18 سال کی عمر کے نوجوان "شرپسند"

رانا ثناءاللہ کے سیاسی مخالفین بھی نجی محفلوں میں انہیں عوام کا نبض شناس تسلیم کرتے ہیں۔ مسلم لیگی حکومت سے مایوس ہوئے عاشقانِ نواز شریف انہیں اپنا ترجمان سمجھتے ہیں۔ اس کا اندازہ مجھے چند روز قبل چوٹی زریں سے مسلم لیگ (نون) کے ایک دیرینہ وفادار کی جانب سے آئے ٹیلی فون کی بدولت ہوا۔ وہ رانا صاحب سے رابطے کے ذریعے مسلم لیگ کی صفوں میں "انقلابی روح" پھونکنے کی تمنا باندھے ہوئے تھے۔ اتوار کی صبح مگر موبائل فون پر سوشل میڈیا کا پھیرا لگاتے ہوئے ایک کلپ پر نگاہ پڑگئی۔ وہ کلپ سلیم صافی کی رانا صاحب سے ایک ٹی وی شو کے لئے ہوئی گفتگو سے اٹھائی گئی تھی۔ اس کے ذریعے رانا صاحب نے یہ عندیہ دیا کہ آئین میں 28ویں ترمیم مختلف آئینی مسائل طے کرتے ہوئے ووٹر کی کم از کم عمر 18سال سے بڑھاکر 25 برس کر سکتی ہے۔
فیک نیوز کے دور میں اس کلپ پر اعتبار کا حوصلہ نہ ہوا۔ اتفاق سے مگر صافی بھائی نے جس ٹیلی وڑن نیٹ ورک کے لئے رانا ثنا اللہ صاحب کا انٹرویو کیا تھا اس سے منسلک اردو اخبار پڑھا تو وہاں بھی رانا صاحب کی جانب سے مذکورہ "خبر" کا ذکر موجود تھا۔ ہنر ابلاغ کا بے چین طالب علم ہوتے ہوئے رانا ثناءاللہ صاحب کی جانب سے ووٹر کی عمر 18سال سے بڑھانے کے ذکرنے مجھے یہ سوچنے کو مجبور کیا کہ آئندہ انتخابات کب متوقع ہیں۔ سیاسی منظر نامے کی سست روی واضح اشارے دے رہی ہے کہ اپنی بقاءمیں مبتلا صحافت اور جی حضوری کی عادی سیاست کے طفیل 2029ءسے قبل نئے انتخابات کا امکان نہیں۔ رانا صاحب جس حکومت کی نمائندگی کررہے ہیں اس برس اقتدار میں پانچ سال مکمل کرچکی ہوگی۔ 2024ءکے انتخابات سے قبل بھی نواز لیگ دو سال کے قریب حکومت میں رہی تھی۔ نئے انتخابات یوں کہہ لیں کہ اس جماعت کے سات سالہ دورِ اقتدار کے بارے میں ریفرنڈم شمار ہوں گے۔
مذکورہ تناظر میں ووٹر کی عمر 18سال سے بڑھاتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (نون) یہ اعتراف کرتی دکھائی دے گی کہ وہ بچہ جو اپریل 2022ءمیں گیارہ برس کا تھا وہ مسلم لیگ کے سات برس کے دوران بلوغت کی عمر میں داخل ہوتے ہوئے اس کی کارکردگی سے کاملاََ مایوس ہوچکا ہے۔ کسی سیاسی جماعت کے سات سالہ دورِ اقتدار کے دوران مگر کم سنی سے بلوغت میں داخل ہوئے نوجوان ہی ناقص کارکردگی کی بنیاد پر مایوس نہیں ہوا کرتے۔ کم سنی سے بلوغت تک پہنچتے ہوئے آپ والدین کے محتاج ہوتے ہیں۔
نوجوانوں کی کسی حکومت کے بارے میں معاشی یا سیاسی اعتبار سے مایوسی درحقیقت ان کے والدین کی سوچ کی عکاس ہوتی ہے جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کے لئے وہ روشن مستقبل یقینی نہیں بناسکے۔ ایسے حالات میں اگر ووٹر کی کم از کم عمر آپ کے 18سال کی عمر کو پہنچے افراد کے والدین کی اوسط عمر تک محدود کردیں تب بھی سات سالہ کارکردگی کی بناءپر عوام کو مایوس کرنے والی جماعت انتخابی نظام کی بدولت دوبارہ برسراقتدار نہیں آسکتی۔ ووٹر کی کم از کم عمر لہٰذا بنیادی مسئلہ نہیں ہے۔ محض اس مفروضے کو عیاں کرتی ہے کہ 18سال کی عمر میں داخل ہونے کے بعد ہر نوجوان تبدیلی کا خواہش مند ہوتا ہے۔
چند روز قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں لیوی کی وجہ سے ناقابل برداشت ہوئے اضافے کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار کے لئے مجھ سے رابطہ کرنے والے افراد 60سے زیادہ برس کے تھے۔ ایک صاحب نے اپنی عمر 75سال بتائی تھی۔ ان سب نے دعویٰ کیا کہ وہ 1988ئی سے مسلم لیگ (نون) کے مستقل ووٹر ہیں۔ اب مگر ا کتاچکے ہیں۔ زندگی رہی تو آئندہ انتخاب میں اس جماعت کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے۔ سوال اٹھتا ہے کہ 18برس کے نوجوان کو ووٹ کے حق سے محروم کردینے کے بعد مسلم لیگ (نون) کیوں یہ فرض کئے بیٹھی ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے بلبلاتی خلق خدا اس کے نامزد کردہ امیدواروں ہی کو ووٹ دے گی۔
آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ جمہوری نظام کے خود ساختہ چمپئن بنے اس قلم گھسیٹ نے آج تک ووٹ نہیں دیا۔ 1970ءکے برس جب ہمارے ملک میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پہلا الیکشن ہوا تو میں اپنی عمر کی وجہ سے ووٹ دینے کا حق دار نہیں تھا۔ ووٹ کا حق میسر نہ ہونے کے باوجود مذکورہ انتخابا ت کے لئے چلائی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔ میری دانست میں اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کی بنائی پیپلز پارٹی ملک میں "انقلابی" تبدیلیاں لانا چاہ رہی تھی۔ میں اپنے محلے میں پیپلز پارٹی کے ایک حامی کی دوکان پر کئی گھنٹے بیٹھ کر انتخابی فہرست کا جائزہ لیتے ہوئے وہ "پرچیاں" لکھتا جن کے ذریعے محلے کے مکینوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ ان کا ووٹ نمبر کیا ہے اور اسے بھگتانے کیلئے انہیں انتخاب کے روز کونسے پولنگ سٹیشن جاناہوگا۔ تقریباََ ایک ہفتے تک میں نے بلامعاوضہ گھنٹوں اس مشقت کی نذر کئے۔
ہمارے ہاں یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ 18سال کی عمرمیں داخل ہوا نوجوان ناپختہ ذہن کا حامل ہوتا ہے۔ اس عمر کا نوجوان مگر کوئی جرم کرلے تو اسے "نابالغ" اور "معصوم" سمجھ کر معاف نہیں کیا جائے گا۔ اس کی گواہی بھی عدالت میں قابل شنوائی ہے۔ وہ جائیداد خریدنے اور بیچنے کا حق دار ہے اور شادی کے بعد گھر کی ذمہ داری سنبھالنے کے قابل بھی۔ اسے محض ووٹ دینے کے لئے نااہل قرار دینا درحقیقت ہماری اشرافیہ کے ذہنوں میں گھسا یہ خوف ہے کہ ان کی پالیسیوں کو "ناپختہ ذہن" سراہنے کے قابل نہیں۔ اس عمر کے نوجوان "شرپسند" سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا کی بدولت بنائے بیانیے سے "گمراہ" ہوجاتے ہیں۔
اٹھارہ سال کی عمر میں ووٹ کے حقدار ہوئے نوجوانوں سے خوف کی بنیادی وجہ 2024ءکی 8فروری کے روز رونما ہوئے حیران کن واقعات ہیں۔ انتخابی سیاست کی حرکیات کا میں 1984ءسے سنجیدہ شاہد رہاہوں اور یہ ہنر میں نے بھارت میں اندراگاندھی کے قتل کے بعد ہوئے انتخاب کے دوران ریل کے تھرڈ کلاس ڈبوں میں سفر کرتے ہوئے سیکھا تھا۔ 2024ءکے انتخاب کا مشاہدہ میں نے 8فروری کے روز لاہور کے مختلف حلقوں میں 40سالہ تجربے کی بنیاد پر کیا تھا۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے محض نوجوانوں میں مقبول تصور ہوتی جماعت کو فقط 18سے 25سال کے نوجوانوں ہی نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کی متاثر کن تعداد نے بلاتفریق ووٹ دئے تھے۔
پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف میں آئے بیرسٹرکھوسہ کے حلقے میں ایک بوڑھی خاتون نے مجھے پولنگ سٹیشن جاتے ہوئے آواز دے کر بلایا اور سرگوشی میں استفسار کیا کہ اس کے حلقے میں "عمران کی جماعت" کے امیدوار کا انتخابی نشان کیا ہے۔ وہ کھوسہ صاحب کی ذات کے بارے میں قطعاََ بے خبر تھی۔ مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی انتخابی حوالوں سے ہماری سب سے تجربہ کار جماعتیں ہیں۔ میں ان سے اس بچگانہ سوچ کی توقع نہیں رکھتا کہ ووٹر کی عمر 18سال سے بڑھانا ان کی انتخابی کامیابی یقینی بناسکتا ہے۔ 28ویں ترمیم کے ذریعے ووٹر کی عمر بڑھاتے ہوئے یہ جماعتیں بلکہ انتخابی میدان میں اترتے ہوئے شکست کے خوف سے مفلوج ہوئی نظر آئیں گی۔

