Thursday, 29 January 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Mustafa Kamal Se Maaf Karo Aur Aage Barho Ka Taqaza

Mustafa Kamal Se Maaf Karo Aur Aage Barho Ka Taqaza

مصطفیٰ کمال سے "معاف کرو اور آگے بڑھو" کا تقاضہ

مصطفیٰ کمال کی "سیاسی بصیرت" میری نگاہ میں 2018ء کے انتخابات کے قریب بے نقاب ہوگئی تھی۔ موصوف ایم کیو ایم کی جنرل مشرف کی سرپرستی میں قائم ہوئی "مقامی حکومت" کی ایک کامیاب اور حتمی مثال کی صورت مشہور کروائے گئے۔ بات یہ پھیلائی گئی کہ اگر وطن عزیز کے ہر بڑے شہر کو ان جیسا مئیر نصیب ہوجائے تو اس شہر کو وزارت عظمیٰ یا وزارت اعلیٰ کے حصول کوبے چین خود غرض سیاستدانوں کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوگی۔ کچھ نام نہاد "عالمی جرائد" کی بدولت ا نہیں بلکہ دنیا کے لئے قابل تقلید ماڈل کی صورت بھی پیش کیا گیا۔

جنرل مشرف کی اقتدار سے فراغت کے بعد مگر وہ سیاسی یتیم ہوئے نظر آنا شروع ہوگئے۔ تنہائی کے اس عالم میں بتدریج اپنے سیاسی قائد سے بھی دور ہوتے ہوئے بالآخر لندن میں برسوں سے پناہ گزین الطاف حسین کو برابھلا کہتے ہوئے اپنی آزادی، بلوغت اور خودمختاری کا اعلان کردیا۔ ان کے آزاد اور خودمختار ہوئے ذہن نے "پاک سرزمین" کے نام سے ایک جماعت بھی قائم کرلی۔ خیال تھا کہ یہ جماعت الطاف حسین سے مایوس ہوئے اردو سپیکنگ نوجوانوں کو بھتہ خور سیاست کا متبادل فراہم کرے گی۔ ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی مگر بقول صوفی تبسم اپنی چونچ اور دم گنوابیٹھے۔ کراچی کے ووٹروں کی ایک مؤثر تعداد کو دریں اثناء تحریک انصاف کی صورت ایک ایسی جماعت کے طورپر ابھرتی محسوس ہوئی جو لسانی اور نسلی تقسیم سے بالاتر ہوکر عوامی مسائل کا حل تلاش کرنا چاہ رہی تھی۔ تحریک انصاف نے مگر کئی وجوہات کی بناء پر اپنے چاہنے والوں کو مایوس کیا۔ جن "باریاں لینے والی" سیاسی جماعتوں کو اس نے پچھاڑنا تھا وہ بھی باہمی اختلافات بھلاکر اس کی حکومت گرانے کو یکجا ہوگئیں۔ نئی گیم لگی تو منہ پھٹ اصول پسند مشہور ہوئے مصطفیٰ کمال بھی "پاک سرزمین پارٹی" کی ہٹی بند کرنے کے بعد ایم کیو ایم میں واپس لوٹ آئے۔ ان دنوں اسی جماعت کے کوٹے پر کراچی کے قومی اسمبلی کے ایک حلقے سے منتخب قرار پاکر وفاق میں ایک اہم وزارت سنبھالے ہوئے ہیں۔ صحت عامہ کی نگہبان اس وزارت کو سنبھالے انہیں دو برس گزرنے والے ہیں۔ صحت عامہ کے حوالے سے مگر 1975ء سے اسلام آباد آئے قلم گھسیٹ کو مصطفیٰ کمال کی جانب سے خوش گوار حیرت میں مبتلا کرنے والی کوئی پیش قدمی نظر نہیں آئی۔ جو وزارت سنبھال رکھی ہے اس کی بدولت خلق خدا کی ز ندگی میں بہتری کی راہ نکالنے میں مصطفیٰ کمال صاحب کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ چند روز سے وہ بینڈ، باجہ، بارات کے ساتھ ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہوتی "بریکنگ نیوز" پر چھائے ہوئے ہیں۔

