Wednesday, 25 March 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Hamare Zehan Saz Ab Yaqeen Kar Lein Ke Qayamat Tal Gayi Hai

Hamare Zehan Saz Ab Yaqeen Kar Lein Ke Qayamat Tal Gayi Hai

ہمارے "ذہن ساز" اب یقین کر لیں کہ قیامت ٹل گئی ہے

پیر کی شام کئی گھنٹوں تک سرپکڑے انتہائی دُکھی دل کے ساتھ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتا رہا کہ سوشل میڈیا پر چھائے پاکستانی "ذہن ساز" یہ حقیقت تسلیم کرنے کو آمادہ کیوں نہیں ہورہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان "آخری معرکہ"فی الحال ملتوی ہوگیا ہے۔ اچھی خبر یہ بھی ہے کہ ایک غریب اور مقروض ملک ہوتے ہوئے بھی پاکستان نے امریکہ اور ایران کو قیامت خیز معرکہ ٹالنے کے لئے مائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

منگل کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی کم نہ ہوئی ہوتی تو اس وقت امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی 48گھنٹوں کی مہلت ختم ہوچکی ہوتی۔ آبنائے ہرمز نہ کھولنے کا ذمہ ایران کے کاندھوں پر ڈالتے ہوئے وہ دنیا کو "سستے تیل" کی فراہمی یقینی بنانے کے نام پر تہران اور اصفہان جیسے تاریخی اور گنجان آباد شہروں کو بجلی مہیا کرنے والے نظام پر حملے شروع کردیتا۔

ایران نے ممکنہ حملوں کے جواب میں ہمارے کئی برادر خلیجی ممالک میں سمندر کے پانی کو انسانی استعمال کے قابل بنانے والی تنصیبات کے نام لے کر انہیں تباہ کرنے کا اعلان کررکھا تھا۔ مذکورہ اعلان کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت تھی کیونکہ چند ہی روز قبل اس نے جنوبی فارس میں گیس کے ذخائر پر ہوئے حملوں کے جواب میں اسی علاقے کے شمال میں گیس پیدا کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ بدلے کی آگ سے مغلوب ہوکر کئے ان حملوں نے قطر سے دنیا کو فراہم ہونے والی گیس کا 17فیصد سپلائی کے قابل نہ چھوڑا۔ وہاں سے پیداوار بحال کرنے کے لئے اب تین سے پانچ سال درکار ہوں گے۔ مرمت اربوں ڈالر کا تقاضہ بھی کرے گی۔

آبنائے ہرمز کو 48گھنٹے کی دھمکی سے کھلوانے میں ناکام ہوکر امریکی صدر ایران کے شہروں کو بجلی مہیا کرنے والا نظام تباہ کرنے کو ڈٹ جاتا تو لاکھوں انسان پتھر کے زمانے میں لوٹ جاتے۔ دیوار سے لگاایران اس کی وجہ سے خلیجی ممالک میں سمندر کے پانی کو انسانی استعمال کے قابل بنانے والے نظام کی تباہی کو ڈٹ جاتا۔ کامل غضب کے عالم میں ہوئے یہ حملے کویت، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے لاکھوں شہریوں اور رہائشیوں کو صحرائی تپش سے نبردآزما ہونے کے لئے پانی کی ایک بوند سے بھی محروم کردیتے۔

تیل کی ناقابل برداشت قیمت کے نتیجے میں پھیلی مہنگائی اور کسادبازاری ایران اور خلیجی ممالک کے علاوہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال کے علاوہ مشرقی ایشیاء کے انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور فلپائن جیسے ممالک کو کامل قحط سالی اور بے روزگاری کی نذر کردیتی۔ عید کی چھٹیوں کے دوران بستر پر لیٹے ہوئے میں کئی بار امریکی صدر کی 48گھنٹوں کی مہلت والی دھمکی کے عواقب پر غور کرتا تو دم گھٹتا محسوس ہوتا۔ کم از کم تین بار سعودی عرب سے فلپائن تک ممکنہ طورپر پھیلی تباہی اور بدحالی کے بارے میں سوچتے ہوئے بستر سے نکل کر جی کو مطمئن کرنے کے لئے سڑک پر نکل گیا۔

پریشانی کے اس عالم میں پیر کی سہ پہر ختم ہوتے ہی امریکی صدر کی جانب سے لکھا ایک پیغام سوشل میڈیا پر نمودار ہوگیا۔ اپنے مخصوص انداز میں موصوف نے ایران کو "سبق سکھانے" کے ارادے سے گریز کا اعلان کیا۔ ایران پر حملوں کو پانچ دنوں تک ملتوی کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے اس نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے ہیں۔ ان میں ہوئی پیش رفت نے اسے مزید مذاکرات کی امید دلائی ہے اور وہ پائیدار امن کی تلاش میں جنگ ٹالنے کو آمادہ ہے۔

ٹرمپ کا بیان پڑھ یا سن کرربّ کا شکر ادا کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر چھائے ماہرین عالمی امور یہ دعویٰ کرنا شروع ہوگئے کہ امریکی صدر نے جنگ ٹالنے کا اعلان امریکہ کا سٹاک ایکس چینج کھلنے سے چند ہی گھنٹے قبل کیا ہے۔ اسے امید ہے کہ مذکورہ اعلان بازار میں تیزی اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے رحجان کو مہمیز لگائے گا۔ بازار میں لگی رونق اس کے خاندان اور کاروباری دوستوں کے لئے راتوں رات بھاری بھر کم منافع یقینی بنائے گی۔ دریں اثناء رواں ہفتے کے جمعہ تک امریکی فوج کے مزید دستے ایران کے ساحل کے انتہائی قریب پہنچ جائیں گے۔ ہفتے کے آخری دو دنوں کی تعطیل سے قبل ٹرمپ ایران کو سبق سکھانے والی جنگ کا ایک بار پھر آغاز کردے گا۔ جی کو تسلی دینے کی لہٰذا ضرورت نہیں۔

