آبنائے ہرمز جلد کھلنے کا کیونکر دعویٰ کروں

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کی بدولت بہت تیزی اور شدت سے دریافت کررہا ہوں تو فقط اتنا کہ عمر کی چار سے زیادہ دہائیاں جن صحافیوں اور عالمی امور کے ماہر گردانے لکھاریوں کو نہایت توجہ سے پڑھنے میں ضائع کی ہیں مشکل کی اس گھڑی میں میری رہ نمائی کے قابل نہیں۔ اونچی دکان پھیکا پکوان کی حقیقت دریافت کرتے ہوئے مزید مایوسی یہ سوچتے ہوئے بھی محسوس ہورہی ہے کہ عمر کے جس حصے میں داخل ہوگیا ہوں وہاں نئے رہ نمائوں کی تلاش ممکن نہیں رہی۔ غالب کی طرح ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا والا رویہ اپنانا ہوگا۔ مطلوبہ رویہ اختیار کرنا مگر ناممکن محسوس ہورہا ہے۔
کئی مہینوں سے بازار جاتا ہوں تو فقط دوائیوں کی دوکان پر ر ک کر فشار خون اور مضطرب دل پر قابو پانے کی گولیاں خریدتا ہوں۔ انہیں خریدتے ہوئے بازار کی رونق کو دیکھتے ہوئے یہ سوال ذہن میں چپک جاتا ہے کہ خدانخواستہ آبنائے ہرمز آئندہ چند ہفتوں (مہینے نہیں) کے دوران کھل نہ سکی تو جو گہما گہمی نظر آرہی ہے برقرار رہ پائے گی یا نہیں۔ دنیا کی بقول صوفی تبسم "وہی رونق" کے ہوتے ہوئے بھی ذہن میں اٹھایہ سوال اور اس کے تسلی بخش جواب کے حصول کی ناکامی کی وجہ آپ بڑھاپے میں نازل ہوئی قنوطیت قرار دے سکتے ہیں۔ ناامیدی کے طعنے مگرمیرے اور آپ کی بساط سے ماورا حقائق بدل نہیں سکتے۔
گزرے ماہ کے آغاز کے پہلے دن امریکہ اور اسرائیل ایران پر "رجیم چینج" کا ہدف حاصل کرنے چڑھ دوڑے تھے۔ آیت اللہ علی خمینائی کی شہادت کے باوجود مگر مطلوبہ ہدف حاصل نہیں ہوا۔ ایرانی عوام سیاسی اور عسکری رہنمائوں کے پے در پے قتل کے باوجود "نیا نظام" متعارف کروانے سڑکوں پر نہیں آئے۔ ان کے گھروں میں بیٹھے رہنے سے ہمارے ذہنوں میں گزشتہ دو دہائیوں سے "عالمی میڈیا" کی وساطت سے بٹھائی یہ سوچ خام خیالی ثابت ہوئی کہ ایرانی عوام کی بے پناہ تعداد اپنے ہاں کے حکومتی بندوبست سے کاملاََ اکتائی کسی غیر ملکی نجات دہندہ کا بے تابی سے انتظار کررہی ہے۔
زندگی میں فقط دو بار ایران گیا ہوں۔ پہلے سفر کے دوران تہران میں تین دن اور دو راتیں گزاری تھیں۔ دوسری بار تقریباََ 29برس قبل گیا۔ ایران او آئی سی سربراہ کانفرنس کا میزبان تھا۔ مذکورہ کانفرنس کی بدولت تہران کے علاوہ اصفہان اور بو شہر بھی دیکھے۔ تہران میں ایک ہفتے قیام کے دوران ہوٹل میں ٹکے رہنے سے پرہیز برتا۔ اکثر منہ اٹھا کر گھنٹوں بازاروں میں پیدل گھومتا۔ بطور رپورٹر یہ جان کر ہمیشہ خوش گوار حیرت ہوئی کہ خفیہ یا سفید پوش مخبر میرا پیچھا کرنے کی ضرورت محسوس نہ کررہے ہوتے۔ میری شکل وصورت اور حلیہ ایرانیوں سے ملتا ہے۔ اس کی بدولت اکثر چائے خانوں، کتابوں کی دوکانوں یا "چلو" کباب کے ڈھابوں پر اجنبی لوگ فارسی میں گفتگو شروع کردیتے۔ میں پاکستانی اخبار نویس ہونے کا بتاتا تو بجائے محتاط رویہ اختیار کرنے کے بلاخوف مختلف موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کردیتے۔
29 برس قبل تہران اوراصفہان کی سڑکوں اور بازاروں میں آوارہ گردی کرتے ہوئے دریافت کیا کہ ایرانی نہایت قوم پرست ہیں۔ خود کو تاریخی سلطنت کا وارث سمجھتے ہیں۔ اپنے حکومتی بندوبست سے عموماََ ناخوش ہیں۔ اسے تبدیل کرنے کو مگر کسی غیر ملکی نجات دہندہ کا انتظار نہیں کررہے۔ اپنے تجربے کے تناظر میں گزشتہ ایک مہینے سے یہ سمجھنے میں قطعاََ ناکام ہو رہا ہوں کہ قابل رشک جاسوسی کے نظام اور آلات کے حامل اسرائیل اور امریکہ برسوں تک پھیلی نگرانی کے باوجود وہ حقائق دریافت کیوں نہیں کر پائے جو دو ٹکے کا یہ رپورٹر تہران اور ا صفہان کے بازاروں میں پیدل گھومتے پھرتے عام افراد سے گفتگو کی بدولت جان گیا تھا۔
