Monday, 12 January 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Farhatullah Babar Ki Kitab Aur Benazir Ki Shahadat

Farhatullah Babar Ki Kitab Aur Benazir Ki Shahadat

فرحت اللہ بابر کی کتاب اور بے نظیر کی شہادت

پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ فرحت اللہ بابر صاحب انتہائی قریب رہے ہیں۔ بطور رپورٹر لیکن مجھے ان سے کبھی اندر کی بات، جاننے کی جرأت ہی نہیں ہوئی۔ ان کا منکسرالمزاجی کے ساتھ گرم جوش مصافحے کے بعد فوراً دوسرے کاموں میں مصروف ہوجانا بہت مہذب انداز میں پیغام دیتا کہ وہ گپ شپ کے لیے میسر نہیں۔ برسوں کی شناسائی کے باوجود ان کے اپنے کام سے کام رکھنے کے انداز نے مجھے ان کو دوستوں کی صف میں شمارکرنے کا حوصلہ ہی نہ دیا۔

2018ء کے برس سے مگر جب عمران حکومت کے دوران مجھ پر کڑاوقت شروع ہوا تو بتدریج یہ دریافت کیا کہ ان کا رویہ میرے ساتھ بہت مشفقانہ ہے۔ غالباً اسی باعث انھوں نے گزشتہ برس آصف علی زرداری کے بارے میں جو کتاب لکھی تھی اسے بہت محبت سے مجھے بھجوایا۔ ان کی مذکورہ کتاب میں چند ایسے فقرے بھی تھے جنھیں چغل خوروں نے آصف علی زرداری کی ہتک شمار کیا۔ اس کتاب کو لیکن دو مرتبہ غور سے پڑھنے کے بعد اصرارکرتا ہوں کہ بابر صاحب کی کتاب کسی بھی حوالے سے زرداری صاحب کی تحقیر نہیں کرتی۔ چغل خور درباری مگر مردہ بھائی کا گوشت، کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔

آصف صاحب پر لکھی کتاب کے بعد بابر صاحب نے ایک کتاب منیر احمد خان کے بارے میں بھی لکھی ہے۔ وہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے بانیوں میں نمایاں ترین تھے۔ بابر صاحب نے ان کے ساتھ صحافیوں سے رابطے استوار رکھنے کا فریضہ کئی برسوں تک انجام دیا۔ منیر احمد خان میرے سسر مرحوم ڈاکٹر محمود سلیم جیلانی کے پرانے دوستوں میں شامل تھے۔ ان کی بدولت منیر احمد خان کی زندگی سے جڑی کئی کہانیاں سنی ہیں۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ان کے کردار کو میری دانست میں مناسب انداز میں سراہا نہیں گیا۔ شاید بابر صاحب نے اپنی کتاب میں اس کا ازالہ کردیا ہوگا۔ منیر احمد خان صاحب کے بارے میں فرحت اللہ بابر صاحب کی لکھی کتاب جب مجھے ملی تو میں اپنے بلڈپریشر کے بے قابو ہونے سے گھبرا چکا تھا۔ کتاب کئی روز میرے سرہانے پڑی رہی اور میں دن میں کئی بار اپنا بلڈپریشر چیک کرنے ہی میں مصروف رہا۔ اب حالات بہتر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ امید تھی کہ ہفتہ اتوار کی چھٹیوں میں منیر صاحب پر لکھی کتاب پڑھوں گا۔

ہفتے کی دوپہر مگر گھروالوں کے ساتھ کھانے کی میز پر بیٹھاتھا تو دروازے کی گھنٹی بجی۔ ملازم باہر گیا تو پیکٹ میں لپٹی ایک کتاب لے آیا۔ میں نے ہاتھ روک کر بھیجنے والے کا نام دیکھا تر بابر صاحب کا نام لکھا تھا۔ یہ سوچتے ہوئے خوشی سے کھانا ختم کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی کہ انھوں نے اب کی بار یقیناََ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے بارے میں لکھی کتاب بھجوائی ہوگی۔ کھانا چھوڑ کر اپنے کمرے میں لوٹ آیا۔ ہاتھ دھوتے ہی کتاب کو ان پیک کیا تو واقعتابے نظیر بھٹو پر لکھی بابر صاحب کی کتاب تھی۔ She Walked into the Fire اس کا عنوان ہے۔

