Wednesday, 21 January 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Eteraf Se Kuch Sabaq Kasheed Karne Ki Meri Koshish

Eteraf Se Kuch Sabaq Kasheed Karne Ki Meri Koshish

"اعتراف" سے کچھ سبق کشید کرنے کی میری کوشش

عرض کئے چلے جارہا ہوں کہ ان دنوں وطنِ عزیز میں سیاست نہیں محلاتی سازشیں ہورہی ہیں۔ محلاتی سازشوں کے کلیدی کرداروں تک مجھے رسائی حاصل نہیں۔ ہو بھی جائے تو ان کی لگائی تہمتوں کو "صحافت" کے ذریعے بیان کرنے کی فن کاری مجھے دستیاب نہیں ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ عملی سیاست کے تقاضوں سے کنارہ کش ہوئے درباریوں کی آنیوں اور جانیوں کے بارے میں لکھوں تو کیا لکھوں۔

ہماری سیاست اور صحافت بے وقعتی کے جس مقام پر اب پہنچی ہوئی ہے وہ "اچانک" نہیں آیا۔ ایک روز قبل ہی وہ مصرعہ لکھ چکا ہوں جو یاددلاتا ہے کہ "حادثہ" یکدم نہیں ہوتا۔ وقت اس کی برسوں سے پرورش کررہا ہوتا ہے۔ ہماری سیاست وصحافت کو بے وقعت بنانے میں ٹھوس وجوہات حال ہی میں شائع ہوئی چند کتابوں میں مرتب کردی گئی ہیں۔ فرحت اللہ بابر صاحب کی محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں انگریزی زبان میں لکھی کتاب نہایت احتیاط سے چند سنگ میلوں کا ذکر کرتی ہے۔ انہیں پڑھنے کے لئے انگریزی نثر کے ایمائی انداز سے تھوڑی واقفیت درکار ہے۔

ان کے برعکس سینئر سیاستدان راجہ منور احمد صاحب کی آپ بیتی نما "اعتراف" نہایت برجستہ ہے۔ اسے "ایڈیٹنگ" سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ اسی باعث کبھی کبھار یہ کتاب پڑھتے ہوئے آپ کو کئی باتیں دہرائے جانے کا خیال آتا ہے۔ تحریر کی سلاست میں اگرچہ دہرائی باتوں میں بھی کئی سبق پوشیدہ ہیں۔ میرا آپ سے وعدہ تھا کہ آنے والے چند دنوں تک میں دورِ حاضر کی دونمبری سیاست سے توجہ ہٹاکر ان اسباق پر توجہ دینا چاہوں گا جو میں نے فرحت اللہ بابر اور راجہ صاحب کی کتاب سے اپنے تئیں اخذ کئے ہیں۔ آج کا کالم "اعتراف" کے اس باب سے کچھ سبق کشید کرنے کی کوشش ہے جو صفحہ نمبر274سے "مجھے یاد ہے ذرا ذرا!" کے عنوان سے شروع ہوتا ہے۔

اس باب میں بیان کردہ حقائق کی جانب بڑھنے سے قبل یاد دلانا چاہوں گا کہ پاکستانی عوام کی بے پناہ اکثریت آج بھی اس گماں میں مبتلا ہے کہ جنرل ضیاء اور ان کا ادارہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا خاتمہ نہیں چاہتے تھے۔ وہ بلکہ "مشکور" محسوس کرتے تھے کہ بھٹو صاحب سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بھارت میں رکھے قیدیوں میں سے کسی ایک پر بھی مقدمہ چلوانے کو تیار نہ ہوئے اور سب کی باعزت رہائی پر ڈٹے رہے۔ اس کے علاوہ مشرقی پاکستان سے جدا ہوئے مغربی پا کستان کو انہوں نے چند ہی برسوں میں "نیا پاکستان" بنادیا۔

1974ء کے برس لاہور کے تاریخی شہر میں اسلامی سربراہان کی کانفرنس انتہائی شاندار انداز میں منعقد کروائی۔ ایک دوسرے سے شدید نفرت کے باوجود سعودی عرب کے شاہ فیصل اور لیبیا کے کرنل معمر قذافی اس میں شریک ہوئے۔ مذکورہ کانفرنس سے قبل جو عرب-اسرائیل جنگ ہوئی بھٹو حکومت نے اس کے دوران کھل کر شام جیسے ملکوں کا ساتھ دیا۔ عرب ملکوں نے امریکی اور برطانوی کمپنیوں کے تیل کو قومیاکر اس کی اسرائیل کے حامی ممالک ترسیل کو دشوار تر بنانے کا جو فیصلہ کیا اس میں بھی وہ عرب دنیا کے ساتھ کھڑے رہے۔