بہرحال "رجیم چینج" کا ہدف علی خمینائی کی شہادت کے باوجود حاصل نہ ہوسکا تو ایران کے ایٹمی میزائل پروگرام کو نیست ونابود کرنے کی ٹھان لی گئی۔ کئی ہفتوں کی بلاتوقف فضائی بمباری کے باوجود وہ اہداف بھی حاصل نہیں ہوئے۔ ایران بلکہ ہمسائیہ ممالک کے علاوہ اسرائیل کے دور دراز مقامات کو بھی میزائلوں کی مدد سے نشانہ بنانا شروع ہوگیا۔ اس کا میزائل پروگرام بھی اب قابو میں آتا نظر نہیں آرہا۔ ایران پر مسلط کی جنگ کی وجہ سے لیکن آبنائے ہرمز سے پاکستان، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے علاوہ مشرقی ایشیائی کے تھائی لینڈ اور فلپائن جیسے غریب ملکوں کیلئے پٹرول کا ایک لیٹر خریدنا بھی دشوار سے دشوار تر ہونا شروع ہوگیا ہے۔ "ذہن سازی" کے ہنر پر کامل گرفت کا دعوے دار امریکہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے جنوبی اور مشرقی ایشیاء کے کروڑوں عوام پر نازل ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرانہیں سکے گا کیونکہ خلق خدا کی نگاہ میں وہ اور اسرائیل ایران پر جنگ مسلط کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
غالباََ اسی حقیقت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے گزشتہ ایک ہفتے سے صدر ٹرمپ تواتر سے دہرانا شروع ہوگیا کہ ایران کے "ایٹمی اور میزائل پروگرام کی مکمل تباہی کے بعد" آبنائے ہرمز کو بحری تجارت کے لئے کھولنا اس کا واحد ہدف رہ گیا ہے۔ مذکورہ ہدف فوجی طاقت کے ذریعے فی الفور حاصل کیا نہیں جاسکتا۔ سفارتی مہارت سے ایران البتہ یہ پیغام دینا شروع ہوگیا کہ وہ پاکستان جیسے ملکوں کے لئے آبنائے ہرمز سے تیل لے جانے والے جہازوں کو روکنا نہیں چاہتا۔
امریکہ کی مجبوری اور ایران کی سفارتی رضا مندی نے پاکستان کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ مصر، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اسلام آباد میں بیٹھ کر کوئی ایسا لا ئحہ عمل تیار کرے جو ایران اور امریکہ کو فوری جنگ بندی کے علاوہ پائیدار امن کے لئے بھی رضا مند کرسکے۔ وہ فارمولہ تیار ہوگیا تو پیر کی شام امریکی وقت کی صبح اٹھتے ہی ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھے پیغام کے ذریعے اسلام آباد کا نام لئے بغیر امن کی خاطر ہوئی کوششوں کو قابل قبول دکھاکر پیش کیا۔ ڈرامائی خیرمقدمی کلمات لکھنے کے بعد مگر وگرنہ استعمال کرتے ہوئے تڑیاں لگانا شروع کردیں۔
یہ پیغام منظر عام پر آنے کے دو گھنٹے بعد نیویارک پوسٹ (ٹائمز نہیں)کی ایک مشہور نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ دعویٰ کردیا کہ وہ ایران کی قومی اسمبلی کے سپیکرکے ساتھ رابطے میں ہے۔ ان پر "اعتبار" کرنے میں لیکن اسے مزید ایک ہفتہ درکار ہے۔ ا یرانی سپیکر کا نام لیتے ہوئے اس نے جو پیغام نیویارک پوسٹ کی نامہ نگار کی وساطت سے طشت ازبام کیا وہ ہرگز خیر کی خبر نہیں تھا۔
منگل کی صبح اٹھتے ہی مگر وال سٹریٹ جرنل کی ایک خبر کے ذریعے مجھے یہ علم ہوا ہے کہ ٹرمپ اپنے بھروسے کے چند معاونین کو اب یہ بتارہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنا اس کا درد سر نہیں۔ وہ فوری جنگ بندی چاہ رہا ہے۔ رپورٹر سے زبردستی "کالم نگار" بن جانے کے بعد "تجزیہ نگار" بھی شمار ہونا شروع ہوگیا ہوں۔ پیر کی شام چھ بجے سے رات بارہ بجے تک موبائل فون پر نگاہیں جمانے کے بعد سکون آور گولی کی مدد سے سوکر منگل کی صبح سات بجے اٹھنے کے بعد امریکہ سے آئے جو پیغامات دیکھے ہیں ان میں نمایاں تضادات نے ذہن مفلوج بنادیا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کس بنیاد پر یہ دعویٰ کروں کہ آبنائے ہرمز جلد کھل جائے گی یا اس کا امکان آنے والے کئی ہفتوں تک نظر نہیں آرہا۔

