Friday, 16 January 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Tawajo Ka Baais Bana Ishrat Fatima Ka Pegham

Tawajo Ka Baais Bana Ishrat Fatima Ka Pegham

توجہ کا باعث بنا عشرت فاطمہ کا پیغام

آئرلینڈ میں پیدا ہوکر فرانسیسی زبان میں لکھے ڈراموں کی بدولت دنیا بھر میں مشہور ہوئے سیموئیل بیکٹ کا ذکر اس کالم میں کئی بار ہوا ہے۔ خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کے مزید حوالے دیتا رہوں گا۔ بنیادی وجہ اس کی ہے میری عمر۔ چلتے پھرتے اور بولتے ہوئے میں معذور بوڑھا نظر نہیں آتا۔ ربّ کے کرم سے اب تک کسی موذی مرض سے بھی محفوظ رہا ہوں۔ چند ہفتے قبل مگر اچانک ہمارے گھر میں بلڈپریشر ماپنے والی مشین آگئی۔ اس کی افادیت جانچنے کو ہنستے مسکراتے اپنا بلڈپریشر ماپا تو وہ 200کی حد کو خطرناک حد تک پار کرچکا تھا۔

ایک مہربان ڈاکٹر کو گھبرا کر فون کیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ میں کسی ڈاکٹر کے پاس جاکر بلڈپریشر ماپنے والے روایتی آلے سے معائنہ کرواؤں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے بلڈپریشر ماپنے والے آلات اکثر گمراہ کردیتے ہیں۔ ان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایک ڈاکٹر کے پاس گیا۔ انہوں نے روایتی آلے سے پیمائش کے بعد حیرت کا اظہار کیا کہ ابھی تک دل کے دورے یا فالج سے کیسے محفوظ رہا ہوں۔ فوراََ ہسپتال کی ایمرجنسی جانے کا مشورہ دیا۔ مجھے مگر شام 8بجے لائیو ٹی وی شو کرنا تھا۔ دوبارہ مہربان ڈاکٹر کوفون کیا تو انہوں نے حوصلہ دیا۔

گزشتہ دس برسوں سے ناشتے کے بعد بلڈپریشر کو قابو میں رکھنے والی 16ایم جی کی ایک گولی استعمال کرتا رہا ہوں۔ انہوں نے اس گولی کی ایک اور خوراک لینے کا مشورہ دیا۔ ساتھ ہی ایک گولی اور بتائی جو دل کی بے قراری اور وسوسوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان گولیوں کے استعمال کے بعد معمولاتِ زندگی میں مصروف ہوگیا۔ مہربان ڈاکٹر ہی نے مگر دوسرے دن صبح اٹھ کر نہار منہ خون دے کر چند ٹیسٹ کروانے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ ان کے حکم پر عمل کیا۔ جو ٹیسٹ ہوئے ان کے نتائج پریشان کن نہیں تھے۔ بلڈپریشر کی واحد وجہ دل کی پریشانی و بے قراری ٹھہرائی گئی ہے۔ بلڈ پریشر کو کنٹرول کی دوا بدل کر زیادہ طاقتور بنادی گئی ہے۔ ساتھ مگر وہ دوا بھی دن میں دو بار کھانا پڑرہی ہے جو دل کی بے قراری کو بے قابو نہیں ہونے دیتی۔

جو واقعہ ہوا اسے گزرے 6سے زیادہ ہفتے گزرچکے ہیں۔ میرے دل ودماغ مگر اس سوال کا جواب اب تک ڈھونڈے چلے جارہے ہیں کہ میرا دل ہمہ وقت کیوں بے چین وبے قرار رہتا ہے۔ منیر نیازی شاعر تھے۔ اس لئے جب "بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا" والا مصرعہ لکھتے تو سمجھ آجاتی کہ دل کی بے قراری کا سبب مرضِ عشق ہوسکتا ہے۔ عرصہ ہوا اس جانب طبیعت مگر کبھی مائل ہی نہیں ہوئی۔ 3 سے زیادہ دہائیوں سے فقط ملکی حالات اور بین الاقوامی امور کے بارے میں "تازہ ترین" کی تلاش ہی لاحق رہی۔ گھر میں سفید پوشی بھی باوقار انداز میں برقرار ہے۔ اس کے باوجود دل کی اداسی کا سبب طے نہیں کرپایا ہوں۔

