Friday, 02 January 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Dhaka Mein Ayaz Sadiq Aur Jay Shankar Musafha Ki Halchal

Dhaka Mein Ayaz Sadiq Aur Jay Shankar Musafha Ki Halchal

ڈھاکہ میں ایاز صادق اور جے شنکر مصافحہ کی "ہلچل"

بدھ کی دوپہر کھانے کے بعد کچھ دیر سونے کے لئے بستر پر لیٹا تو ٹیلی ویڑن سکرین پر بینڈ، باجہ اور بارات کے ساتھ "بریکنگ نیوز" آنا شروع ہوگئی۔ فرطِ جذبات سے مغلوب ہوئی آواز میں اینکر خواتین وحضرات یہ خبر دینا شروع ہوگئے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی تدفین کے روز بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر جب تعزیت کے لئے ڈھاکہ پہنچے تو پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق بھی وہاں موجود تھے۔ ایاز صادق صاحب کو دیکھتے ہی جے شنکر ازخود ان کی جانب بڑھے اور مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھادیا۔ ایاز صاحب بڑھے ہاتھ کوٹھکرانہیں سکتے تھے۔ اپنا ہاتھ بھی بڑھادیا۔ یوں دونوں کے مابین مصافحہ ہوگیا۔ مصافحہ کے بعد ان دونوں میں کیا گفتگو ہوئی اس کے بارے میں خبر دینے والوں کو کچھ علم نہیں تھا۔

جو نظر آیا وہ مگر جے شنکر اور ایاز صادق کے مابین ہوئے مصافحہ کو "اہم" قرار دینے کے لئے کافی تھا۔ مصافحہ کی تصاویر کو سکرین پر دہراتے ہوئے اس پہلو کو بارہا اجاگر کیا گیا کہ گزرے برس کے مئی میں پاکستان اور بھارت کے مابین ہوئی جنگ کے بعد پہلا موقع تھا جب متحارب ممالک کے مابین ایک تیسرے ملک میں اعلیٰ ترین سطح پر خواہ مختصرہی سہی غیر مخاصمانہ رابطہ ہوا۔ اس رابطے کو رپورٹ کرتے ہوئے شاعرانہ استادی کے ذریعے بین السطور یہ پیغام بھی دینے کی کوشش ہوئی کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکرنے پہل نہیں دکھائی تھی۔ ان سے مصافحہ کے لئے قدم اور ہاتھ بھارتی وزیر خارجہ نے بڑھائے۔ مذکورہ پہلو پر توجہ دینے کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ "پہل" بھارت کی جانب سے ہوئی ہے۔ وہ غالباََ پاکستان کے ساتھ تنائو برقرار رکھتے ہوئے تھک گیا ہے۔ اب تعلقات معمول پر لانے کی ر اہ ڈھونڈنے کی کوشش میں ہے۔

مزید بڑھنے سے قبل نہایت عاجزی سے اعتراف کرتا ہوں کہ کئی برسوں تک میرا شمار ان لوگوں میں رہا ہے جو برابری کی بنیاد پر پاکستان اور بھارت کے مابین معمول کے تعلقات استوار کرنے کو بے چین رہے۔ اپنے صحافتی کیرئیر کا طویل عرصہ میں نے بھارت میں وقفوں وقفوں سے کئی مہینے قیام کے دوران انگریزی اخبار کی رپورٹنگ کی نذر کئے ہیں۔ وہاں قیام کے دوران "ذہن سازوں " سے جو تعلقات استوار کئے انہیں پاکستان اور بھارت کے مابین معمول کے تعلقات قائم کرنے کی کاوشوں میں استعمال کرنے کی کوشش بھی کی۔ نیک نیتی سے ہوئی اس کوشش کے "جرم" میں پاکستان کے بے شمار خودساختہ محبانِ وطن نے میرا نام لے کر مجھے "غدار" وغیرہ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی۔ اس تناظر میں لال ٹوپی پہنے ہوئے ایک گفتار کے غازی نمایاں ترین تھے۔ ان کی ریاستی اداروں تک سچی یا مشہور ہوئی رسائی سے لوگ خوف کھاتے تھے۔ میری ڈھیٹ ہڈی میں لیکن وہ خوف داخل نہ کرپائے۔

بھارت کے ساتھ 1984ء سے قائم ہوئی طویل آشنائی اور وہاں کے بے تحاشہ دوروں کے بعد بالآخر میں نہایت دیانتداری کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ نریندر مودی کی وزارت عظمیٰ میں تیسری میعاد تک پہنچتے ہوئے بھارت ہندوبالادستی کے جنون میں مبتلا ہوچکا ہے۔ پاکستان کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کے خواہاں افراد کی تعداد وہاں دن بدن قلیل سے قلیل تر ہورہی ہے۔ اس بحث میں نہیں الجھتے کہ ہندوتوا سوچ طویل المدتی تناظر میں بھارت کے کام آئے گی یا نہیں۔ فی الحال مگر وہ سوچ ہی وہاں کے فیصلہ ساز حلقوں اور اشرافیہ کی بالاترسوچ ہے۔ اس سوچ کے ہوتے ہوئے جے شنکر کا مصافحہ کے لئے سردار ایاز صادق کی جانب بڑھنا مجھے خیر کی کوئی امید دلاتا نظر نہیں آتا۔ ہمارے ٹی وی اینکروں کی جانب سے مصافحے کے بعد جذبات سے مغلوب ہوئی آواز میں جو کہانی بیان ہوئی وہ جی کو خوش رکھنے کی بچگانہ کوشش تھی۔

