Wednesday, 14 January 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Jamhuriat Se Na Khush America Ki Agli Chaal Ki Muntazir Dunya

Jamhuriat Se Na Khush America Ki Agli Chaal Ki Muntazir Dunya

جمہوریت سے ناخوش امریکہ کی اگلی چال کی منتظر دنیا

پوری دنیاکو میرے خیال میں ڈونلڈٹرمپ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود موصوف منافق نہیں۔ نہایت ڈھٹائی مگر خلوص سے یہ حقیقت اجاگر کئے چلے جارہے ہیں کہ ان کا دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتا ملک دنیا کے دیگر ممالک میں جمہوری نظام کو متعارف ومستحکم بنانے میں ہرگز دلچسپی نہیں رکھتا۔ کسی بھی ملک کے قدرتی وسائل مثال کے طورپر تیل اور اب پٹرول کے بغیر گاڑی چلانے اورکمپیوٹر کو جدید تر بنانے کیلئے درکار نایاب معدنیات اس کے لئے بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان کے حصول کے لئے وہ ایسے وسائل سے مالا مال ممالک کے "جاہل" عوام کو جابر گڈریے جیسے سلطانوں کی نگرانی کا یرغمال بنانے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔

پاکستان خوش قسمتی یا بدقسمتی سے ایسے وسائل سے قدرتی گیس کے علاوہ محروم نظر آتا رہاہے۔ اب نایاب معدنیات سے مالا مال ہونے کے امکانات نظر آرہے ہیں۔ مذکورہ امکانات کا ذکر سنتے ہی مجھ جیسے گنہگار رسمِ دُعا بھول جانے کے باوجود ربّ کی پناہ مانگنے کے لئے ہاتھ اٹھالیتے ہیں۔ قدرتی وسائل سے نظربظاہر محرومی بھی 1950ء کی دہائی میں ہمیں "امریکی محبت" سے محفوظ نہیں رکھ پائی تھی۔ سوویت یونین کے تقریباََ ہمسایہ میں برطانوی سامراج کی تربیت یافتہ فوج اور افسر شاہی کے زیر اثر ملک کو جمہوریت سے محفوظ رکھنے کے لئے جنرل ایوب جیسے "دیدہ ور" کی پشت پناہی کا فیصلہ ہوا۔

امریکی صدر کنیڈی کی اہلیہ جیکولین نے موصوف کی "مردانہ وجاہت" کو برسرعام سراہا۔ اپنی وجاہت پرمان کرتے ہوئے ایوب خان امریکی نائب صدر جانسن کے گالوں پر شرارت آمیز چٹکیاں بھرتے رہے۔ انہیں گماں تھا کہ امریکی فیصلہ سازوں میں ان کی پذیرائی پاکستان کو بھارت سے کشمیر آزادکروانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ 1960ء کی دہائی میں لہٰذا وہ آزادی کشمیر کے لئے جاری جدوجہد کی کھلے عام حوصلہ افزائی کرناشروع ہوگئے تو بھارت نے ستمبر 1965ء میں لاہور پر قبضہ کرنے کے لئے جنگ کا آغاز کردیا۔ امریکہ نے اس جنگ کے دوران "غیر جانبدار" رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی غیرجانبداری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوویت یونین آگے بڑھا اور بھارت اورپاکستان کے درمیان معاہدہ تاشقند کروادیا۔

اس معاہدے پر دستخط کے بعد ایوب خان کا دل ٹوٹ گیا۔ حکومتِ پاکستان کے ایک ذہین وفطین مانے سیکرٹری اطلاعات جناب الطاف گوہر مرحوم سے انہیں نے "جس رزق سے آتی ہو، " کے نام سے ایک کتاب لکھوائی۔ دریں اثناء ان ہی کے لگائے آرمی چیف جنرل یحییٰ بھی اپنے نام کے ساتھ صدر کا عہدہ لگانے کو بے چین ہونا شروع ہوگئے۔ ان کی بے چینی نے ایک "عوامی تحریک" کی خفیہ سرپرستی فرمائی اور مارچ 1969ء میں ہمارے پہلے دیدہ ور نے استعفیٰ دے کر جنرل یحییٰ خان کو ہمارے عوام کا "گڈریا" بنادیا۔

یحییٰ خان نے ہمارے ساتھ جو کیا سو کیا۔ امریکہ مگر ان سے بہت خوش رہا۔ بنیادی وجہ اس کی یحییٰ خان کا امریکہ اور چین کے درمیان روابط کے آغاز کے لئے پل کا کردار ادا کرنا تھا۔ صدر نکسن کے چہیتے معاون ڈاکٹر ہنری کسنجر کو خفیہ طورپر پاکستان کی سرزمین سے عوامی جمہوریہ چین بھجوانے کے باوجود جنرل یحییٰ بھی لیکن پاکستان کو متحد رکھنے میں ناکام رہے۔ بھارت نے سوویت یونین کے ساتھ 20سالہ دوستی کا معاہدہ کیا اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لئے بھرپور جنگ مسلط کردی۔