اپنی اداسی کے اسباب تلاش کرتے ہوئے دو روز قبل عشرت فاطمہ صاحبہ کا سوشل میڈیا پر ایک پیغام دیکھا۔ اس کے ذریعے انہوں نے اپنے شائقین کو اطلاع دی تھی کہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں ایک بڑا اور اہم فیصلہ کرنے والی ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی کے بڑے ناموں سے چند دہائیاں قبل تک گہرا تعلق رہا ہے۔ عشرت فاطمہ صاحبہ کے ساتھ مگر کبھی سرسری سلام دعا بھی نہیں ہوئی۔ کبھی کبھار پاکستان ٹی وی کے خبرنامہ پر نگاہ پڑجاتی تو ان کا تلفظ اور ادائیگی کا سہل مگر پر اعتماد انداز قابل ستائش محسوس ہوتا۔ ٹی وی اگرچہ آواز کے علاوہ چہرے پر بھی توجہ کا طلب گار ہوتا ہے۔ ان کے چہرے پر جب بھی نگاہ ڈالی تو ان کی ناک میں موجود"کوکا (مجھے خبرنہیں اردو میں اسے کیا کہتے ہیں)"ہمیشہ باوقار لگا۔ جبکہ ناک میں پہنا یہ زیور عموماََ توجہ کی طلب گار چلبلاہٹ ہی محسوس ہوتی رہی ہے۔

محترمہ عشرت فاطمہ صاحبہ کا میں فین کبھی نہیں رہا۔ اس بات کی لہٰذا کھوج لگانے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی کہ وہ اپنی زندگی کا "بڑا فیصلہ" لینے کی سوچ بچار میں کیوں مصروف ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے مگر روایتی کے علاوہ سوشل میڈیا کا مجھے ڈاکٹروں کے منع کرنے کے باوجود کئی گھنٹوں تک مشاہدہ کرنا پڑگیا ہے۔ بنیادی وجہ اس کی ایران کے حالات ہیں اور ان کے تناظر میں ٹرمپ کی منگل کے دن سوشل میڈیا پر لکھی وہ تڑی جس کے ذریعے دنیا کی واحد سپرطاقت کہلواتے ملک کے صدر نے ایرانی عوام کو اس امر پر اکسایا کہ وہ اپنی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری رکھیں۔ سرکاری اداروں پر قبضہ کرلیں۔ ان حکام کے نام یاد رکھیں جو مبینہ طورپر ان کے مظاہروں کو روکنے کے لئے ریاست کی قوت استعمال کررہے ہیں۔ ایرانی عوام کو مظاہرے برقرار رکھنے کے لئے ا کساتے ہوئے ٹرمپ نے یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ جلد ہی ان (ایرانی عوام) کو "مدد" پہنچانے والا ہے۔

ٹرمپ کے ہلاشیری والے پیغام کو ایرانی عوام نے نہایت وقار سے نظرانداز کردیا۔ بدھ کے دن زندگی بلکہ ایران میں معمول کی جانب لوٹتی نظر آئی۔ ٹرمپ نے غالباََ اپنی خفت مٹانے کے لئے یہ وعدہ کیا کہ اس کا ملک ایران کے خلاف اب اس وقت متحرک ہوگا اگر گرفتار شدگان مظاہرین میں سے کسی کو پھانسی پر لٹکانے کا فیصلہ ہوگا۔ میں نے یہ پیغام پڑھ کر یہ اخذ کیا کہ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا ارادہ ترک کردیا ہے۔ یہ فیصلہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا کی گلی ہی میں گھوم رہا تھا تو عشرت فاطمہ صاحبہ کے ایک اور پیغام پر نظر پڑ گئی۔ میں نے اسے بہت غور سے سنا۔ میری سمجھ میں اسے سن کر یہ خیال آیا کہ غالباََ محترمہ عشرت فاطمہ صاحبہ کو اعلیٰ افسران کی جانب سے یہ پیغام مسلسل پہنچانے کی کوشش ہوئی تھی کہ وہ عمر کے اس حصے میں داخل ہوچکی ہیں جہاں تلفظ، آواز اور سانس پر کامل قابو کے باوجود وہ سکرین پر "اچھی" نظر نہیں آتیں۔ جو تاثر انہیں ملا وہ ان کا دل توڑنے کا واحد سبب نظر آیا۔

