Tuesday, 27 January 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. America Ya Israel Jaise Mumalik Ki Muzammat Mein Masroof Hum Musalman

America Ya Israel Jaise Mumalik Ki Muzammat Mein Masroof Hum Musalman

امریکہ یا اسرائیل جیسے ممالک کی مذمت میں مصروف ہم مسلمان

ریاستِ پاکستان کے تمام ستونوں اور اداروں پر بالادستی کی دعوے دار پارلیمان کو شہبازحکومت نے ٹرمپ کے تجویز کردہ "بورڈ آف پیس"کی بنیادی دستاویز پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں 22جنوری کے دن دستخط کرنے سے قبل اعتماد میں لینے کے قابل نہ سمجھا تو مجھے دُکھ ہوا۔ یہ واقعہ ہونے کے عین ایک دن بعد مگر جمعہ کی صبح ہماری پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تھا۔ وہ 34 منٹ تاخیر سے شروع ہوا اور اس کا مقصد ایوان صدر سے "پارلیمانی نظرثانی" کے لئے بھجوائے تین قوانین کی حمایت میں ایک بار پھر انگوٹھے لگوانا تھا۔ وہ لگ گئے اور پارلیمان اپنی "بالادستی" ثابت کرنے کے بعد چھٹی پر چلی گئی۔ جمعہ کے روز ہوئے اجلاس پر توجہ دیتے ہوئے میں نے خود کی ملامت کی۔ مدعی سست اور گواہ چست والا رویہ ویسے بھی صحافی کو زیب نہیں دیتا۔

ریگولر اور سوشل میڈیا پر چھائے "ذہن سازوں " کی اکثریت مگر ٹرمپ منصوبے کی مذمت میں مصروف رہی۔ مذمتی رویہ اختیار کرنے والوں کی معقول تعداد انگریزی زبان میں عالمی امور پر عالمانہ مضامین لکھتی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کی مشہور یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ ناقدین میں سے کئی لوگ سفارت کاری کے عملی تجربے سے بھی مالا مال ہیں۔ ان کی جانب سے ہوئی مذمت نے مجھے "بورڈ آف پیس" کی بنیادی دستاویز کو دو سے زیادہ مرتبہ پڑھنے کو اُکسایا۔

ناقدین کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ مذکورہ دستاویز پر دستخط کے بعد پاکستان نے درحقیقت حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل میں شرکت پر آمادگی کا اظہار کردیا ہے۔ جس دستاویز پر دستخط ہوئے اس میں لیکن وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے کہ "بورڈ آف پیس" کا کوئی رکن ملک اس تناظر میں اپنی افواج بھیجنے سے انکار کرسکتا ہے۔ ویسے بھی پاکستان کی جانب سے مذکورہ دستاویز پر دستخط ثبت کرنے سے قبل ہم نے سات دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔

اس میں واضح کردیا گیا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور مصر سمیت یہ ممالک ٹرمپ کے تجویز کردہ منصوبہ پر دستخط کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس قرارداد کو عملی صورت دینا چاہ رہے ہیں جو غزہ میں مستقل امن کے قیام اور اس پٹی کی تعمیر نو کے لئے غزہ کو "عبوری انتظامیہ" کے سپرد کرنا چاہ رہی ہے۔ غزہ کے امور کی نگہبان "عبوری انتظامیہ" کا قیام 15جنوری کو عمل میں آچکا ہے۔ اس کے سربراہ اور دیگر اراکین کاملاََ فلسطینی ٹیکنوکریٹ افراد پر مشتمل ہیں۔ ترکی اور مصر کی وساطت سے حماس نے ان کے ناموں پر اعتراض نہیں اٹھائے۔ حماس کی رضا مندی کے بعد مجھے عالمی امور کے پاکستانی ذہن ساز "تو کون؟ میں چاچاخواہ مخواہ" جیسا رویہ اختیار کرتے نظر آئے۔

بنیادی دستاویز کا بغور مطالعہ مگر ناقدین کے اس اعتراض کو تقویت پہنچاتا ہے کہ امریکی صدر "بورڈ آف پیس" کا دائرہ کار فقط غزہ تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہتا۔ اس کی خواہش ہوگی کہ یہ بورڈ بالآخر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مؤثر ترین متبادل کی حیثیت اختیار کرلے۔ سوال اٹھتاہے کہ نظر بظاہر فقط مزید تین سال تک وائٹ ہائوس میں براجمان ٹرمپ اپنی قیادت میں قائم ہوئے بورڈ کو یہ حیثیت دلواسکتا ہے یا نہیں؟ مذکورہ سوال کا جواب ڈھونڈنے میں لیکن وقت ضائع کرنے کو جی مائل نہیں ہورہا۔

فلسطین کے حوالے سے میں 1967ء کے برس سے "انتہا پسند" خیالات کا حامل رہا ہوں۔ سکول کا طالب علم ہوتے ہوئے بھی اس برس عرب اور اسرائیل کے مابین ہوئی جنگ کے دوران مصر کے صدر ناصر اور پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات کو ایک دوسرے کا حبیب ٹھہراتے ہوئے ہم ان کے اسرائیل کے ان دنوں کے دارالحکومت تل ابیب تک پہنچنے کی خواہش نعرے کے ذریعے بلند کیا کرتے تھے۔ ہماری خواہش کے برعکس مصر مگر تل ابیب پہنچنے کے بجائے امریکی صدر کے زیر استعمال "کیمپ ڈیوڈ" پہنچ گیا۔ اسرائیل کو ریاست تسلیم کرنے کے عوض اس سے 1973ء کے برس ہوئی جنگ کے دورن کھوئے "صحرائے سینا" کو واپس لے لیا۔ مصر کے انوارالسادات کی "مسلم کاز" سے "غداری" نے ہم جیسوں کے دل توڑ دئے۔

