Online Order Kia Mobile Cover Mila Takiya Cover
آن لائن آرڈر کیا موبائل کور ملا تکیہ کور

پاکستان میں آن لائن شاپنگ کا آغاز بڑے شوق اور جوش سے ہوتا ہے۔ موبائل میں تصویر دیکھتے ہیں تو لگتا ہے کہ دنیا کی سب سے خوبصورت چیز مل گئی ہے اور وہ بھی سستے میں۔ آرڈر کرتے ہیں، پیسے دیتے ہیں اور پھر انتظار شروع ہوتا ہے اور یہ انتظار پاکستانی آن لائن شاپنگ کا سب سے دلچسپ حصہ ہے کیونکہ اس میں روز نئی امید اور روز نئی مایوسی ملتی ہے۔
پہلے دن آرڈر کرتے ہیں تو دل خوش ہوتا ہے۔ دوسرے دن ٹریکنگ چیک کرتے ہیں تو لکھا ہوتا ہے "آرڈر موصول ہوا"۔ تیسرے دن لکھا ہوتا ہے "پیکنگ جاری ہے"۔ چوتھے دن پھر وہی "پیکنگ جاری ہے"۔ پانچویں دن بھی یہی۔ لگتا ہے پیکنگ کرنے والے کو بھی پتہ نہیں کہ اندر کیا رکھنا ہے تو سوچ رہے ہیں۔
پھر وہ مبارک دن آتا ہے جب دروازے پر دستک ہوتی ہے اور ڈلیوری والا کھڑا ہوتا ہے۔ آپ خوشی سے دوڑتے ہیں، پیکٹ لیتے ہیں اور بڑے اشتیاق سے کھولتے ہیں اور پھر وہ لمحہ آتا ہے جو زندگی بھر یاد رہتا ہے۔ تصویر میں جو چیز تھی وہ کہیں نہیں ہوتی اور جو چیز ہاتھ میں ہوتی ہے اسے پہچاننا بھی مشکل ہوتا ہے۔ آپ نے موبائل کور منگوایا تھا مگر جو آیا وہ تکیہ کور لگتا ہے۔
پاکستانی آن لائن دکانداروں کی تصویریں دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ لوگ دنیا کے بہترین فوٹوگرافر ہیں۔ جوتا دکھاتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے اٹلی سے آیا ہو، کپڑا دکھاتے ہیں تو لگتا ہے پیرس کا ڈیزائنر بنایا ہو۔ مگر جب چیز گھر آتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ تصویر اور چیز کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں تھا، صرف ایک خوبصورت دھوکہ تھا۔
سائز کا معاملہ تو اور بھی دلچسپ ہے۔ آن لائن "لارج سائز" منگواتے ہیں تو جو آتا ہے وہ بچے کو بھی چھوٹا پڑ جائے۔ "اسمال سائز" منگواتے ہیں تو اتنا بڑا آتا ہے کہ سارا خاندان پہن لے۔ پاکستانی آن لائن دکانداروں نے سائز کا ایک الگ ہی نظام بنا رکھا ہے جو دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں پایا جاتا۔
واپسی کا عمل بھی کم دلچسپ نہیں ہوتا۔ چیز واپس کرنی ہو تو پہلے دکاندار سے بات کرنی ہوتی ہے۔ وہ کہتا ہے "جناب تصویر بھیجیں"۔ تصویر بھیجیں تو کہتا ہے "جناب ویڈیو بھیجیں"۔ ویڈیو بھیجیں تو کہتا ہے "جناب یہ تو ہماری غلطی نہیں" اور آخر میں آپ تھک ہار کر وہ چیز کسی کو تحفے میں دے دیتے ہیں اور اگلی بار پھر آن لائن آرڈر کرتے ہیں کیونکہ پاکستانی امید کبھی نہیں چھوڑتا۔
رنگ کے معاملے میں بھی آن لائن شاپنگ کا اپنا فلسفہ ہے۔ تصویر میں نیلا رنگ ہوتا ہے، آتا ہے جامنی۔ سبز منگواتے ہیں تو پیلا آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دکاندار نے آنکھیں بند کرکے جو رنگ ہاتھ آیا وہ پیک کر دیا۔ شاید وہ سمجھتا ہے کہ رنگ تو دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے۔
مگر سچ یہ ہے کہ ان تمام تجربوں کے باوجود پاکستانی آن لائن شاپنگ سے باز نہیں آتا۔ کل جو دھوکہ ہوا اسے بھول کر آج پھر نئی تصویر پر دل آ جاتا ہے۔ شاید اسی کا نام امید ہے اور شاید اسی لیے پاکستانی قوم کو دنیا کی سب سے امیدوار قوم کہا جاتا ہے۔
آخر میں بس اتنا کہنا ہے کہ اگر آپ نے کبھی آن لائن شاپنگ نہیں کی تو آپ نے زندگی کا ایک بہت ضروری سبق نہیں سیکھا اور اگر کی ہے تو آپ جانتے ہیں کہ موبائل کور اور تکیہ کور میں فرق صرف تصویر میں ہوتا ہے، حقیقت میں دونوں ایک ہی ہیں!

