اعتراف: پاکستان کی مفصل تاریخ

ماضی کے سیاستدانوں کے بارے میں حقارت بھرے جذبات سے ابلتی نوجوان نسل اگر راجہ منور احمد صاحب کے نام سے واقف نہیں تو ان کی اس ضمن میں لاعلمی واجبِ ندامت نہیں ٹھہرائی جاسکتی۔ حیرانی مگر اس وقت ہوتی ہے جب میری عمر کے وطن عزیز کی سیاست سے دیرینہ شناسائی رکھنے والے چند افراد بھی راجہ صاحب کے بارے میں کندھے اچکاکر لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو یاد ہے کہ 1970ء کی ہیجانی دہائی میں طاقتور حکمرانوں کو پچھاڑنے اور ان کی جگہ نئے شہزادوں، کو تخت پر براجمان کروانے میں راجہ منور احمد نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ انھیں محلاتی سازشوں، کے ویلن مارکہ کردار ٹھہرانے کے باوجود ان کے بدترین دشمن بھی تنہائی میں یہ اعتراف کرتے کہ راجہ صاحب اقتدار کے کھیل کو جذباتی انداز میں نہیں دیکھتے۔ کلیدی اختیار کی جنگ لڑتے کرداروں کی قوت کو علم ریاضی کے ماہر کی طرح جانچ کر ایسی پیش گوئی کردیتے ہیں جو نجومیوں کی زائچہ فروشی سنائی دینے کے باوجود بالآخرسو فیصد درست ثابت ہوتی ہے۔
1974ء کا برس تھا۔ میں دل سے سوشلزم کا کٹرحامی ہونے کے باوجود اس کے پاکستان میں نفاذ کے لیے کوشاں افراد کی حکمت عملی اور اندازِ سیاست کے قریبی مشاہدے کے بعد اپنے ملک میں انقلاب، کی امید کھوچکا تھا۔ طالب علم سیاست سے جندچھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ فیصلہ کرنے میں بھی مصروف تھا کہ ایک برس بعد تعلیم مکمل کرنے کے بعد رزق کمانے کے لیے کل وقتی صحافت کی جائے یا ڈرامہ نویسی کو ہوائی رزق، کے طورپر اختیار کرلیا جائے۔
1974ء کی فروری میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس بھی ہوئی تھی۔ اس میں حصہ لینے سعودی عرب کے شاہ فیصل اور لیبیا کے کرنل قذافی ایک دوسرے سے شدید نظریاتی اختلافات کے باوجود پاکستان تشریف لائے۔ مذکورہ کانفرنس میں شہنشاہِ ایران بھی شریک ہوا۔ وہ اس گماں میں مبتلا تھا کہ مشرق وسطیٰ کا ایک کونا اسرائیل نے سنبھالا ہوا ہے۔ دوسرا کونا، سنبھالنے کے لیے امریکا کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور شخص ہی موجود نہیں۔ شاہ ایران اپنے دورِ اقتدار اور شخصیت کو قدیم ایرانی سلطنت کا احیا بھی تصور کرتا تھا۔ اس رعونت کے ہوتے ہوئے وہ بھی لاہور میں ہوئی کانفرنس میں شریک ہوا تو مجھے بطور لہوری ہی نہیں ایک پاکستانی کی حیثیت میں بھی فخر محسوس ہوا۔
شیرِ پنجاب، کے لقب سے مشہور ہوئے ملک مصطفیٰ کھر اس کانفرنس کے دوران آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے کے بااختیار وزیر اعلیٰ تھے۔ لاہور میں اسلامی کانفرنس جس شاندار انداز میں منعقد ہوئی عوام اس کا کریڈٹ کھر صاحب کو بھی کشادہ دلی سے دے رہے تھے۔ میں بھی یہ فرض کربیٹھا کہ مصطفیٰ کھر اب پنجاب کے بااختیار وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے نئی تاریخ، بنائیں گے۔ اس سے قبل ایک عوامی اجتماع میں انھیں ذوالفقار علی بھٹو انتہائی جذباتی انداز میں مجھے کچھ ہوا تو، کہنے کے بعد اپنا جانشین وولی عہد بھی ٹھہراچکے تھے۔ میرے ذہن کو شیرِ پنجاب، لہٰذا ناقابل تسخیر محسوس ہونے لگے۔
