Tuesday, 19 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Waris Dinari
  4. Andha Bante Rewriyan Apno He Ko De

Andha Bante Rewriyan Apno He Ko De

اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں ہی کو دے

پاکستان میں ریوڑیاں تو پہلوان چکوال والے کی مشہور ہیں یہ بات پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے کو معلوم ہے۔ تاہم اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں ہی کو دے ان اندھوں کے بارے میں کئی لوگ لا علم ہیں۔ کیونکہ ان کا واسطہ شاید اس طرح کے کسی اندھے سے نہ پڑا ہو ویسے اس طرح کے اندھے ملک میں ہر جگہ پر پائے جاتے ہیں۔ کہیں پر کم تو کہیں پر زیادہ البتہ ہم بلوچستان والے خصوصاََ نصیر آباد خاص کر ضلع استا محمد والے اس معاملے میں بہت زیادہ ہی خودکفیل ہیں۔

اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں ہی کو دے

اس ضرب الامثال پر یوں تو ملک بھر میں باقاعدگی سے ہر جگہ عمل کیا جاتا ہے۔ تاہم ہمارے ہاں نصیر آباد ڈویژن خاص کر ضلع استا محمد میں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں پر شاید ہر با اختیار نے حلف لیا ہو کہ انھیں اس ضرب الامثال پر ہر حال میں عمل کرنا ہے چاہئے کچھ بھی ہو جائے۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں ہی کو دینے والی ضرب الامثال ہمارے ہاں اپڈیٹ ہو کر اب کچھ اس طرح بات اپنوں سے بھی آج کل آگئے بڑھ گئی اب تو اپنوں کی جگہ پر "اپنا"نے لے لی ہے۔

اندھا بانٹے ریوڑیاں "اپنے" ہی کو دے۔

خیر ہمارے ہاں تو ہر شخص اپنی بساط طاقت اختیار کے مطابق اس پر عمل پیرا ہے۔ میرٹ اور ضرورتوں کا قلع قمع کردیا گیا ہے ان کی جگہ اقربا پروری پسند و ناپسند نے لے لی ہے۔ ترقیاتی کام ہوں یا سرکاری ملازمتیں یا ملازمین کا ٹرانسفر پوسٹنگ ہو یہاں تک گلی محلے میں صفائی ستھرائی سیوریج پختہ سڑک نالی غرض سب کاموں میں یہی ریوڑیوں والی بات کارفرما ہے۔ میں عرض کر چکا ہوں کہ اس میں ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق ملوث ہے جس میں ایک وارڈ کے کونسلر سے لے کر ایم پی اے ایم این اے پٹواری سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک ہر ایک نے پسند و ناپسند کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے یہ لوگ جو خود کو عوامی نمائندے کہلواتے ہیں سرکاری آفیسرز جن کو کہتے تو پبلک سرونٹ لیکن وہ پبلک ہی کو سرونٹ سمجھتے ہیں۔ یعنی سرکاری ملازم اور عوامی نمائندے دونوں اپنے کام اور نام ذمہ داریوں کے برعکس چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

عوام کی فلاح وبہبود ترقی و خوشحالی کے لئے ملنے والا پیسہ عوام کا ہے لیکن خرچ ان لوگوں کی مرضی پر یہاں تک غریب عوام کے نام پر ملنے والی امدادی سامان پر بھی یہ لوگ ہاتھ صاف کرنے میں دیر نہیں کرتے ہیں چاہئے وہ سولر پینلز پنکھے بیٹریاں ہوں یا پھر کوئی بھی راشن پیکج ہر معاملے میں یہی ریوڑیوں والا طریقہ کار فرما ہے۔ جو جتنا با اختیار ہے وہ اسی حساب سے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

حلقے کے منتخب نمائندوں ایم این اے ایم پی ایز یا سینیٹر کی بات تو کرہی نہیں سکتا ہوں میونسپل کارپوریشن کے ایک عام کونسلر کی مثال دیتا ہوں میونسپل کارپوریشن کے سینٹری ورکرز ہر اس گلی کی صفائی باقاعدگی کے ساتھ کرتے ہیں جہاں پر کونسلر حضرات کی رہائش گاہیں ہوتی ہیں۔ باقی تمام محلہ پورا وارڈ بھاڑ میں جائے گلیاں ٹف ٹائلز کرنی ہوں یا سیوریج کی نالی بنانی ہو سب سے پہلے صاحب خود اس طرح کئی کونسلرز کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انھوں نے ہر بار ترقیاتی کاموں کے لئے آنے والی فنڈز کو صرف اپنی ہی گلی میں استعمال کیا۔ یہ اور بات ہے کہ ترقیاتی کاموں کے لئے ملنے والی رقم کا کتنا حصہ استعمال کیا کیونکہ زیادہ تر کنٹریکٹر وہ خود یا پھر ان ہی کے بندے ہوتے ہیں۔

پھر ایسے حالات میں جہاں سیاست ریاست اور جمہور کی فلاح وبہبود کی بجائے شخصیت پرستی اور ذاتی مفادات کے لئے کی جاتی ہو پھر وہاں آئین و قانون انصاف کا قتل ہو جاتا ہے یہی معاشرے میں زوال کی کنجی ہے۔

ان حالات میں ایک عام شہری کہاں جائے۔

نہ جانے یہ لفظ کس نے کہے اور کب کہے لیکن کیا خوب کہے آج کل کے حالات کی مکمل عکاسی کرتے ہیں

لشکر بھی تمہارا ہے سردار بھی تمہارا ہے
تم جھوٹ کو سچ لکھ دو، اخبار بھی تمہارا ہے

خونِ مظلوم زیادہ نہیں بہنے والا
ظلم کا دور بہت دن نہیں رہنے والا

ان اندھیروں کا جگر چیر کے نور آئے گا
تم ہو فرعون تو موسیٰ بھی ضرور آئے گا

آج کل کے حالات اور ان کی کارستانیاں دیکھ کر میں اور مجھ جیسے کئی لوگ یہ بات کہنے پر مجبور ہیں یہ مراعاتیں یہ رعایتیں یہ سہولتیں یہ خوشحالی یہ عیاشیاں یہ ہر طرح کے پیکیجز یہ سب تیرے لئے ہیں یہ قانون یہ سزائیں یہ جرمانے یہ غربت یہ بیماریاں تمام پریشانیاں یہ ہرطرح کے ٹیکسز سب میرے لئے ہیں۔

اے میرے وطن تو ہی بتا دے تو بنا کس کے لئے۔۔

ضرورت اس امر کی ہے اور یہی وقت کا تقاضا ہے کہ ریوڑیاں بانٹے والے اس اندھے نظام سے چھٹکارا پانے کے لئے فوری طور تمام اداروں پورے سسٹم میں میرٹ کو رائج کیا جائے انصاف قانون سب کیلئے برابر ہو ترقی کے مواقع سب کو یکساں طور پر میسر ہوں۔

Check Also

Wazir e Aala Ka Daura e Baku Aur Mehkma e Seyahat Ki Na Dahindgi

By Anjum Kazmi