Gidh Ko Murdar Mil He Jata Hai
گدھ کو مردار مل ہی جاتا ہے

رعایت اللہ فاروقی نے حدیقہ کیانی کے بارے میں جو نامناسب اور نازیبا الفاظ استعمال کیے، اس پر بہت سے لوگوں نے بجا طور پر تنقید کی۔ اس رویے کی مذمت ہونی ہی چاہیے تھی، کیونکہ کسی بھی خاتون یا انسان کے بارے میں سطحی اور غیر مہذب زبان اور خیالات اظہار کا بہت غلط عمل ہے، لیکن اس کے ردعمل میں ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے جو انداز اختیار کیا، وہ بھی انتہائی گھٹیا اور بے ہودہ ہے۔ ایک فرد کی غلطی کے جواب میں پوری صنفِ مرد کو نشانہ بنانا اور ایسے خیالات پیش کرنا جو نفرت، تحقیر اور تضحیک کو ہوا دیں، پرلے درجے کی جہالت ہے۔ ایک غلطی کے جواب میں دوسری اس سے بھی بڑی اور بے ہودہ خرابی سامنے آئی۔
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی تو ویسے بھی بات بات پر ان مردوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے معروف ہیں، جو ساری زندگی اپنے خاندان کی خاطر قربانیاں دیتے گزار دیتے ہیں اور کبھی احسان تک نہیں جتاتے۔ انہوں نے رعایت اللہ فاروقی کی تحریر کے ردعمل میں گویا اپنے ہی باپ، بھائی، شوہر اور بیٹوں کو بھی بے ہودہ الزامات کی زد میں لے لیا۔ اگر کسی ایک شخص کی کج فہمی کی بنیاد پر پوری صنف کو مجرم قرار دینا درست نہیں تو یہ اصول ہر جگہ یکساں لاگو ہونا چاہیے۔ ان کی تحریر اس قدر زہر آلود اور بدبودار تھی کہ اس کے تعفن نے پورے سوشل میڈیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
اس سارے معاملے کا ایک رخ تو یہ ہے کہ چند لوگ غلط لکھتے ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایسی فکری کجی کو داد دینے والے بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر دونوں اطراف کے فالوورز میں ایسے لوگ کثرت سے پائے گئے جنہوں نے سینکڑوں اور ہزاروں تعریفی تبصروں کے ذریعے ان کی حوصلہ افزائی کی، تحریریں شیئر کیں اور اس غلاظت کو مزید پھیلایا۔ دونوں نے اس "مشہوری" پر اپنے فالوورز کا شکریہ بھی ادا کیا۔ یہ محض چند افراد کا انفرادی مسئلہ نہیں، بلکہ مجموعی معاشرتی تنزلی کی علامت ہے، کیونکہ اگر غلط بات کی پذیرائی بند ہو جائے تو شہرت کے لیے نفرت پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی خود بخود ہو جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قصور صرف زہر اگلنے والوں کا نہیں، بلکہ ان کی اندھی حمایت کرنے والوں کا بھی ہے، جو ہر حال میں اپنے پسندیدہ نظریے یا شخصیت کو درست ثابت کرنے پر تُل جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے: "گدھ کو مردار مل ہی جاتا ہے"۔ یعنی منفی اور تعصب پسند سوچ رکھنے والوں کو اپنے جیسے ہم نوا مل ہی جاتے ہیں اور پھر یہی اندھی تقلید انہیں مزید بے باک اور گستاخ بنا دیتی ہے۔

