Tuesday, 19 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Mutahir Khan
  4. Sindh Tas Ki Fatah

Sindh Tas Ki Fatah

سندھ طاس کی فتح

سندھ طاس معاہدہ برصغیر کی تاریخ میں محض ایک آبی سمجھوتہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے سیاسی توازن، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قانون کی عملی معنویت کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اس معاہدے کے کسی پہلو پر اختلاف جنم لیتا ہے تو اس کی بازگشت صرف اسلام آباد اور نئی دہلی تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی سفارتی و قانونی حلقے بھی اس پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ دی ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے پاکستان کے حق میں دیا جانے والا حالیہ فیصلہ اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ یہ فیصلہ نہ صرف ایک تکنیکی آبی تنازع کے حل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اس نے بین الاقوامی معاہدات کی تعبیر، ریاستی ذمہ داریوں اور آبی خودمختاری کے اصولوں کو بھی نئی معنویت عطا کی ہے۔

اس مقدمے کا بنیادی نکتہ بظاہر پن بجلی منصوبوں کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے حساب کتاب سے متعلق تھا، مگر درحقیقت اس کے مضمرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ پاکستان کا مؤقف یہ تھا کہ بھارت مغربی دریاؤں پر تعمیر ہونے والے منصوبوں کے ڈیزائن میں ایسی تکنیکی تشریحات اختیار کر رہا ہے جن کے ذریعے وہ معاہدے میں دی گئی اجازت سے کہیں زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی عملی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔ نئی دہلی اس اضافی گنجائش کو اپنی توانائی ضروریات اور متوقع بجلی طلب کی بنیاد پر جائز قرار دیتا رہا، جبکہ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا کہ اس نوعیت کی تعبیر سندھ طاس معاہدے کی روح سے متصادم ہے، کیونکہ معاہدہ بھارت کو ان دریاؤں پر محدود نوعیت کے "رن آف دی ریور" منصوبوں کی اجازت دیتا ہے، نہ کہ ایسی آبی ساختوں کی جو بہاؤ پر کنٹرول کے وسیع امکانات پیدا کریں۔

عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کے اس مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے بھارتی طریقۂ کار کو "مصنوعی" قرار دیا ہے۔ یہ لفظ محض ایک قانونی اصطلاح نہیں بلکہ اس میں ایک گہرا سفارتی اور تیکنیکی مفہوم پوشیدہ ہے۔ عدالت نے دراصل یہ واضح کیا ہے کہ کسی بھی پن بجلی منصوبے کی منصوبہ بندی محض تخمینی یا توسیع پسندانہ توانائی اہداف کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس کے لیے حقیقی ہائیڈرولوجیکل، ہائیڈرولک اور آپریشنل تقاضوں کا موجود ہونا ناگزیر ہے۔ اس فیصلے نے اس اصول کو مضبوط کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کی آبی سرگرمیوں پر عائد حدود رسمی یا نمائشی نہیں بلکہ حقیقی اور قابلِ نفاذ نوعیت کی ہیں۔

یہ فیصلہ پاکستان کے لیے اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس نے ایک طویل عرصے سے جاری اس خدشے کو عالمی سطح پر قانونی جواز فراہم کیا ہے کہ بھارت تکنیکی اصطلاحات اور انجینئرنگ ڈیزائن کی پیچیدگیوں کو استعمال کرتے ہوئے آبی برتری حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ زرعی معیشت، غذائی سلامتی اور قومی استحکام کا بنیادی ستون ہے۔ پاکستان کی زراعت کا بڑا انحصار انہی دریاؤں پر ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی اضافی ذخیرہ اندوزی یا بہاؤ پر ممکنہ کنٹرول اسلام آباد کے لیے محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔

اس فیصلے کی ایک اور اہم جہت یہ ہے کہ اس نے عالمی ثالثی نظام کی ساکھ کو بھی تقویت دی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بین الاقوامی قانون کو اکثر بڑی طاقتوں کے سیاسی مفادات کے تابع سمجھا جاتا ہے، دی ہیگ کے اس فیصلے نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ تکنیکی اور معاہداتی معاملات میں قانونی اصول اب بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ بھارت نے ماضی میں بعض بین الاقوامی فورمز کے دائرۂ اختیار پر اعتراضات اٹھائے، تاہم اس مقدمے میں پاکستان نے مستقل مزاجی اور قانونی تیاری کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کیا، جس کے نتیجے میں اسے ایک اہم سفارتی کامیابی حاصل ہوئی۔

یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں منصوبوں کی "نصب شدہ پیداواری صلاحیت" اور "متوقع لوڈ" کے تصورات کو حقیقت پسندانہ، مضبوط اور قابلِ دفاع بنیادوں سے مشروط کر دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں بھارت محض نظریاتی یا بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے توانائی تخمینوں کی بنیاد پر اضافی ذخیرۂ آب کا جواز پیش نہیں کر سکے گا۔ اس اصولی تشریح نے معاہدے کی تعبیر کو ایک نئے فنی معیار سے جوڑ دیا ہے، جو مستقبل کے ممکنہ تنازعات میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔

تاہم اس کامیابی کے باوجود یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سندھ طاس تنازع مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ برصغیر کی سیاست میں پانی اب ایک حساس جیو پولیٹیکل ہتھیار کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، بڑھتی ہوئی آبادی اور زرعی دباؤ نے خطے میں آبی وسائل کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ ایسے میں سندھ طاس معاہدہ صرف قانونی دستاویز نہیں بلکہ علاقائی استحکام کا ایک نازک ستون بن چکا ہے۔ اگر اس معاہدے کی روح کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ عدم اعتماد اور کشیدگی کے نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے اس فیصلے کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ بین الاقوامی قانون، سفارتی تیاری اور تکنیکی مہارت باہم مل کر قومی مفادات کے تحفظ کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یہ کامیابی وقتی اطمینان ضرور فراہم کرتی ہے، مگر مستقبل کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان اپنی آبی حکمتِ عملی، ذخیرہ صلاحیت، سفارتی تیاری اور تکنیکی تحقیق کو مزید مضبوط بنائے، کیونکہ آنے والے برسوں میں پانی صرف ترقی کا وسیلہ نہیں رہے گا بلکہ عالمی سیاست کے سب سے اہم تزویراتی وسائل میں شمار ہوگا۔

Check Also

Gidh Ko Murdar Mil He Jata Hai

By Abid Mehmood Azaam