عرب دنیا نے بھٹو صاحب کی فراست بھری حمایت کو پاکستان کے مزدوروں اور ہنر مندوں کو اپنے ہاں رزق کمانے کے لئے کھلے دل سے خیرمقدم کیا۔ تارکین وطن کی محنت نے چند ہی برس میں پاکستان کے بازاروں میں رونق لگادی۔ ہمارے ہر بڑے شہر میں تارکین وطن کے خاندان اپنے دیہاتوں سے منتقل ہونے کے بعد روزانہ کی بنیاد پر متعارف ہوئی "ہائوسنگ سوسائٹیوں " میں رہنے لگے۔ زندگی میں تغیر نے بھٹو صاحب کو مقبول تر بنادیا۔ یہ الگ بات ہے کہ مصر کی طرح متوسط طبقے میں شامل ہوکر ایسے افراد مزید قدامت پسند اور "اسلامی" بھی ہونا شروع ہوگئے۔ ان کے سماجی مرتبے کی تبدیلی مگر آج کا موضوع نہیں۔ توجہ اس تاثر پر مرکوز رکھنا ہے کہ جنرل ضیاء اور ان کا ادارہ واقعتا بھٹو حکومت سے بہت خوش تھے۔

5 جنوری 1977ء کو لیکن وہ مارشل لاء لگانے کو اس لئے مجبور ہوئے کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو کو جنوری 7 کے روز دھاندلی زدہ انتخابات کروانے کی وجہ سے ان کے سیاسی مخالفین کسی بھی صورت قبول کرنے کو رضا مند نہیں تھے۔ متحدہ اپوزیشن نے ان کی نگرانی میں دوبارہ انتخابات کروانے کی پیش کش بھی ٹھکرادی تھی۔ اسی باعث فوج 4جولائی 1977ء کو بطور ادارہ حکومت پر قبضہ کرنے کو مجبور ہوئی تاکہ لوگ ان کی نگرانی میں ہوئے انتخابات کو غیر جابندارانہ اور شفاف سمجھتے ہوئے قبول کرلیں۔ مجھے یاد ہے کہ 4جولائی1977ء سے تقریباََ دو ہفتے تک مجھے پڑھے لکھے دانشوروں کی اکثریت یہ سمجھاتی رہی کہ جنرل ضیاء نے "بھٹو صاحب کی مرضی سے" اقتدار پر قبضہ کیا ہے۔

ان کے سیاسی مخالفین اب اقتدار کے لالج میں متحد نہیں رہ پائیں گے۔ جو بات سنی اس کی تصدیق اس بہت بڑے جلوس کی صورت مل گئی جو بھٹو صاحب کی مارشل لاء کے نفاد کے بعد لاہور آمد پر دیکھنے کو ملا تھا۔ لاہور کا شیر پائو پل انسانی سمندر کی صورت نظر آرہا تھا۔ وہاں جمعیت العلمائے پاکستان کے اہم رہ نما مولانا شاہ احمد نورانی کی ایک بدتمیز گروپ کے ہاتھوں تذلیل بھی ہوئی۔ وقت گزر گیا تو "سیانے" اصرار کرنے لگے کہ مارشل لاء کے نفاد کے بعد لاہور میں بھٹو صاحب کا جذباتی خیرمقدم جنرل ضیاء کو یہ قائل کرنے کا سبب بنا کہ "قبر ایک ہے اور ا میدوار دو"۔ جنرل ضیاء کو اپنی زندگی یقینی بنانے کے لئے بھٹو صاحب کو کسی بھی صورت قبر کے سپرد کرنا ہوگا۔

"اعتراف" کا مجھے یاد ہے ذرا ذرا!" والا باب پڑھا تو دریافت ہوا کہ بھٹو حکومت کے خلاف عسکری حلقوں کے تحفظات 1975ء کے اوائل ہی میں رونما ہونا شروع ہوگئے تھے۔ اس برس کے آغاز میں نیشنل ڈیفنس کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے اعلیٰ درجے کے نوجوان فوجی افسران معمول کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے دورے کے سلسلے میں لاہور سیکرٹریٹ آئے۔ ان کے وفد کی ان دنوں پنجاب کے وزیر اعلیٰ حنیف رامے سے طویل ملاقات ہوئی۔ رامے صاحب کے خصوصی معاون کی حیثیت میں راجہ صاحب بھی اس نشست میں موجود تھے۔