امریکہ اس جنگ کے دوران پاکستان کی حمایت میں محض لفاظی سے کام لیتا رہا۔ اپنے ساتویں بحری بیڑے کو خلیج بنگال کی جانب بھیج کر ہمیں جھوٹی تسلیاں دیں۔ اس کے باوجود پاکستان دولخت ہوگیا تو نکسن حکومت پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت پر دبائو بڑھاتی رہی کہ اس کے "دوست" یحییٰ خان کو پاکستان توڑنے کے الزام میں کٹہرے میں کھڑا کرنے سے باز رہا جائے۔ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے ادوار تک بڑھا تو یہ کالم کسی کتاب کے ایک باب میں بدل جائے گا۔ آج صبح قلم اٹھانے کا واحد مقصد یہ حقیقت یاد دلانا تھی کہ امریکہ نے دنیا کے کسی بھی ملک میں جمہوی تحاریک کی حمایت نہیں کی ہے۔ تحریک انصاف کے چند دوست مگر اس کے برعکس سوچتے رہے۔ امید ہے کہ اب تک ان کا اس ضمن میں پنجابی والا "چاہ" (خواہش) ختم ہوچکا ہوگا۔

مزید عرض یہ بھی کرنا ہے کہ "ملاوٹ کے بغیر" جمہوریت کے حصول کے لئے ہوئی جدوجہد کو اگر امریکی حمایت میسر ہوجائے تو وہ اچھی حکومت کے قیام کے لئے جاری تحریک کو مضبوط کرنے کے بجائے اسے کمزور بنادیتی ہے۔ اپنے دعوے کی تائید کے لئے اپنے ہمسایہ اور برادر ملک ایران پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل کے ہاتھوں لبنان میں "حزب اللہ"کی ہزیمت اور شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کو امریکہ اور اسرائیل نے براہ راست فوجی جارحیت کے ذریعے کمزور تر کیا۔ وہ دفاعی اعتبار سے کمزور ہوا نظر آیا تو اس کی کرنسی دھڑام سے امریکی ڈالر کے مقابلے میں زمین سے جالگی۔ ایرانی کرنسی کے بحران نے تہران کے تاجروں کو اپنی دوکانوں کے شٹرگرانے کو مجبور کردیا۔

"بازار" کئی دہائیوں سے ا یران کے قدامت پرست حکومتی بندوبست کا کلیدی حامی رہا ہے۔ اس کے حکومتی بندوبست سے اُکتا جانے نے متوسط طبقے کے تن خواہ داروں کو بھی سڑکوں پر آنے کو مجبور کیا۔ ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ ان مظاہروں کی اصل وجہ اقتصادی بدحالی تھی۔ امریکہ نے مگر یہ فرض کرلیا کہ ایرانی عوام اس سے اپنے ملک میں جمہوری نظام کے قیام کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ اسرائیل بھی ایسا ہی سوچتے ہوئے مظاہرین کی حوصلہ افزائی میں مصروف ہوگیا۔ ان دونوں کی جانب سے مظاہروں کی ہلاشیری نے سابق شاہ رضا شاہ کے بیٹے کے دل میں بھی یہ امید جگائی کہ ایرانی عوام اس کے جابروالد کے دور کو حسرت سے یاد کررہے ہیں۔ وہ وطن لوٹنے کے لئے پر پھڑ پھڑانے لگا۔

امریکہ، اسرائیل اور رضا شاہ کے فرزند کی جانب سے اپنائے رویے نے مجھے یہ اصرار کرنے کو اُکسایا کہ ایران کے عوام کی بے پناہ اکثریت شدید قوم و وطن پرست ہے۔ وہ کسی اور کے ہاتھوں اپنے ہاں "ناکارہ یا ناقابل برداشت دکھتے" نظام سے "آزاد" ہونا نہیں چاہے گی۔ ایرانی صدر نے بھی اپنے عوام کی فراست اور وطن پرستی پر اعتماد کرتے ہوئے ریاست کو مظاہرین کے خلاف جابرانہ انداز اختیار کرنے سے روکا اور یوں ایران کے موجودہ حکومتی بندوبست کے لئے "صبح گیا یا شام گیا" والا تاثر زائل کردیا۔ امریکہ مگر اب بھی باز نہیں آئے گا۔ وینزویلا کے وسائل پر قابض ہوجانے کے بعد دنیا بھر میں تیل کی تجارت پر کامل اجارہ داری قائم کرنے کیلئے اب اسے ایران کے قدرتی وسائل پر قبضہ جمانا ہے۔ دیکھتے ہیں اس ہدف کے حصول کے لئے اس کی اگلی چال کیا ہوگی؟

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Cricketer Baap, Beta: Himmat o Hoslay Ka Afsana

By Asif Masood