"قیامت ابھی ٹلی نہیں " والا پیغام اجاگر کرنے کے لئے ایران سے آئے ان دعوئوں کو بھی بارہا دہرایا گیا جو مصر تھے کہ ایران کے کسی معتبر، موثر اور بااختیار شخص نے امریکی نمائندوں سے مذاکرات نہیں کئے ہیں۔ ٹرمپ ایران کے جوابی حملوں کے بارے میں دکھائے عزم سے بکری ہوگیا۔ ایران کی جانب سے جو دعوے ہورہے تھے انہیں ٹھنڈے انداز میں ایک مخصوص تناظر میں رکھ کر دیکھنے کی ضرورت تھی۔ "بنکاک کے شعلے" جیسی فلموں اور سازشی کہانیوں سے حظ اٹھانے والے سفاک اذہان نے مگر یہ زحمت اٹھانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ مصر رہے کہ قیامت ٹلی نہیں ہے۔

ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ پھیلنے کی صورت میں نیل کے ساحلوں سے فلپائن تک آباد انسانوں کا مقدر دکھتی تباہی کوخاطر میں نہ لانے والے یہ خبر سن کر مزید تپ گئے کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے مابین معاملات ٹھنڈا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

عالمی امور کی تھوڑی شدھ بدھ رکھنے والا شخص بھی یہ حقیقت نظرانداز نہیں کرسکتا تھا کہ ایران پر مسلط کردہ جنگ کے پہلے ہی روز سے پاکستان کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ایرانی صدر اور وزیر خارجہ سے مسلسل رابطوں میں ہیں۔ خلیج کے برادر ملکوں سے بھی یہ دونوں تقریباََ روزانہ ہی ٹیلی فون پر طویل گفتگو کرتے رہے۔ عیدالفطر سے چند روز قبل سعودی عرب میں چند عرب اور اسلامی ممالک کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا تھا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اس میں شریک تھے۔ مذکورہ اجلاس کے بعد سعودی عرب، مصر، ترکی اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے مابین ایک طویل ملاقات الگ سے بھی ہوئی۔ ان رابطوں اور ملاقاتوں کا کلیدی ہدف ایران پر مسلط کردہ جنگ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ ہی کے نہیں بلکہ جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے بے تحاشہ ممالک پر نازل ہوئی بے یقینی کے خاتمے کی راہیں تلاش کرنا تھا۔ ترکی، مصر اور پاکستان اس تناظر میں اہم ترین کردار ادا کرسکتے تھے۔

پاکستان بلاشبہ بے تحاشہ آبادی والا غریب اور مقروض ملک ہے۔ 25کروڑ کی آبادی والا یہ ملک مگر عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت بھی ہے۔ اس کے دفاعی نظام کی قوت چند ماہ قبل 2025ء کے مئی میں بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران اجاگر ہوگئی تھی۔ ترکی بھی ایک طاقتور ملک ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو کا حصہ ہوتے ہوئے مگر اس کی کچھ محدودات ہیں۔

آبادی کے اعتبار سے عرب دنیا کا سب سے بڑا ملک ہوتے ہوئے مصر 1978ء میں امریکہ کی وساطت سے اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرچکا ہے۔ ان دونوں کے مقابلے میں پاکستان کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے موجود نہیں ہیں۔ نہ ہی ہم اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرنے کو آمادہ۔ موثر اور قابل اعتبار دفاعی نظام کے علاوہ اسرائیل کے بارے میں اپنائی ثابت قدم پالیسی پاکستان کو ایران اور عرب دنیا کی نگاہ میں یکساں طورپر قابل تکریم بنائے ہوئے ہے۔ ٹرمپ بھی اپنے دوسرے دورِ صدارت میں ہمارے خیالات سنجیدگی اور توجہ سے سنتا ہے۔ اسی باعث میں اس وقت ہرگز حیران نہیں ہوا جب اسرائیل کے دفاعی اور جاسوسی اداروں سے ریٹائر ہوکر عالمی امور پر رپورٹنگ کرنیوالے صحافی بارک راود نے خبر دی کہ ٹرمپ کے داماد اور دیرینہ دوست پاکستان کی وساطت سے ایران کے ساتھ رابطے میں تھے۔

ان رابطوں ہی نے پیر کی شام ٹرمپ کی جانب سے ہوئے اعلان کی راہ ہموار کی اور اس امر کے روشن امکانات موجود ہیں کہ رواں ہفتے کے کسی روز جیرڈ کشنر اور سٹیوویٹکوف پاکستان کے دارلحکومت میں ایرانی نمائندوں سے مذاکرات کا آغاز کرسکتے ہیں۔ دو کے ساتھ دو ملاکر چار کا نتیجہ دکھانے والی اس خبر کو بھی ہمارے "ذہن ساز" مشکوک بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ سمجھ نہیں پارہا کہ عالمی امور کے ماہر شمار ہوئے یہ افراد اتنے سفاک کیوں ہیں اور وہ امن کے امکانات رد کرنے کو بے چین کیوں رہتے ہیں۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Rasta Saamne Hai, Nazar Uthane Ki Dair Hai

By Zahra Javed