بینڈ، باجہ، بارات کی بدولت دی "بریکنگ نیوز" سن لینے کے بعد دوپہر کی نیند ناممکن ہوگئی۔ سرہانے رکھا موبائل اٹھاکر "مصافحے" کی حقیقت جاننے کو مجبور ہوگیا۔ پہلی حیران کن اطلاع یہ ملی کہ بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے ہاتھ بڑھاکر سردار ایاز صادق کی جانب بڑھنے کی تصویر بنگلہ دیش کے عبوری وزیر اعظم ڈاکٹر یونس صاحب نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں پر بنائے اکائونٹ سے جاری کی تھی۔ حیران کن خبر یہ بھی ہے کہ محترمہ خالدہ ضیاء کے انتقال کی تعزیت کیلئے بنگلہ دیشی پارلیمان کی عمارت میں غیر ملکی مہمانوں کیلئے مختص کمرے میں خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمن اور خاندان کے دوسرے افراد کو پرسہ دینے جب بھارتی وزیر خارجہ تشریف لائے تو وہاں ڈاکٹر یونس بذاتِ خود موجود نہیں تھے۔

سردار ایاز صادق البتہ ان سے قبل وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ جے شنکر جب طارق رحمن کو پرسہ دینے پہنچے تووہاں موجود سب افراد کھڑے ہوگئے۔ سردار ایاز صادق بھی ان میں شامل تھے۔ جے شنکرنے کھڑے افراد سے مصافحہ کیا اور جو موقع تھا اس کی مناسبت سے سردار ایاز صادق کو نظرانداز کرہی نہیں سکتے تھے۔ ان سے بھی لہٰذا انہوں نے اپنا نام بتاتے ہوئے ہاتھ ملالیا اور ساتھ ہی یہ اطلاع بھی دی کہ وہ جانتے ہیں کہ سردار ایاز صادق کون ہیں۔ سردار صاحب نے بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں پہچان لینے کا عندیہ دیا۔ ان رسمی جملوں کے سوادونوں میں مزید کوئی بات نہ ہوئی۔

تعزیت کے رسمی موقع پر پاکستان اور بھارت کے دو اہم افراد کی اتفاقیہ اور مختصر ملاقات کو مئی 2025ء کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین "اہم رابطہ" والی کہانی بناکر ٹی وی سکرینوں پر بارہا دہرانے سے لہٰذا گریز کرنا چاہیے تھا۔ جس گریز کا میں خواہش مند تھا اس کی تصدیق نادانستہ طورپر بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے بدھ کی سہ پہر جاری ہوئی تصاویر نے کردی۔ بھارتی وزیر خارجہ نے جو وقت خالدہ ضیاء مرحومہ کے ڈھاکہ والے گھر ان کے پسماندگان کے ساتھ تعزیت میں صرف کیا اس کو تصویروں کے ذریعے بیان کرنے کیلئے بھارتی وزارت خارجہ نے سرکاری طورپر 13تصاویر جاری کی ہیں۔ ان میں سے اکثر میں وہ طارق رحمن اور غالباََ ان کی بیگم سے محو گفتگو نظر آئے ہیں۔ طارق رحمن کو بیشتر تبصرہ نگار فروری میں متوقع انتخابات کے بعد بنگلہ دیش کا وزیر اعظم منتخب ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ ان پر جے شنکر کی توجہ لہٰذا بے وجہ نہیں تھی۔

بھارتی وزارت خارجہ نے سرکاری طورپر جے شنکرکے مختصر دورہ بنگلہ دیش کی جو تصاویر جاری کی ہیں ان میں سے ایک میں بھی انہیں سردار ایاز صادق کی جانب بڑھنے کے بعد ان سے مصافحہ کرتے ہوئے نہیں دکھایا گیا۔ بھارتی وزیر خارجہ کے مرحومہ خالدہ ضیاء کی تعزیت کے موقع پرپاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکرکے ساتھ آگے بڑھ کر ہاتھ ملانے کا مقصد 2025ء کی مئی کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین "جمی برف پگھلانا" ہوتا تو بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہوئی تصاویرمیں جے شنکر کا ایازصادق سے ہاتھ ملانا بھرپور انداز میں اجاگر کیا جاتا۔ بدھ کے روز ہوئے مصافحے کو لہٰذا "تاریخی" اہمیت دینے سے ا جتناب ہی بہتر ہے۔

یہ کالم ختم کرتے ہوئے آپ کو اطلاع یہ بھی دینا ہے کہ اپنے قیام بنگلہ دیش کے دوران بھارتی وزیر خارجہ ایک لمحے کو بھی عبوری بندوبست کے سربراہ ڈاکٹر یونس سے نہیں ملے ہیں۔ بھارت کی بنگلہ دیش کے بارے میں اپنائی سردمہری کا اس سے مؤثر اظہار اور کیا ہوسکتا ہے؟

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Bichra Hua Saal 2025, Aik Khamosh Gawah

By Asif Masood