے امریکہ کی نقالی کرنا ہوگی۔ امراءپر کم از کم ٹیکس عائد کرتے ہوئے حکومتیں انہیں سرمایہ کاری کی جانب راغب کریں۔ سرکار کے لئے "خواہ مخواہ" ملازم رکھے لوگوں کو فارغ کریں۔ ان میں سے جو واقعتا ذہین وفطین ہوں گے وہ نئی سرمایہ کاری سے قائم ہونے والے دھندوں میں حکومت کی فراہم کردہ تنخواہ سے کہیں زیادہ معاوضوں پر کام کرنا شروع ہوجائیں گے۔ کسی بھی وجہ سے تعلیمی اور صلاحیتی اعتبارسے "ذہین" ہونے کے امکانات سے محروم انسانوں کے بے پناہ ہجوم کےساتھ "میرٹ" کی بنیاد پر قائم ہوا نظام کیا سلوک کرے گا، یہ سوال امریکی صدر کے ذہن میں کبھی اٹھا ہی نہیں ہوگا۔ اس کا جواب فراہم کرنا اس کے لئے لہٰذا ممکن ہی نہیں۔

امریکہ آج سے تقریباََ چار صدی قبل یورپ کے مختلف خطوں سے آئے لوگوں کی وجہ سے آباد ہونا شروع ہوا تھا۔ یہاں آباد ہونے کی خاطر انہوں نے وہاں پہلے سے موجود ریڈانڈینز سے زمین کو وحشیانہ قتل عام سے خالی کروالیا۔ تارکینِ وطن پر مشتمل اس ملک کا صدر مگر اب "غیر ملکی تارکین وطن" کا دشمن نمبر ون بن چکا ہے۔ وہ امریکہ کو فقط سفید فام مسیحی افراد کا ملک ہی بنائے رکھنا چاہتا ہے۔ اپنی اس خواہش کا اطلاق وہ یورپ کے ہر ملک میں بھی ہوا دیکھنا چاہتا ہے جس کے کئی ملک اور وہاں کے چند بڑے شہر اس کی نگاہ میں اپنی "پہچان" کھوبیٹھے ہیں۔ کسی ملک یا شخصیت کا نام لئے بغیر وہ لندن جیسے شہروں کی "تباہی" کے بارے میں بہت پریشان تھا جو اس کی دانست میں سفید فام گوروں کا شہر نہیں رہا۔ غریب ممالک سے آئے "جرائم پیشہ افراد" کی گرفت میں آچکا ہے۔ وہاں کا میئر بھی پاکستان سے برطانیہ گئے ایک گھرانے کا فرد ہے۔

اپنی "خوبیاں" نہایت ڈھٹائی سے گنوانے کے بعد ٹرمپ یورپی ممالک کو نہایت رعونت سے یاددلانا شروع ہوگیاکہ دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ کی فوجی مداخلت کے بعد ہی وہ ہٹلر کی غلامی میں آنے سے محفوظ رہے۔ جرمنی کو ہٹلر سے نجات دلاکر امریکی سرمایے سے "نیا جرمنی" بنایا گیا۔ ڈنمارک اگر آج آزاد ہے تو وجہ اس کی بھی امریکہ کا دوسری جنگ عظیم میں کردار ہے۔ یہ ملک مگر گرین لینڈ نامی جزیرے کو امریکہ کے سپرد نہ کرتے ہوئے "احسان فراموش" ثابت ہورہا ہے۔ یورپ کو وہ اپنی تقریر کے دوران بارہا یاد دلاتا ر ہا کہ ان کی آزادی اور خودمختاری نیٹو اتحاد کی بدولت ہی برقرار ہے۔ اس فوجی اتحاد کو قائم رکھنے کے لئے تمام تر سرمایہ اور جدید ترین اسلحہ امریکہ فراہم کررہا ہے۔ یورپی ملک اس اتحاد کو برقرار وتوانا رکھنے کے لئے مضحکہ خیز حد تک قلیل رقم ادا کررہے ہیں۔

اپنی آزادی اور خودمختاری کے لئے امریکہ کے محتاج ہوئے یورپی ممالک مگر صدر ٹرمپ کی خواہش پر اسے "برف کا وہ ٹکڑا" نہیں دے رہے جو گرین لینڈ جزیرے کے نام سے مشہور ہے اور جسے ڈنمارک اپنا جزولاینفک شمار کرتا ہے۔ لگی لپٹی رکھے بغیر ٹرمپ بارہا دہراتا رہا کہ اسے "برف کا ٹکڑا" ہر صورت درکار ہے۔ اس کے حصول کے بعد وہ اس جزیرے میں ایسا دفاعی نظام نصب کرے گا جو پورے یورپ کی آزادی وخودمختاری کو یقینی بنائے گا۔ "برف کا ٹکڑا" اس کے سپرد ہونے میں رکاوٹ ڈالنے والے ملک بعدازاں بہت پچھتائیں گے۔ مجھ جیسے بے وقوفوں کی نگاہ میں "تہذیب" کی حتمی علامت شمار ہوتے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں کا امریکی صدر اس کے بعد حقارت سے ذکر کرنا شروع ہوگیا۔

فرانسیسی صدر کا اس نے سٹیج کے مسخروں کی طرح "جگتیں" لگاتے ہوئے براحال کردیا۔ اس کی طولانی تقریر کے دوران ہال میں کامل خاموشی طاری رہی۔ اس کے کسی فقرے پر تالیاں نہ بجیں۔ نہ ہی اس کا مسخرہ پن بلندآہنگ قہقہوں سے سراہا گیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ہال میں بیٹھے عالمی اشرافیہ کے نمائندے سمجھ ہی نہیں پارہے کہ دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں سے نمایاں ترین ملک کے صدر کی خودپسندی اور دیگر ممالک پر رعب جھاڑنے کے انداز کو کس طرح ہضم کیا جائے۔ ان کی بے بسی ولاچاری نے مجھے بھی ذہنی اعتبار سے منجمد بنادیا۔ عمر کے آخری حصے میں "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" کی بدترین عملی مثال دیکھنے کے بعد اپنے گھر میں انبار کی صورت جمع ہوئی کتابیں اب کاٹھ کباڑ کا ڈھیر محسوس ہورہی ہیں۔ جی مچل رہا ہے کہ سردیوں کے باقی ہفتوں کے دوران انہیں آگ تاپنے کے لئے استعمال کروں۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Molana Fazal Ur Rehman Aur Badalta Hua Aalmi Siasi Manzar Nama

By Muhammad Riaz