ریڈیو اور ٹی وی سے قدیمی تعلق کی وجہ سے میں کسی حد تک سکرین کے حوالے سے دورِ حاضر کے افسروں کی "مجبوری" یا "تنقید" سے اتفاق نہ کرنے کے باوجود ان کی وجوہات کسی حد تک سمجھ سکتا ہوں۔ ریڈیو کا مگرصورت سے کچھ لینا دینا نہیں۔ میرے بچپن کی دو بڑی آوازیں مرتے دم تک ریڈیو کے مائیک پر چھائی رہیں۔ موہنی حمید اور یاسمین طاہر صاحبہ۔ یاسمین صاحبہ ریڈیو مائیک سے دور ہوئیں تو وجہ اس کی فقط پاکستان سے غیر ملک کچھ برسوں کے لئے منتقلی تھی۔ ریڈیو پاکستان لاہور کے حسن لطیفی، سلطان کھوسٹ اور نظام دین بھی مرتے دم تک مائیک پر کھنکناتے رہے۔

ٹی وی سکرین کو دل موہ لینے والی صورتوں سے بھرنے کا رواج فوکس ٹی وی نے شروع کیا تھا۔ اس سے قبل بی بی سی اور سی این این جیسے مستند اور دھانسو ا دارے اپنی اینکر خواتین کے تجربے اور موضوع پر گرفت کو اہمیت دیتے۔ اسی باعث آج بھی ہم عالمی سطح کی اہم ترین خبروں کا تجزیہ جاننے کے لئے سی این این کی کرسٹین امان پور کا پروگرام دیکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں لیکن مختلف النوع رحجانات چل کر ختم ہوتے رہتے ہیں۔ دورِ حاضر کو Gen-Zکا دور کہا جارہا ہے جہاں بڑھاپا باعثِ تکریم نہیں بلکہ باعث شرمندگی ثابت ہورہا ہے۔

سیموئیل بیکٹ کی یاد اس وجہ سے آتی ہے کہ آج سے کئی دہائیاں پہلے اس نے جو کردار تشکیل دئیے وہ اپنے بڑھاپے کو "لعنت" کی صورت لیتے ہوئے زندگی سے کاملاََ اکتائے ہوئے محسوس کرتے۔ اکیلے پن سے گھبراکر تنہائی میں بیٹھے اپنی ہی آواز کو ٹیپ پر ریکارڈ کرتے ہوئے کسی دوسرے کی موجودگی کا واہمہ تشکیل دیتے۔ محترمہ عشرت فاطمہ کو اللہ کے فضل سے ایسی تنہائی کا د

کھ نہیں ہے۔ وہ پیار کرنے والے بچوں اور خاوند کی محبت سے مالا مال ہیں۔ ان کی آواز، لہجے اور تلفظ پر گرفت اب بھی مثالی ہے۔ ان سے التجا ہے کہ سوشل میڈیا کو لوگوں سے رابطے کے لئے مسلسل استعمال کرتی رہیں۔ اپنے تجربات اور مشاہدات نئی نسل تک پہنچائیں۔ وہ ایسا کریں گی تو مجھ جیسے لوگ بھی یہ سمجھ پائیں گے کہ عمر کی ایک خاص حد میں داخل ہوجانا زندگی کا اختتام نہیں ہوتا۔ کہنے اور کرنے کی کئی باتیں ہیں جن سے کنارہ کشی کئی حوالوں سے اپنے ساتھ زیادتی اور دنیا کے ساتھ بددیانتی ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Quran: Hidayat, Shaoor Aur Maqsad e Hayat

By Asif Masood