مصر کے بعد یاسر عرفات بھی بالآخر جولائی 2000ء میں کیمپ ڈیوڈ جانے کو مجبور ہوئے۔ صدر کلنٹن کی تمام تر کوششوں کے باوجود مگر اسرائیل سے وہ شرائط منوانے میں ناکام رہے جو تمام فلسطینی دھڑوں کو مطمئن کرسکتیں۔ ان کا وہاں جانا بھی ہم جیسے لوگوں کی نگاہ میں قابل معتوب تھا۔ اس سے قبل مگر یاسر عرفات کو حماس ہی کے ہاتھوں فلسطینی کاز کا "غدار" مشہور کردیا گیا تھا۔ ان پر غداری کی تہمت لگانے والوں میں شام کے صدر حافظ الاسد بھی پیش پیش تھے اور وہ مجھے عرب دنیا میں اسرائیل کے اصل دشمن اور انقلابی نظر آتے۔ اپنی وفات سے چند ہفتے قبل مگر فیض احمد فیض 1984ء میں چند روز کے لئے اسلام آباد آئے۔ فیض صاحب کو اپنے جذبات پر کامل کنٹرول حاصل تھا۔ میری جانب سے حافظ الاسد کی مدح سرائی نے مگر ان کا چہرہ سرخ کردیا۔ یاسر عرفات کے دفاع میں انہوں نے مجھے ایک طویل انٹرویو بھی دیا جو انگریزی اخبار" دی مسلم" میں چھپا تو فلسطین کے بارے میں گفتار کے بے تحاشہ غازی حیران وپریشان ہوگئے۔

شام کے حافظ الاسد کی یاد مجھے ہفتے کے روز "دی نیویارک ٹائمز" پڑھتے ہوئے آئی۔ موصوف کے ایک بدنام زمانہ بھائی تھے۔ نام تھا ان کا رفعت الاسد۔ 1982ء میں شام کے شہر حماء میں ا خوان المسلمین کو نہایت سفاکی سے کچلنے میں موصوف نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ شام کو "اسلامی انتہا پسندوں " سے "بچالینے" کے بعد وہ اپنے بھائی کی جگہ لینے کو پرتولنے لگا۔ حافظ الاسد نے مگر اسے قتل کرنے کی بجائے اپنی ماں کے حکم پر جلاوطن ہوجانے کی اجازت دی۔ اپنی وفات کے وقت وہ متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں مقیم تھا۔

88 برس کی عمر پانے والے اس سفاک شخص نے "جلاوطنی" کے دوران فرانس، برطانیہ اور سپین میں جو جائیدادیں خریدیں ان کی اجتماعی مالیت کا تخمینہ 800ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ خود کو دنیا کے روبرو بنیادی انسانی حقوق کے حتمی محافظ بناکر پیش کرتے یورپی ملکوں نے اس سفاک شخصیت کو نہ صرف پناہ گزین کی طرح رکھا بلکہ کسی بھی انداز میں اسے شام جیسے ملکوں کے آمر صفت افراد کے لئے عبرت کی مثال بنانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ حالانکہ فرانس ہی کی ایک عدالت نے اسے "غیر معمولی طورپر سنگین جرائم" میں ملوث ہونے کے الزام میں چارسال قید کی سزا بھی سنائی تھی۔ وہ مگر ایک دن بھی جیل میں نہیں رہا۔

رفعت کے بھتیجے بشارالاسد نے بھی اپنے ملک پر دو دہائیوں تک خانہ جنگی مسلط رکھی۔ ان دنوں وہ بھی روس میں پناہ گزین ہے۔ رفعت الاسد کی شاہانہ زندگی کی تفصیلات پڑھتے ہوئے میں یہ سوچتا رہاکہ ہم مسلمان امریکہ یا اسرائیل جیسے ممالک کی مذمت میں مسلسل مصروف رہتے ہیں۔ ہم میں سے کتنوں نے مگر شام اور یمن جیسے ملکوں میں برسوں سے جاری وحشیانہ خانہ جنگیوں کے بارے میں سوچنے کی زحمت گوارہ کی؟

یمن میں خانہ جنگی آج بھی جاری ہے۔ لیبیا، سوڈان اور صومالیہ بھی کئی دھڑوں میں تقسیم ہوئے ایک دوسرے کے گلے کاٹنے میں مصروف ہیں۔ وہاں جاری مظالم کی تفصیلات سے مگر ہم غافل رہنے ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔ فلسطین کے بارے میں خود کو فلسطینیوں سے ز یادہ فکرمند ثابت کرنے کے علاوہ ہمیں کبھی کبھار سوڈان، یمن اور لیبیا وغیرہ میں جاری مظالم پر بھی توجہ دینے کے لئے کچھ وقت صرف کرنا چاہیے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Wales Aur Manchester Mein Guzre Din

By Altaf Ahmad Aamir