کراچی کے قدیم، تاریخی اور کسی زمانے تک احمد رشدی کے گائے تاریخی گیت"بندرروڑ سے کیماڑی میری چلی رے گھوڑا گاڑی"کی وجہ سے پورے ملک میں مشہورہوئے ایم-اے جناح روڈ پر ایک پلازا تھا۔ نام تھا جس کا گل پلازا۔ چند روز قبل اس میں رات دس بجے کے قریب آگے بھڑک اٹھی۔ اس آگ پر قابو نہ پایا جاسکا۔ اب راکھ کا ڈھیر بن چکی ہے۔ آگ کی وجہ سے مچی بھگدڑ اور ہنگامی حالات میں اخراج کے راستے موجود نہ ہونے کے سبب80کے قریب افراد ملبے کا حصہ بن گئے۔ ان کی باقیات بھی بہت مشکل سے دستیاب ہوئی ہیں۔

کراچی کے تقریباََ قلب میں واقع ایک کمرشل پلازا کا آگ کی وجہ سے تباہ ہوجانا ہر حوالے سے ایک سنگین سانحہ ہے۔ کراچی کے ہر تیسرے یا چوتھے گھر کی اس پلازے سے کئی اعتبار سے جذباتی وابستگی رہی ہے۔ اہلیان کراچی کو لہٰذا یہ حق حاصل ہے کہ وہ گل پلازا میں ہوئی تباہی کے اسباب کا سراغ لگانے اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کریں۔ یہ مطالبہ کرتے ہوئے اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان پیپلز پارٹی 2008ء سے سندھ میں مسلسل برسراقتدار ہے۔ کراچی کی مگر وہ کئی دہائیوں سے "نمائندہ جماعت" تسلیم نہیں کی جاتی تھی۔ 2024ء کے بعد سے البتہ کراچی کی مقامی حکومت بھی اس کے پاس ہے۔ یہ حکومت مل جانے کے بعد آبادی کے اعتبارسے ہمارے سب سے بڑے شہر میں "گل پلازا" کی خاکستری جیسے سانحات کے بارے میں وہ عوام کو مطمئن کرنے والے جذبات فراہم کرنے کی ذمہ داری سے بری قرار نہیں دی جاسکتی۔

جو سوال اس ضمن میں پیپلز پارٹی کی صوبائی اور مقامی حکومت سے اٹھانے چاہئیں تھے وہ مگر اٹھائے ہی نہیں جارہے۔ پیپلز پارٹی کو بلکہ ایک ایسی جماعت کے طورپر پیش کیا جارہا ہے جو غالباََ مریخ سے زمین پر اتر کر کراچی پر بیگانوں کی طرح قابض ہوگئی ہے۔ اس شہر کو لہٰذا پیپلز پارٹی کے قبضے سے "آزاد" کروانے کی بات چل نکلی ہے۔ اس امرپر غور کئے بغیر کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مقامی حکومت کے حوالے سے کراچی پیپلز پارٹی کے قبضے سے "آزاد" ہی رہا ہے۔ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم اسے تقریباََ خود مختار جزیرے کی طرح چلاتی رہی ہیں اور جنرل مشرف کے 9 برسوں میں ایم کیو ایم کی کراچی ہی نہیں بلکہ نام نہاد "شہری سندھ" کے حوالے سے "آزادی وخودمختاری" تو بلکہ دیدنی تھی۔ بطور میئرکراچی مصطفیٰ کمال نے اس تناظر ہی میں نام کمایا ہے۔