اس محفل کا تذکرہ کرتے ہوئے راجہ صاحب فرماتے ہیں کہ وہاں آئے وفد میں شامل ایک بریگیڈئیر صاحب نے پورے استدلال کے ساتھ چیف منسٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی جماعت کا کبھی ایک اہم سیاسی وعدہ تھا "جمہوریت ہماری سیاست ہے، طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں "۔ (بھٹو) حکومت کو قائم ہوئے چار سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ وفاق کے کسی صوبے میں لیکن پیپلز پارٹی مقامی انتخابات نہیں کرواسکی ہے۔ را جہ صاحب کے بقول بریگیڈئر صاحب کے بعد نوجوان فوجی افسروں نے یکے بعد دیگرے بھرپور فنِ خطابت کو بروئے کار لاتے ہوئے سوالات کی "ماردھاڑ"شروع کردی۔

ڈیرہ غازی خان کے ایک رکن قومی اسمبلی کے قتل سے لیاقت باغ فائرنگ کیس، اجمل خٹک جیسے رہ نمائوں کا کابل میں چلے جانا، خواجہ رفیق کا لب سڑک قتل، ضمنی انتخابات میں مسلسل دھاندلی، کراچی میں بڑھتی ہوئی لسانی کشیدگی اور بلوچستان میں بغاوت جیسے موضوعات پر تلخ اورتفصیلی سوالات ہوئے۔ وزیر اعلیٰ حنیف رامے نے متاثر کن تحمل سے انہیں سنامگر اجلاس ختم ہوتے ہی دفتر پہنچ کر اپنے سیکرٹری شاہد حامد کو بتایا کہ "فوجی افسروں نے آج تو ہماری لت پت اتاردی ہے"۔

وزیر اعلیٰ نے شاہد حامد کو حکم دیا کہ میٹنگ میں اٹھائے سوالات ہوبہو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو فی الفور بھجوائے جائیں۔ دو دن گزرجانے کے باوجود چیف سیکرٹری نے وہ رپورٹ مرتب نہ کی۔ وزیر اعظم کو البتہ دیگر ایجنسیوں سے مذکورہ ملاقات کی تمام رپورٹ مل چکی تھی۔ "اعتراف" کا یہ باب پڑھتے ہوئے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ 1975ء کا آغاز ہوتے ہی ریاست کا طاقتور ادارہ بھٹو صاحب کے اندازِ حکومت سے اُکتاچکا تھا۔ نیشنل ڈیفنس کالج کے وفد کی لاہور میں کھلے عام گفتگو بلکہ اس کی جانب سے بھیجا پیغام تھا کہ سب اچھا نہیں ہے۔

ان ٹھوس اشاروں کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو کو ان کے چمچوں نے قائل کرنا شروع کردیا کہ وہ اپوزیشن کی صفوں میں بددلی، انتشار اور ابتری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے سے قبل ہی جنوری 1977ء میں عام انتخابات "اچانک" کروا لینے کے بعد دو تہائی اکثریت حاصل کرلینے کی بدولت ملک کے طاقتور صدر بن جائیں۔ میں یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہوں۔ بھٹو صاحب کو گھیرے میں لئیخوشامدیوں کو معروضی حالات کا علم نہیں تھا۔ محلاتی سازشوں کے ذریعے مگر کامل اقتدار واختیار کے ساتھ اقتدار میں براجمان "بادشاہ" کو خوشامدی ورد ہی دردناک انجام تک پہنچایا کرتے ہیں۔ طاقت کے خمار میں حکمران تاریخ کے دیگر "ناقابل تسخیر" دِکھتے لوگوں کے انجام کو یاد رکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔

پس نوشت: شاہد حامد صاحب جوپنجاب کے وزیر اعلیٰ حنیف رامے کے 1975ء میں چیف سیکرٹری تھے، مرحوم صدر فاروق لغاری کے قریبی دوست بھی تھے۔ انہیں موصوف نے پنجاب کا گورنر بھی بنایا تھا اور نواز شریف کی دوسری حکومت کے ساتھ ان کا پہلا پھڈا انہیں مذکورہ عہدے سے ہٹانے کی وجہ سے ہواتھا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Column Nigaron Ke Sath

By Najam Wali Khan