پہلی نظر میں یہ عنوان تھوڑا ڈرامائی محسوس ہوتا ہے۔ غور کیا کہ تو نجانے کیوں یہ طے کرنے کو مجبور ہوا کہ مذکورہ عنوان کے ذریعے بابر صاحب درحقیقت فیض احمد فیض کی بیان کردہ اس دھج، کا ذکر کررہے ہیں جس میں ایک لمحے کو بھی گھبرائے بغیر مقتل کی جانب بڑھا جاتا ہے۔ ایک پیغام اس کتاب کے عنوان سے مجھے یہ بھی ملا کہ 2007ء میں طویل جلاوطنی کے بعد پاکستان لوتے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو کے دل ودماغ میں یہ خیال بیٹھ چکا تھا کہ وہ تیسری مرتبہ پاکستان کا وزیر اعظم بننے کے لیے وطن واپس نہیں آرہیں۔ وطن عزیز کی مٹی درحقیقت ان کے خون کی منتظر ہے اور وہ اپنی دھرتی ماں کی خاطر یہ لہو ادا کرنے کو دل وجان سے آمادہ تھیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی معاونت میں طویل برس گزارنے کے بعد بابر صاحب نے ان کے بارے میں لکھی کتاب کو جوعنوان دیا اس کی ایک سے زیادہ توجیحات پیش کی جاسکتی ہیں۔ میری تمنا تھی کہ فوراً ہی کتاب پڑھنا شروع کردوں۔ اس جانب بڑھا تو کتاب شروع ہونے سے پہلے خالی صفحے پر بابر صاحب کے ہاتھ سے لکھا ایک پیغام تھا۔ انھوں نے مجھے قابلِ اعتبار اور باخبر صحافی، قرار دیتے ہوئے کرم فرمایا مگر ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا کہ اس کتاب میں انھوں نے ایک پیغام کا ذکر کیا ہے جو محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام دسمبر2001ء میں فرحت اللہ بابر صاحب کے ذریعے بھجوایا گیا تھا۔ مصنف کے خیال میں جو پیغام ان کے ذریعے بھجوایا گیا وہ انتہائی غور طلب ہے اور کئی حوالوں سے اس دور کا سبق آموز خلاصہ بھی جو محترمہ بے نظیر بھٹو کا مقدر بنا۔

بابر صاحب کی محترمہ بے نظیر بھٹو پر لکھی کتاب 331صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کو مجھے بھجواتے ہوئے مگر انھوں نے ایک اہم پیغام کی نشاندہی کردی تھی۔ کتاب بھول کر لہٰذا وہ پیغام ڈھونڈنے کو خواہش جاگ اٹھی۔ اسے ڈھونڈنے کے لیے کتاب کے موضوعات کا تعارف دیکھا تو پتا چلا کہ مذکورہ پیغام باب 13میں موجود ہے۔ اسے بابر صاحب نے: دسمبر2021ء کی ٹھنڈ میں دی گئی وارننگ، لکھا ہے۔ تنبیہ شاید وارننگ کا مناسب اردو ترجمہ ہوسکتا ہے۔ دسمبر2021ء کی ٹھنڈ کے تناظر میں لیکن وارننگ مجھے نیند کے مقابلے میں زیادہ پراثر محسوس ہوا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دسمبر2021ء میں بابر صاحب کی وساطت سے محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھجوائے پیغام کو میں فوراً صفحہ77کھول کر پڑھنا شروع ہوجاتا۔ مجھے کتاب بھجواتے ہوئے لیکن بابر صاحب نے یہ بھی لکھا تھا کہ ان کے ذریعے بھجوایا پیغام پڑھنے والوں کو محترمہ کے مقدر بنے دور کی گہرائی یا گھمبیرتا کو سمجھنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ اس پہلو کو نگاہ میں رکھتے ہوئے میں کتاب کے ابتدائی ابواب پڑھنا شروع ہوگیا۔ فیصلہ یہ کیا کہ رات سونے سے قبل بابر صاحب کی وساطت سے بھجوائے پیغام کی گھمبیرتا شاید زیادہ آسانی سے سمجھ آجائے۔

ہفتے کی رات بستر میں دبک کر سرہانے رکھی کتاب اٹھائی اور اس کا صفحہ77نکال کر دسمبر کی ٹھنڈک میں دی وارننگ والا باب پڑھنا شروع ہوگیا۔ جو باب پڑھا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نائن الیون ہوگیا تو امریکا میں رہائش پذیر ایک پاکستانی امریکن جس کا نام انھوں نے محض "T"لکھا ہے محترمہ سے رابطے میں مصروف ہوگیا۔ وہ شخص امریکا کی ڈیپ اسٹیٹ، کے گور کھ دھندے سے گہری حد تک وابستہ تھا۔ اس کے پاس امریکا کے فیصلہ سازوں کا محترمہ کے لیے ایک ضروری پیغام تھا۔ وہ اسے محترمہ تک جلد از جلد پہنچانا چاہتا تھا۔ اس سے براہِ راست ملنے کے بجائے محترمہ نے فرحت اللہ بابر صاحب کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ پراسرار Tسے ملنے واشنگٹن جائیں۔ اس بندے کو جانچیں اور نہایت توجہ سے اس کا پیغام سنیں۔