سانحہ گل پلازا کے بعد مصطفیٰ کمال کا بنیادی فریضہ یہ بنتا تھا کہ وہ کامل توجہ اور تفصیل سے ہمیں بتاتے کہ بطور میئر کراچی وہ آبادی کے اعتبار سے ہمارے شہر کے مشہور پلازوں میں کونسی خامیاں تلاش کرکے انہیں دور کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ہنگامی حالات خصوصاََ آگ سے نبردآزما ہونے کے لئے کیسی پیش بندیاں درکار ہیں اور ان کا حصول یقینی بنانے کے لئے وہ کونسے اقدامات لیتے رہے جو پیپلز پارٹی نے مقامی حکومت کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ترک کردئیے ہیں۔

اپنے طویل تجربے کی بنیاد پر ہمیں مقامی حکومت کے کلیدی فرائض اور ان کے تناظر میں پیپلز پارٹی کی مبینہ غیر ذمہ داری یا سفاک لاتعلقی کے بارے میں آگاہ کرنے کے بجائے مصطفیٰ کمال ان دنوں ایک ہی مطالبہ دہرائے چلے جارہے ہیں اور وہ یہ کہ کراچی کو سندھ سے جدا کرکے وفاق کے زیر انتظام کردیا جائے۔ اس کے سوا شہر کراچی کو "اچھی گورنمنٹ" فرا ہم کرنے کی کوئی اور ترکیب ان کے زرخیز ذہن میں آکر ہی نہیں دے رہی۔ ان کے بارہا دہرائے مطالبے پر غور کرتا ہوں تو میری پنجابی محاورے والی ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال لاشعوری طورپر یہ پیغام دیتے نظر آرہے ہیں کہ سندھ میں کراچی کے علاوہ دیگر شہروں اور قصبوں میں "گورنمنٹ" گویا مثالی ہے اور اگر سندھ کے دیگر علاقوں میں عوام کو بنیادی شہری سہولتیں اور حقوق میسرنہیں تو انہیں بھی وفاق کا حصہ کیوں نہ بنادیا جائے۔ "کرم" فقط کراچی شہر کے لئے ہی وقف کیوں کیا جارہا ہے۔

کراچی کو پیپلز پارٹی کے مبینہ قبضے سے آزاد کرواکر اسلام آباد جیسا بنانے والے مصطفیٰ کمال کی بنیادی خواہش غالباََ اس شہر کے رہائشیوں کو زیادہ سے زیا دہ نمائندگی فراہم کرنا ہے۔ اس ضمن میں مقامی حکومت ان کی ترجیح ہے۔ مقامی حکومت کا ذکر ہو تو یاد دلانا ہوگا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بارہا اصرار کے باوجود وفاقی حکومت اسلا م آباد میں مقامی حکومت کے انتخابات سے فرار اختیار کرتی رہی ہے۔ اس شہر کو بااختیار مقامی حکومت سے محروم رکھنے کے لئے ایک نیا قانون متعارف کروادیا گیا ہے۔ اس قانون کے اطلاق سے اسلام آباد کو تین حصوں میں بانٹ کر وہاں میٹروپولیٹن حکومت کے بجائے ٹائون کمیٹیوں کے نام سے تقریباََ بے اختیار کمیٹیاں بنادی جائیں گی۔ میئر نام کا دفتر اسلام آباد میں موجود ہی نہیں ہوگا۔

طاقتور مقامی حکومت کے حصول کے بجائے وفاق کا حصہ بن جانے کے بعد کرچی سندھ اسمبلی کی ان 44نشستوں سے بھی محروم ہوجائے گا جن کے اراکین کا چنائو کرتے ہوئے کراچی کے رہائشی حکمرانوں اور سیاستدانوں کو اپنے وجود کا احساس دلاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی سے کامل نفرت کے عالم میں مصطفیٰ کمال مگر عوام کا وہ حق بھی درگزرکرنے کو آمادہ نظر آرہے ہیں۔ کراچی کا رہائشی ہوتا تو مصطفیٰ کمال کے "افکار تازہ" سنتے ہوئے ان سے "ہوئے تم دوست جس کے" کہتے ہوئے "معاف کرواورآگے بڑھو" کا تقاضہ کرتا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Berozgar Beta

By Azhar Hussain Bhatti