چند ہی دن بعد مگر لاہور میں سیاسی گپ شپ کے لیے مشہور ایک چائے خانے میں کٹرسوشلسٹوں، کی نگاہ میں ایجنسیوں کے لیے کام کرنے والے، ایک صحافی نے مجھے بڑے اعتماد سے سرگوشی میں خبر دی کہ کھر صاحب کی چھٹی ہونے والی ہے۔ میں نے دلائل سے انھیں جھٹلانے کی کوشش کی تو انھوں نے سوال داغا: راجہ منور کو جانتے ہو؟ ، میں نے انکار میں سرہلایا تو اس نے یہ فیصلہ سناکر چائے کابل ادا کیے بغیر ر خصت لے لی کہ انھیں جانے اور سنے بغیرمجھے پنجاب کی سیاست پر تبصرہ آرائی کا کوئی حق نہیں۔ راجہ صاحب سے ملاقات کی جانب دل مگر مائل ہی نہ ہوا۔ کالم کی ابتدا ہی میں عرض کرچکا ہوں کہ سیاست سے دل برداشتہ ہورہا تھا۔ اس کے اکھاڑے میں جاری دنگلوں پر توجہ دینے کو طبیعت مائل ہی نہیں ہورہی تھی۔
چند ہی دنوں بعد مگر کھر صاحب واقعتا پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے فارغ ہوگئے۔ ان کی جگہ حنیف رامے صاحب اس منصب پر پنجاب اسمبلی سے منتخب کروائے گئے۔ اصولی طورپر مجھے لاہور کے متوسط طبقے سے تعلق ر کھنے والے حنیف رامے صاحب کے پنجاب کے بارے میں جاگیر دار، غلام مصطفیٰ کھر کو ذہن میں رکھتے ہوئے خوش ہوجانا چاہیے تھا۔ ایسا مگر ہوا نہیں۔ دل میں یہ طے کرلیا کہ پڑھے لکھے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود رامے صاحب جن کا خاندان روشن خیال ادبی جرائد اور کتابوں کی طباعت کے لیے مشہور تھا محلاتی سازش، کے ذریعے برسراقتدار آئے ہیں۔
دریں اثناء لاہور میں ایک بڑی واردات ہوگئی۔ اتفاقاً اس کا ارتکاب کرنے والے میرے سکول کے دوست کے بڑے بھائی تھے۔ نسبت روڈ سے میوہسپتال لے جاتی سڑک پر بنے گھروں میں سے ایک میں رہتے تھے۔ جو واردات ہوئی اس کا تذکرہ جیسے اخباروں کے اولیں صفحات پر چیختی سرخیوں کے ذریعے ہوا۔ انھیں پڑھنے کے بعد میں اپنے دوست سے ہمدردی کا اظہار کرنے اس کے گھر چلا گیا۔ میری دانست میں اس کا بھائی طویل عرصے کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند رہے گا۔ وہ مگر مجھے دیکھ کر پریشان نہ ہوا۔ نہایت اعتماد سے اطلاع دی کہ راجہ (منور) صاحب، اس کے بھائی کو کسی نہ کسی صورت بچالیں گے۔ اس کا پراعتماد لہجہ چند روز بعد درست ثابت ہوا تو میں راجہ منور صاحب کے نام سے مزید چڑنا شروع ہوگیا۔
بعدازاں حنیف رامے کی حکومت بھی فارغ ہوگئی۔ وہ اور مصطفیٰ کھر یکجا ہوکر بھٹو کی مخالفت میں پیرپگاڑا کی مسلم لیگ میں آگئے۔ اس دوران مجھے ایک چھوٹے اخبار میں حقیر معاوضے پر رپورٹنگ کی پیشکش ہوچکی تھی۔ جس پریس کانفرنس میں ایک دوسرے کے چند ہفتے قبل تک دشمن رہے غلام مصطفیٰ کھر اور حنیف رامے موجود تھے اسے کور کرنا میرا ٹیسٹ ٹھہرا۔ وہیں ایک سینئر صحافی نے مجھے دور سے اشارہ کرکے بتایا کہ وہ صاحب راجہ منور ہیں۔ سار ی گیم اس شخص کی لگائی ہوئی ہے۔ جس سینئر صحافی نے یہ دعویٰ کیا ان کا نام عبدالقادر حسن مرحوم تھا۔ وہ نوائے وقت، کے بہت مستند رپورٹر مشہور تھے۔ اپنے ہم عصروں سے مگر فاصلہ رکھتے۔ منو بھائی کی بدولت لیکن انھیں اس منڈے، (یعنی خاکسار)میں رپورٹنگ کا کرنٹ، محسوس ہوتا تھا۔ ان کی شفقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں راجہ صاحب سے اپنا تعارف کرواسکتا تھا۔ طبیعت مگر اس جانب مائل نہ ہوئی۔
