Thursday, 22 January 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Gul Plaza Ki Aag Se Uthte Sawalat

Gul Plaza Ki Aag Se Uthte Sawalat

گْل پلازہ کی آگ سے اْٹھتے سوالات

بیروزگاری کی مسلط کردہ دربدری کی بدولت اگست 1977ء سے 1978ء کے اگست تک میں کراچی میں مقیم رہا۔ سڑکوں پر گھنٹوں کی خجل خواری اور چائے خانوں میں رات گئے تک دوستوں سے ہوئی بحثوں کے دوران "مہاجر قومیت" کا سوال ابھرتے دیکھا۔ چند ہی ہفتوں بعد احساس ہوا کہ قیام پاکستان کے بعد یوپی اور بہار سے سندھ منتقل ہونے والے گھرانوں کی تیسری نسل ریاست پاکستان سے بیگانہ ہورہی ہے۔ "کوٹہ سسٹم" کی وجہ سے سرکاری ملازمتوں میں ان کا حصہ مضحکہ خیز حد تک سکڑچکا تھا۔ دارالحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے بعد چھوٹی موٹی کلرکی بھی نصیب نہیں ہورہی تھی۔ اس نسل کو گلہ یہ بھی تھا کہ "اسلام کی خاطر" بھارت سے ماضی کے مشرقی پاکستان آئے بہاریوں کو بنگلہ دیش شہری حقوق دینے کو رضا مند نہیں اور پاکستان بھی انہیں اپنے ہاں کھپانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

جو شکایات سنیں وہ کئی حوالوں سے واجب تھیں۔ ان دنوں ملکی سیاست پر چھائے افراد مگر اردو بولنے والوں کی نوجوان نسل کے دلوں میں ابلتے جذبات سے لاتعلق نہیں بلکہ قطعاََ غافل تھے۔ میں اس خدشے میں مبتلا رہا کہ ایک دن یہ جذبات لاوے کی صورت پھٹ سکتے ہیں۔ زیادہ خوف یہ سوچ کر بھی محسوس ہوتا کہ جنرل ضیاء کی حکومت ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی کی نفرت میں نام نہاد "شہری" اور "دیہی" سندھ میں تقسیم کے جذبات کو مکاری سے بھڑکارہی ہے۔ بالآخر 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں پیر پگاڑا کے مرید محمد خان جونیجو وزیر اعظم پاکستان نامزد ہوئے۔ ان کی نامزدگی کے بعد سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہونے سے قبل ہی پیر صاحب کے ایک اور مرید غوث علی شاہ کو بھی سندھ کا وزیر اعلیٰ نامزد کردیا گیا۔

اپنی حلف بر داری کے بعد شاہ صاحب نے سندھ اسمبلی میں جو تقریر فرمائی اسے میں نے اسلام آباد سے کراچی جاکر اسلام آباد کے انگریزی روزنامہ "مسلم" کے رپورٹر کی حیثیت میں پریس گیلری میں بیٹھ کر سنا۔ شاہ صاحب شکوہ کناں تھے کہ سندھ خصوصاََ کراچی میں پاکستان کے دوسرے صوبوں سے لوگ روزگار کی تلاش میں آئے چلے جارہے ہیں۔ آبادی کا تناسب اس کی وجہ سے بگڑرہا ہے۔ بات فقط وہیں تک محدود نہیں۔ کراچی مختلف ثقافتی جزیروں میں تبدیل ہورہا ہے۔ سندھ حکومت کو لہٰذا دیگر صوبوں سے آنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔

شاہ صاحب کی تقریر سنتے ہوئے میں حیران رہ گیا۔ وہ پیرپگاڑا کی مسلم لیگ کے نمائندہ تھے۔ پاکستان کی "والدہ" تصور ہوئی یہ جماعت نسلی اور لسانی تقسیم سے بالاتر ہونے کی دعوے دار تھی۔ اس کی دانست میں اسلام پاکستان کے تمام نسلی گروہوں کو یکجا رکھنے کو کافی ہے۔ اس کی صفوں سے نامزد ہوئے وزیر اعلیٰ کی تقریر لہٰذا حیران نہیں بلکہ پریشان کن تھی۔ اگست 1977ء سے 1978ء تک میرے دل میں جمع ہوئے خدشات یاد آنے لگے۔ انہیں ذہن میں رکھتے ہوئے ایک دو کالم لکھے اور اسلام آباد واپس لوٹ آیا۔

اسلام آباد لوٹنے کے چند ہی ماہ بعد سندھ میں وقتاََ فوقتاََ نسلی فسادات پھوٹنا شروع ہوگئے۔ "شہری" اور "دیہی" سندھ کی تفریق کے علاوہ "پنجابی پٹھان اتحاد" نامی تنظیم بھی وجود میں آگئی۔ شہر کراچی میں لیکن بتدریج الطاف حسین کی قیادت میں قائم ہوئی ایم کیو ایم اجارہ دار کی حیثیت حاصل کرنا شروع ہوگئی۔ میں سادہ لوح اس خوش گمانی میں مبتلا رہا کہ نچلے متوسط طبقے کے پڑھے لکھے طبقات سے ابھری یہ جماعت مقامی طورپر منتخب ہوئی حکومتوں کی بدولت پاکستان میں لندن جیسی شہری حکومت متعارف کرواسکتی ہے جہاں پاکستان سے لندن منتقل ہوئے ایک گھرانے کا صادق خان برطانیہ کے دارالحکومت کا بااختیار میئر منتخب ہوسکتا ہے۔ خالصتاََ شہری مسائل پر رنگ ونسل سے بالاتر ہوکر توجہ مرکوز رکھنے والی حکومت۔ شہر کے ہر باسی کو اپناسمجھنے والی شہری حکومت کی جو توقع میرے سادہ دل نے باندھی وہ بالآخر احمقانہ ثابت ہوئی۔ مہاجر قوم پرستی کو ایم کیو ایم نے فسطائی انداز میں اپنالیا۔ بھتہ اور بوری بند لاشیں آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے اور بے تحاشہ حوالوں سے "بین الاقوامی" شمار ہوتے کراچی کی شناخت ہونے لگے۔

