Tuesday, 24 February 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Afghan Awam Ke Liye Meri Fikar Mandi

Afghan Awam Ke Liye Meri Fikar Mandi

افغان عوام کے لیئے میری فکرمندی

1980ء کی دہائی کے آغاز سے ہم پاکستانیوں کے ذہنوں میں جو "افغانستان" بٹھایا گیا ہے وہ "سلطنتوں (Empire)کا قبرستان" مانا جاتا ہے۔ جو بات ہمارے دماغوں میں بٹھائی گئی اسے اگست 2021ء میں امریکی افواج کے افغانستان سے ذلت آمیز انخلاء کے بعد مزید تقویت ملی۔ پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نے "غلامی کی زنجیریں " ٹوٹنے پر شادمانی کا اظہار کیا۔ نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کے ایک اہم رہنما خواجہ آصف ان کے بدترین سیاسی دشمن شمار ہوتے ہیں۔ امریکہ کی پسپائی کے بارے میں لیکن انہوں نے سابق وزیر اعظم جیسا موقف ہی اختیار کیا۔

تاریخ کا عجب اتفاق ہے کہ خواجہ صاحب ان دنوں پاکستان کے وزیر دفاع ہیں۔ گزشتہ ہفتے عالمی میڈیا میں ان کے یکے بعد دیگرے دو انٹرویو نشر ہوئے۔ انہیں جرمنی کے شہر میونخ میں ہوئی ایک بین الاقوامی کانفرنس کے دوران ریکارڈ کیا گیا تھا۔ دونوں انٹرویوز میں 2021ء کے برس طالبان کو ناقابل شکست وتسخیر قرار دینے والے خواجہ صاحب نے لگی لپٹی رکھے بغیر دنیا کو خبردار کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر افغانستان سے دہشت گردوں کی مزید دراندازی برداشت نہیں کرے گا۔ طالبان حکومت کو بارہا ان مقامات کے بارے میں تفصیلات ثبوتوں سمیت فراہم کی گئی ہیں جہاں انتہا پسندوں کے مختلف گروہ پاکستان میں تخریب کاری کے ارادے سے لوگوں کو تربیت فرا ہم کرتے ہیں۔ طالبان مگر ان کے خلاف کوئی اقدام لینے کو تیار نہیں۔ معاملہ ایسے ہی رہا تو پاکستان نشان زد کئے ٹھکانوں پر ازخود حملے کرنے کو مجبور ہوجائے گا۔

پاکستان کے وزیر دفاع کے انٹرویو نشر ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد باجوڑ میں ہماری ایک اہم سرحدی چوکی پر خودکش حملہ ہوا۔ چوکی سے ملحق علاقوں کو بڑی تباہی سے بچالیا گیا۔ دس سے زیادہ پاکستانی اہلکار شہریوں کو بچاتے ہوئے شہید ہوئے۔ دیوار گرنے سے ایک گھر میں مقیم عام شہری بھی زخمی ہوئے جن میں عورتیں اور بچیاں بھی شامل تھیں۔

باجوڑ پر ہوئے حملے کے دوسرے دن اسلام آباد میں تعینات طالبان کے نمائندے کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا۔ اسے ایک تحریری دستاویز کے ذریعے متنبہ کیا گیا کہ پاکستان افغانستان سے دراندازی مزید برداشت نہیں کرسکتا۔ طالبان حکومت اگر اپنے ہاں مقیم دہشت گردوں پر قابو نہ پاسکی تو پاکستان ازخود کارروائی کو مجبور ہوجائے گا۔ جو مراسلہ طالبان کے نمائندے کو دیا گیا اس کا لہجہ اور زبان ہر حوالے سے آخری وارننگ سنائی دے رہی تھی۔ اس کے باوجود گزشتہ ہفتے بنوں میں دہشت گردی کی ہولناک واردات ہوگئی۔

سفارت کاری کا طالب علم ہوتے ہوئے میں دیانتداری سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ بنوں میں ہوئے حملے کے بعد بھی پاکستان اگر لفظی احتجاج تک ہی محدود رہتا تو کابل اسلا م آباد کے رویے کو "اب کے مار" والا رویہ ہی شمار کرتا۔ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات لہٰذاپاکستان نے اپنی سرحد کے قریب سات مختلف مقامات پر قائم دہشت گردی کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں کے ذریعے مسمار کردیا۔ قابل اعتماد ذرائع ان حملوں کے نتیجے میں 80سے زیادہ ہلاکتوں کا ذکر کررہے ہیں۔ جو تعداد بتائی جارہی ہے اس کی تصدیق طالبان حکومت کے ترجمان نے اپنے سرکاری بیان کے ذریعے گول مول انداز میں فراہم کردی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس نے ہلاک ہوئے افراد کو عام شہری بناکر پیش کیا اور "گھروں " پر حملوں کا دعویٰ کیا۔