اتفاق دسمبر 2021ء میں بابر صاحب کے داماد اور بیٹی واشنگٹن میری لینڈ میں رہائش پذیر تھے۔ بیٹی اور داماد سے ملنا ایک مناسب کور، تھا۔ اس کافائدہ اٹھاتے ہوئے وہ پرسرار Tسے ملے۔ T نے انھیں بتایا کہ وہ نائن الیون کے بعد امریکا کی ڈیپ سٹیٹ کے بنائے ایک کمیشن، سے وابستہ ہے۔ اس کمیشن، کا مقصد پاکستان سے مذہبی انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنا ہے۔ بابر صاحب نے پراسرار T سے متعدد ملاقاتوں کے دوران اسے بتادیا کہ وہ محترمہ کی جانب سے محض پیغام وصول کرنے بھیجے گئے ہیں۔ انھیں جو پیغام دیا جائے گا اس کے نتیجے میں ہاں یا نہ کہنا اس کے بس میں نہیں۔

پراسرار T بابر صاحب کو کمیشن، کے دیگر لوگوں سے (غالباً اپنا اعتبار جمانے کے لیے) ملوانا چاہتا تھا۔ بابر صاحب مگر غچا دے گئے۔ اس سے ملاقات ہی کافی سمجھی۔ بابر صا حب سے ملاقاتوں کے دوران اسے ان کے نوٹس لینے پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔ دو یا تین ملاقاتوں کی بدولت دیے پیغام کا خلاصہ یہ تھا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں نہایت کمزور ہیں۔ ان کے رہنما اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں اور عوام انھیں بدعنوان بھی تصور کرتے ہیں۔ واشنگٹن کو لہٰذا قطعاً امید نہیں کہ وہ امریکا کے پاکستان سے مذہبی انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے والے مشن میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ فریضہ فقط ایک جنرل ہی ادا کرسکتا ہے اور واشنگٹن کی نگاہ میں وہ جنرل مشرف ہیں۔ امریکی حکام سے روابط کے دوران جنرل مشرف نے بھی ان سے پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی کو جڑ سے اکھاڑنے والے منصوبے میں کامل ساتھ دینے کا وعدہ کرلیا۔

جنرل مشرف کی امریکی منصوبے کی تکمیل کے لیے اہمیت سمجھانے کے بعد موصوف کی جانب سے تعاون کے دعوے کو دہراتے ہوئے پر اسرار T نے بابر صاحب کو پیغام یہ دیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ 2007ء سے قبل پاکستان آنے کا سوچیں بھی نہیں۔ امریکا کی اولین ترجیح فی الوقت مذہبی انتہا پسندی اور جارحیت (دہشت گردی) کا خاتمہ ہے۔ جمہوریت کی بحالی ہرگز مقصود نہیں۔ بابر صاحب بارہا پراسرارT کو یاد دلاتے رہے کہ 2007ء چھے سال دور ہے۔ پراسرار T مگر ہاں میں جواب دینے کے بعدبھی دہراتا رہا کہ محترمہ کو اس برس سے قبل پاکستان لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

25سال گزرجانے کے بعد دسمبر 2001ء کے دورن ملے پیغام کا ذکر کرتے ہوئے بابر صاحب پرخلوص تاسف سے اعتراف کرتے سنائی دیے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی قد آور جمہوری قیادتوں کے مقدر بیرونی دارالخلافوں میں بیٹھے افراد اپنے فیصلوں کے قابل عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں سوچے بغیر ازخود طے کرلیتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے وہ اپنے فیصلوں کے عواقب سے بھی رعونت بھرے دماغ کی بدولت بے خبر رہتے ہیں۔ محترمہ نے مگر پیغام کو سنجیدگی سے لیا اور وہ 2007ء ہی میں وطن لوٹیں۔ اس کے بعد کیا ہوا وہ تاریخ ہے۔ اسے دہرانے سے کیا حاصل۔ دسمبر2001ء میں دیے پیغام نے لیکن مجھے بہت کچھ یاد دلایا۔ ان سب کا ذکر آئندہ کالموں میں۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Iran Mein Jari Ehtejaj, Mumkina Asrat o Nataij

By Mushtaq Ur Rahman Zahid