پڑھے لکھے نچلے متوسط طبقے سے ابھری قیادت کا نسل پرست فسطائیت کا غلام بن جانا ہمارے ہاں سنجیدگی سے زیر بحث نہیں آتا۔ کراچی میں جب بھی گل پلازا میں لگی آگ جیسا کوئی سانحہ ہوتا ہے تو سارا الزام پیپلز پارٹی کے سردھردیا جاتا ہے۔ سندھ میں یہ جماعت 2008ء￿ سے مسلسل برسراقتدار ہے۔ شہرکی مقامی حکومت بھی اب اس کے جواں سال میئر مرتضیٰ وہاب کے پاس ہے۔ 2026ء میں بھی اگر کراچی 1990ء کی دہائی جیسا ہی دِکھ رہا ہے تو پیپلز پارٹی کو اس تناظرمیں بری الزمہ ٹھہرایا نہیں جاسکتا۔ پیپلز پارٹی کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے واجب سوالات مگر پوچھے نہیں جارہے۔

سانحہ گل پلازا کے حوالے سے فقط تعصبات بھری تقاریر ہورہی ہیں۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کو موردالزام ٹھہرانے میں مصروف ہیں۔ اس سوال کا جواب فراہم کئے بغیر کہ شہر کراچی کے تاریخی اور تقریباََ مرکزی ایم-اے جناح روڈ پر تعمیر ہوئے گل پلازا کا مالک کون تھا۔ اس کا اصل ڈیزائن کیا تھا۔ جو ڈیزائن منظور ہوا اس کی کس برس کس کے حکم کے تحت بے دریغ خلاف ورزی کرتے ہوئے یک منزلہ عمارت کو تین منزلہ پلازے میں بدل دیا گیا۔ پلازا بن جانے کے بعد کس ادارے اور شخص کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس امر کو یقینی بناتا کہ اس عمارت میں ناگہانی حالات سے نبردآزما ہونے کے لئے آگ بجھانے کا بنیادی اور ابتدائی سامان اور ہنگامی صورتحال میں اخراج کے راستے موجود ہیں یا نہیں۔

ایک دوسرے کو موردِ ا لزام ٹھہراتے ہوئے یہ دونوں جماعتیں عام شہریوں کو یہ بتانے کی زحمت بھی نہیں کررہیں کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق تقریباََ 3کروڑ کی آبادی تک پہنچے کراچی میں فائربریگیڈ کی کیا "اوقات" ہے۔ ہمہ وقت پھیلتے شہر میں کسی عمارت میں آگ لگ جانے کی خبر ملتے ہی آگ بجھانے والا عملہ کتنے وقت میں جائے حادثہ تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے پاس آگ پر قابو پانے کے جدید ترین آلات موجود ہیں یا نہیں۔ آخری مرتبہ فائربریگیڈ کب ایسی مشق سے گزرا تھا جو اسے ہنگامی حالات سے نبردآزماہونے کے لئے تیار ثابت کرے۔

بنیادی سوالات کو نظرانداز کرتے ہوئے پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کو اس کا ماضی یاد دلائے چلے جارہی ہے۔ ایم کیو ایم سانحہ گل پلازا کو "شہر کراچی کو پیپلز پارٹی کے قبضے سے آزاد" کروانے کا ٹھوس جواز بناکر لوگوں کے سامنے رکھ رہی ہے۔ ناقابل برداشت حقیقت یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کو نااہلی اور بدعنوانی کی حتمی علامتیں ٹھہراتے ہوئے بھی یہ دونوں جماعتیں "وسیع تر قومی مفاد" میں شہباز حکومت کی چھتری تلے یکجا ہیں۔

2008ء سے آج تک ایک دوسرے کو برسرعام للکارنے اور برابھلاکہنے کے باوجود یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ناخوش میاں بیوی والا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اپنی کوتاہیوں کے اعتراف کے بجائے ہم بے وقعت صحافیوں سے یہ امید باندھی جارہی ہے کہ ہم "شہر کراچی" کو "اچھی حکومت" فراہم کرنے کے نسخے تجویز کریں۔ "حق" کا ساتھ دیں اور نااہل وبدعنوان افراد کو بے نقاب کریں۔ مجھ جیسوں کا لکھا اگر کسی قابل ہوتا تو سانحہ گل پلازا شاید نمودار ہی نہ ہوتا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

China-Africa Awami Rawabit: Aalmi Janoob Ke Liye Umeed Ki Nai Kiran

By Asif Masood