1975ء میں لاہور چھوڑ کر اسلام آباد آیا۔ دو سال بعد جنرل ضیاء کا مار شل لاء لگ گیا۔ پاکستان کے سادہ لوح عوام کی اکثریت کی طرح میرا یہ خیال تھا کہ جنرل ضیاء اپنے دعوے کے مطابق نوے دنوں بعد انتخاب کروادے گا۔ میں اسی وہم میں مبتلا تھا تو ایک روز عبدالقادر حسن مرحوم اسلام آباد تشریف لائے۔ میں ان کی جی حضوری کو حاضر ہوا تو انھوں نے نہایت ٹھنڈے انداز میں مجھے بتایا کہ ذواالفقار علی بھٹو کو جنرل ضیاء پھانسی پر چڑھائے گا۔ اس کی ترجیح ویسے بھی عام نہیں بلکہ بلدیاتی انتخاب ہیں۔ عبدالقادر حسن مرحوم کے ساتھ میں تمام تر احترام کے باوجود کج بحثی میں الجھ جایا کرتاتھا۔ نذیر ناجی صاحب سے ان سے بھی زیادہ لبرٹی لے لیتا۔ حسن صاحب نے مگر بحث میں الجھنے کے بجائے مجھے یہ بتایا کہ لاہور کے مال روڈ پر ہائی کورٹ کی بغل میں واقعہ ایک ٹی ہائو س میں راجہ منور اپنے دوستوں کو مندرجہ بالا سیناریو بتارہے ہیں اور میں ان کے ادا کردہ ایک ایک لفظ کو نہایت سنجیدگی سے لیتا ہوں۔ اپنے ذہن میں راجہ صاحب کو محلاتی سازشوں، سے وابستہ کرلینے کے باوجود ان سے ملاقات کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔
وقت تیزی سے گزر گیا اور ہم 1993ء میں داخل ہوگئے۔ 1990ء کے انتخابات میں چودھری الطاف مرحوم جہلم سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ پارلیمانی امور کے قابل رشک کھلاڑی تھے۔ مجھے پریس گیلری، لکھنے کے لیے مواد جمع کرنے کو اکثر ان کی ضرورت پڑتی۔ انھوں نے نہایت شفقت سے رہنمائی کرنا شروع کردی۔ مرحوم بھی محلاتی سازشوں، کو خوب سمجھتے تھے۔ ہمیشہ مصر رہے کہ 1980ء میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے منصب پر لائے نواز شریف، کو ان دنوں کے صدر غلام اسحاق خان ز یادہ عرصہ برداشت نہیں کر پائیں گے۔ پیپلز پارٹی کے بے شمار لوگوں کو مگر یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔ وہ بی بی کو خواہ مخواہ بابے (غلام اسحاق خان) کے خلاف بھڑکاتے رہتے ہیں۔
چودھری صاحب کو علم تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو میری لکھی پریس گیلری، کو غور سے پڑھتی ہیں۔ مجھے اپنے تھیسس کے بارے میں ہر ملاقات میں قائل کرنے کی کوشش کرتے۔ پریس گیلری، لکھ لینے کے بعد میں روزانہ اسلام آباد کے ایم این اے ہاسٹل ان کے کمرے میں چلاجاتاتھا۔ ایک دن وہاں گیا تو ایک وجیہہ شخص وہاں ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے رسماً ہاتھ ملایا تو چودھری صاحب بھانپ گئے کہ میں انھیں پہچانتا نہیں ہوں۔ اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے فرمایا کہ یہ میری طرح کے ہیں۔ نام ان کا راجہ منور ہے۔ حیرت ہے کہ اتنا عرصہ سیاست پر لکھنے کے باوجود میں ان کا دوست نہیں بن پایا۔ راجہ صاحب کے ساتھ اس دن کے بعد سے بے تحاشا ملاقاتیں ہوئیں۔
بہت کم بولتے مگر اردگرد موجود لوگوں کا لیزرجیسی تیز نگاہ سے جائزہ لے کر نہایت توجہ سے ان کی گفتگو سن ر ہے ہوتے۔ اس ملاقات کے چند ہی روز بعد غلام اسحاق خان نواز شریف کی پہلی حکومت فارغ کروانے والے تھے۔ میں اگرچہ اس ضمن میں کنفیوژ تھا۔ اپنے کفیوژن کا اظہار کیا تو را جہ صاحب معنی خیز انداز میں مسکرائے اور یہ طے کرلیا کہ میں سیاست کے بارے میں اتنے عرصے سے لکھنے کے باوجود کبھی کبھار شاعرانہ معصومیت کی زد میں آجاتا ہوں۔ نواز شریف فارغ ہوگا۔ دھڑلے سے یہ خبر دے دیں۔ میں نے بچ بچا کر خبر دی تو انھیں افسوس ہوا۔ اب انھوں نے اپنے تجربات پر مشتمل ایک کتاب لکھ دی ہے۔ اعتراف، اس کا نام ہے۔ یہ کتاب نہیں پاکستان کی مفصل تاریخ ہے۔ محسوس ہورہا ہے کہ آئندہ دنوں میں یہ کتاب پڑھنے کے بعد مجھے مزید کالم لکھنا ہوں گے۔