کالم کے ابتدائیہ میں ایک ایسے "افغانستان" کا ذکر ہوا جو 1980ء کی دہائی کے آغاز میں ہمارے ذہنوں میں "سلطنتوں کا قبرستان" بناکر بٹھادیا گیا ہے۔ نام نہاد افغان جہاد کے "ایمان افروز" ایام کے دوران بھی اس گنہگار نے اس لقب کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ قومی اور نسلی تعصب سے البتہ خود کو ہمیشہ محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ "سلطنتوں کا قبرستان" والی داستانوں پر سوال اٹھاتا تو مخالفین کی لعن طعن سے ا کتاکر یاد دلانے کو مجبور ہوجاتا کہ "مغل" بھی ایک سلطنت ہی کا نام تھا۔ اس کا بانی ظہیر الدین بابر افغان نہیں بلکہ سمرقند وبخارا سے تعلق رکھتا تھا۔ ماضی کے ہندوستان میں اپنی سلطنت کے قیام کے بعد اس نے دہلی کے بجائے کابل میں دفن ہونے کو ترجیح دی۔ تختِ بابری آج بھی کابل کی سب سے مشہور اور تاریخی عمارت ہے۔

بابر کے جانشین ہمایوں کو ایک افغان شیر شاہ سوری نے بھارت سے فرار ہوکر ایران میں پناہ لینے کو مجبور کردیا تھا۔ بابر کا دوسرا بیٹا کامران جس کے نام سے لاہور کے دریائے راوی میں ایک بارہ دری مشہور ہے ہمایوں کی جلاوطنی کے دوران بھی کابل میں برسراقتدار رہا۔ شیر شاہ سوری نے طورخم پارکرکے اس کا تختہ الٹنے کی کوشش نہیں کی۔ افغانستان گویا کم از کم سلطنت مغلیہ کا قبرستان ثابت نہیں ہوا۔

قبرستان والی داستان کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے فقط 1842ء کی اس جنگ کا ذکر ہوتا ہے جب شاہ شجاع کو تخت پر براجمان کرنے والی برطانوی فوج کو تاریخی شکست وہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس جنگ کے اختتام پر سولہ ہزار کے قریب برطانوی اور ہندوستانی فوجی مارے گئے تھے۔ اپنی ہزیمت کا بدلہ لینے کے لئے برطانوی سامراج نے مگر جنرل جارج پولک کی کمانڈ میں افغانستان پر 1842ء کے مارچ-اپریل ہی میں ایک بھرپور جنگ مسلط کردی تھی۔ اس جنگ میں عام شہریوں کا سفاکانہ قتل عام ہوا۔ کابل کے مرکزی بازار کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا گیا۔ بدلے کی اس جنگ اور اس کے دوران برتی سفاکی کا مگر ہمارے ہاں ذکرنہیں ہوتا۔

تاریخ سے اپنی پسند کے واقعات چن کر دوسروں کی تضحیک مجھ عاجز کا شیوہ نہیں۔ نہایت انکساری سے التجا فقط یہ کرنا ہے کہ قوموں کی کوئی قطعی اور ابدی شناخت نہیں ہوتی۔ تاریخ بنیادی طورپر ان کے عروج وزوال ہی کو بیان کرتی ہے اور اقبال نے "ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں " والی بات کہتے ہوئے یہ بات بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ قوموں کو اپنی پسند کے کسی سانچے میں ڈھال کر جامد شناخت فراہم کرنا نادانی ہے۔

سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے بجائے بطور پاکستانی میں خلوصِ دل سے افغان عوام کے لئے نہایت فکر مند محسوس کرتا ہوں۔ 1970ء کی دہائی میں ظاہر شاہ کی بادشاہت کا تختہ الٹنے کے بعد سے سردار دائود اور اس کے بعد آئے کمیونسٹ حکمرانوں نے انہیں مسلسل خانہ جنگی اور قحط سالی کا نشانہ بنائے رکھا۔ دسمبر1979ء میں کمیونسٹ نظام کو بچانے کے لئے سوویت یونین کی افواج وہاں در آئیں۔ ویت نام کی ہزیمت کا بدلہ لینے کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان کو ایک طویل جنگ میں دھکیل دیا۔ اس کے نتیجے میں 20لاکھ سے زیادہ افغان اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان اور ایران میں کئی دہائیوں تک دربدر ہوتے رہے۔

روس کے بعد امریکہ کی بھی ذلت آمیز شکست کے نتیجے میں کابل میں فاتح بن کر لوٹے طالبان کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام پر رحم کریں۔ انہیں پاکستان کے ساتھ جنگ میں الجھا کر ایک اور عذاب سے دوچار نہ کریں۔ سوال مگر یہ اٹھتا ہے کہ طالبان افغان عوام کی زندگی کو پرامن رکھنے کو آ مادہ ہیں یا نہیں۔ نیک دلی سے اس کے خواہش مندبھی ہوں تب بھی ان کی قیادت واقعتااپنے امیر کی "اطاعت" میں یکجا ہے یا نہیں۔

فاتح کی حیثیت میں کابل لوٹنے کے بعد طالبان مگر دھڑوں میں تقسیم ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں گورننس کا جو بحران نمودار ہوا ہے وہ سفاک انتہا پسندوں کو ایک بار پھر افغانستان کو دہشت گردی کے مختلف ناموں اور حیلوں بہانوں سے خودمختار اور بے قابو ہوئے گروہوں کی آماجگاہ بنارہا ہے۔ پاکستان کوہر صورت اپنے پر حملہ آور ہوئے دراندازوں کا عزم واستقلال سے مقابلہ کرنا ہوگا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Qaidion Ka Maseeha

By Amir Mohammad Kalwar