Tuesday, 20 January 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Barson Se Parvarish Paane Wali Hamari Siasat o Sahafat Ki Be Toqeeri

Barson Se Parvarish Paane Wali Hamari Siasat o Sahafat Ki Be Toqeeri

برسوں سے پرورش پانے والی ہماری سیاست و صحافت کی بے توقیری

پاکستان کی سیاست فی الوقت دائروں میں سفر کررہی ہے۔ 1970ء کی دہائی سے ملکی سیاست پر چھائی پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی صوبائی حکومت کے مسلسل 17سال مکمل کرلینے کے بعد اپنے جواں سال چیئرمین کے ذریعے اسلام آباد کے ایوان صدر میں کسی سیمینار کے لئے اپنائے طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے مائیکروسافٹ پاور پوائنٹ اور سلائیڈز وغیرہ کے ذریعے ڈونرایجنسیوں اور ترقیاتی کاموں سے وابستہ تنظیموں کو اس امر پر قائل کررہی ہے کہ اس کے دورِ حکومت میں سندھ کے عوام کی بھلائی کے لئے انقلابی اقدامات لئے گئے ہیں۔

مسلم لیگ (نون) کی ساری توجہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے بعد اب شرح نمو کے راستے تلاش کرنے پر مرکوز ہے۔ پنجاب میں اس کی صوبائی حکومت محترمہ مریم نواز صاحبہ کی قیادت میں تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر ترقیاتی منصوبے متعارف کروارہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے رویے سے تاثر یہ ملتا ہے کہ انہیں 2029ء تک اقتدار میں رہنے کا کامل یقین ہے۔ پانچ سالہ اقتدار کے اختتام پر جو عام انتخاب ہوں گے ان کے دوران عوام ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں اقتدار میں واپس لے آئیں گے۔

حکمران جماعتوں کے مقابل تحریک انصاف ہے۔ اس کا واحد مقصد فی الحال اپنے بانی عمران خان کی جیل سے رہائی ہے۔ متعدد احتجاجی تحاریک کے باوجود ابھی تک اس امرمیں کامیاب نہیں ہوپائی ہے۔ اب توقع یہ باندھی جارہی ہے کہ خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی دوسرے صوبوں کے اہم شہروں میں جاکر 8 فروری کو 2024ء میں ہوئے انتخابات کی یاد کو "یوم سیاہ" کی صورت مناتے ہوئے کسی "پہیہ جام" نوعیت کی تحریک کو بھڑکالیں گے۔ وہ اگر ناکام رہے تب قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کے قائد حزب اختلاف نامزد ہوجانے کے بعد پارلیمان کو گرماکے رکھاجاسکتا ہے۔

صحافی کھل کر لکھنے کی ہمت سے محروم ہوچکے ہیں۔ ان میں "ہمت" کی کلید درحقیقت سیاسی رہنمائوں کے پاس ہوتی ہے اور جب سیاسی رہ نمائوں کے ذہن ہی نئے تصورات سے محروم نظر آئیں تو صحافی ان کی جگہ عوام کو کسی نظریے یا نئی سوچ کی خاطر متحرک نہیں کرسکتے۔ مائوزے تنگ کے بیان کردہ "صحیح خیالات" ان دنوں سیاستدانوں کی جانب سے نہیں بلکہ ریاست کے "نظریاتی سرحدوں " کے محافظوں کی جانب سے آرہے ہیں۔ قومی سلامتی کا تحفظ ان دنوں اہم ترین موضوع ہے اور اس کے بارے میں سیاستدانوں کی "فراست" سے ر ہ نمائی کے عادی مجھ پرانی وضع کے صحافی بات کرنے کے اہل نہیں۔ دفاعی حکمت عملی یا Policy Strategic ایک خاص موضوع ہے۔ اسے پڑھانے کے لئے ہماری روایتی درس گاہوں میں مناسب نصاب اور استاد میسر نہیں۔

نوجوان ہمارے ویسے بھی ان دنوں کمپیوٹر کی نت نئی ایجادات کے بارے میں ڈگریاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مل جائیں تو غیر ملک منتقل ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ امیگریشن میسر نہ ہوپائے تو ملک ہی میں سٹارٹ آپ کے ذریعے معقول رزق کمالیتے ہیں۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر توجہ دینے والے طالب علم سیاست کو شجرِ ممنوعہ سمجھتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اسلام آباد جیسے شہروں میں ایسے ریستوران تلاش کریں جو اٹلی، جاپان اور کوریا جیسے ملکوں کے کھانے سرو کرتے ہیں۔ انسٹاگرام ان کا پسندیدہ سوشل پلیٹ فارم ہے۔ اس پر تصاویر رونق افروز ہوتی ہیں مگر کوئی"انقلابی" پیغام نہیں دیتیں۔ عموماََ ہم عصر نوجوانوں کو تازہ ترین فیشن سے متعارف کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔

نوجوانوں کی تفریح کا اہم ترین ذریعہ قریبی دوستوں کی شادی کے قریب ہوئی ڈھولک اور ڈانس کی تقریبات ہیں۔ میرے ایک دوست کی بچی کی شادی مارچ میں ہونا ہے۔ جنوری کے پہلے ہفتے ہی سے لیکن "ڈانس پریکٹس " شروع ہوچکی ہے۔ خوشی کی بات اگرچہ یہ بھی ہے 1960ء کی نوجوان نسل کی طرح آج کے نوجوان چرس وہیروئین جیسے نشوں کے عادی نہیں ہورہے۔ امیر طبقات کا ایک مخصوص گروہ ہی آئس جیسے نشے کی لت میں مبتلا ہے۔ متوسط طبقے کے نسبتاََ خوشحال نوجوان نشے کے بجائے اپنی فٹنس پر بہت توجہ دیتے ہیں۔ جم جاتے ہیں۔ سگریٹ نوشی سے بھی گریز کرتے ہیں۔ "شیشہ" اگرچہ ان کا جدید "حقہ" ہے اور وہ شاید اتنا مضر صحت اور مالی اعتبار سے ناقابل برداشت بھی نہیں۔

ایسے عالم میں مجھ جیسے بڈھے کھوسٹ کو سمجھ نہیں آتی کہ صبح اٹھ کر قلم اٹھائوں تو کس موضوع پر لکھوں۔ روایتی اخبار کے لئے لکھنے والے کو یہ بھی سوچنا پڑتا ہے وہ حکومت کے دئے ڈیکلریشن کے تحت نکالے اخبار کے لئے لکھ رہا ہے۔ اخباری کاغذ ہمیں درآمد کرنا ہوتا ہے اور یہ ضرورت اخبار چھاپنے کی سیاہی کے لئے بھی محسوس ہوتی ہے۔ روپے کی ڈالر کے مقابلے میں ہوشربا حد تک کم ہوئی قیمت اخبار چھاپنا مشکل سے مشکل تر بنارہی ہے۔ اس تناظر میں اخبار کو زندہ رہنے کے لئے اشتہارات کی ضرورت ہے۔

کساد بازاری کی وجہ سے ہمارے ہاں نئی مصنوعات اور دھندے متعارف نہیں ہورہے۔ جو برانڈ پہلے سے مشہور ہیں وہ مزید تشہیر کے خواہش مند نہیں کیونکہ لوگوں کی قوتِ خرید کم ہوچکی ہے۔ نجی شعبے کے اشتہارات کی کمی اخبارات کو سرکاری اشتہارات سے رجوع کرنے کو مجبور کرتی ہے۔ سرکار کے اشتہار لینے کے عوض حکمرانوں کے بیانات نمایاں انداز میں چھاپنا ضروری ہے۔ اسے حقارت سے دیکھنے کے بجائے حقیقت پسند رویے سے قبول کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے بعد میں کوئی اور دھندا اختیارکرنہیں سکتا۔ روز کی روٹی کمانے کے لئے لکھوں تو کیا لکھوں؟

بہت سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ حال ہی میں جو کتابیں شائع ہوئی ہیں انہیں غور سے پڑھوں اور اپنے ذاتی تجربات کا تڑکا لگاکر ان کے ذریعے سے آپ کو سمجھانے کی کوشش کروں کہ ہماری سیاست وصحافت کی بے توقیری اچانک نمودار نہیں ہوئی۔ "وقت" اس کی برسوں سے پرورش کررہا تھا۔ یہ "حادثہ" ایک دم نہیں ہوا۔ "وقت" ہماری سیاست اور صحافت کو جس اندازمیں بے توقیر کررہا تھا اس کا ذکر تین حالیہ کتابوں میں ہوا ہے۔ سب سے پہلی کتاب فرحت اللہ بابر صاحب کی ہے جو انہوں نے طویل برس محترمہ بے نظیر بھٹو کی معاونت کے بعد لکھی ہے۔

دوسری کتاب انتہائی متحرک سیاست سے عرصہ ہوا گوشہ نشین ہوئے راجہ منور صاحب نے "اعتراف" کے نام سے لکھی ہے اور تیسری کتاب ہماری تاریخ کے اہم ترین ادوار میں کلیدی عہدوں پر فائز رہے سعید مہدی صاحب نے تحریر کی ہے۔ سعید مہدی صاحب کی کتاب ابھی تک مجھے ملی نہیں۔ پہلی دو کتابیں مل چکی ہیں۔ دورِ حاضر کی دونمبری اور دائروں میں جکڑی سیاست کو نظرانداز کرتے ہوئے میں مذکورہ کتابوں میں بیان کردہ حقائق کی روشنی میں آئندہ کافی دنوں تک کالم لکھتے ہوئے ڈنگ ٹپانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Musadaq Se Maduro Tak

By Sanober Nazir