Monday, 08 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Najam Wali Khan
  3. Ghareebon Ke 5 Hazar

Ghareebon Ke 5 Hazar

غریبوں کے پانچ ہزار

یہ شور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر مچایا جا رہا ہے جس کے تحت انتہائی غریب خاندانوں کو ہر تین ماہ کے بعد ساڑھے چودہ ہزار روپے کی امدا د ملتی ہے یعنی ہر مہینے پانچ ہزار روپوں سے سے سوڈیڑھ سو روپے کم۔ سوشل میڈیائی دانشوروں کا کہنا ہے کہ اس رقم سے قوم کو بھکاری بنایا جا رہا ہے اور ہم اس امدادی پروگرام پر اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے انہی پیسوں سے انہی غریبوں کو کوکاروبار کروا کر دیں تواس سے ان میں کمانے کاجذبہ آئے گا، روزگار بڑھے گا، مفت خوری کا کلچر ختم ہوگا اور ملکی معیشت ترقی کرے گی وغیرہ وغیرہ۔ مجھے کتابی طور پر یہ باتیں بہت اچھی لگتی ہیں مگرکیا زمینی حقائق بھی اس آئیڈیلزم کی حمایت کرتے ہیں اور کیا یہ عملی طور پر ممکن بھی ہے؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے کاروبار کرنا ہے ان کے لئے حکومتی سطح پر الگ لون اور فنانس سکیمیں موجود ہیں، انہیں امداد کے ساتھ گڈ مڈ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جس میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے سے بھی لاچار ہیں لیکن جن ملکوں کی معیشتیں بہت زیادہ مضبوط ہیں، ہمارے دس فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے مقابلے میں وہاں تیس چالیس فیصد تک ٹیکس دیا جاتا ہے تو وہاں بھی ویلفیئر کے پروگرامز موجود ہیں بلکہ میں دیکھ رہا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ میں ماہانہ امداد پاکستان کے ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے تک بن جاتی ہے جبکہ ہم پانچ ہزار روپے ماہانہ سے بھی کم دے رہے ہیں۔

ہمارا مذہب بھی غریبوں کی مدد کا اسی طرح حکم دیتا ہے کہ اس نے زکواة کو فرض قرار دیا ہوا ہے یعنی مغربی ممالک ہوں یا اسلام، سب نظاموں میں ویلفئیر کا تصورپوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ اسلامی تاریخ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بارے میں ہے وہ بطور خلیفہ ایک نابینا عورت کے گھر جاتے تھے اور اس کی ضروریات پوری کرتے تھے۔ یہی روایات حضرت عمرؓ سے ہیں کہ انہوں نے ایک عور ت کو سنا کہ وہ اپنے گھر میں پتھر ابال رہی تھی اور بچوں کو دلاسا دے رہی تھی کہ ان کے لئے کھانا بن رہا ہے، حضرت عمرؓ بیت المال سے اپنی کمر پر اناج لاد کر اس کے گھر لے گئے۔ ان کے غلام اسلم نے خلیفہ سے کہا کہ یہ بوجھ میں اٹھا لیتا ہوں تو انہوں نے جواب دیا کہ کیاقیامت کے روز بھی تم میرا بوجھ اٹھا سکو گے۔ اسلام رعایا کو رعیت کادرجہ دیتا ہے اور ان کی ضروریات کے بارے حکمرانوں سے سوال ہوگا۔

میں پھر کہوں گا کہ زکواة و صدقات کا تصور الگ ہے اور کاروبار کا الگ جس کے لئے حکومتیں قرضے دیتی ہیں مگر اس کے ساتھ اہم ترین یہ ہے کہ بہت سارے لوگ کاروبار نہیں کرسکتے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہو یا پنجاب میں مریم نواز کے امدادی کارڈز، یہ بنیادی طور پر بیوہ اور مطلقہ بے سہارا خواتین کو مدد دیتے ہیں، یہ بزرگوں، معذوروں اور بیماروں کے لئے ہیں جو کاروبار کرنے کی اہلیت اور طاقت نہیں رکھتے اور ان کی امداد ہی ہوسکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام سے لے کر مغرب تک ہراچھا نظام ایسے بے بسوں اور لاچاروں کی امداد کا طریقہ کار وضع کرتا ہے۔

میں اس پر بھی ضرور بات کروں گا کہ اس پروگرام کے ذریعے عوام کو بھیک پر لگا رہا ہے تو جواب ہے کہ اگر ایک خاندان پانچ ہزار روپے مہینہ کے ساتھ گزارا کر سکتا ہے تو یہ ایک کرشمہ ہی ہوسکتا ہے۔ یقینی طور پر یہ امداد صرف ایک بہلاوا اور تسلی ہے جس کے ذریعے کسی بزرگ کی ادویات آ سکتی ہیں، کسی کے گھر آٹا، دال، چاول یاچینی آ سکتے ہیں، کسی بچے کی کتابیں آ سکتی ہیں اور آپ ہی بتائیں کہ اس سے بڑھ کے کیا ہوسکتا ہے۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ آئی ایم ایف جو کہ پاکستان میں ٹیکس کی وصولی کی سختی کے حوالے سے ایک ڈریکولا بنا کے پیش کیا جاتا ہے وہ بھی مشورہ دے رہا ہے کہ ساڑھے چودہ ہزار کو اس بجٹ میں بیس ہزار روپے کر دو یعنی جو مجبوری اور لاچاری آئی ایم ایف کو تکلیف دے رہی ہے وہ ہمارے کچھ سوشل میڈیائی دانشوروں کو نظر نہیں آ رہی۔

مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ اس کی کچھ مخالفت اس کے نام کی وجہ سے بھی ہے اورپیپلزپارٹی کے کئی سیاسی مخالفین سمجھتے ہیں کہ اس سے تیر، پر ٹھپے لگ سکتے ہیں مگر میں یہاں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی تعریف کروں گا کہ انہوں نے اس کا نام تبدیل نہیں کیا۔ عمران خان نے اس پر ضرور کم ظرفی دکھائی تھی اور اس کا نام بدل کے احساس پروگرام رکھ دیا تھا۔ پیپلزپارٹی کی گورننس پر اعتراضات ہوسکتے ہیں مگر محترمہ بے نظیر بھٹو شہیدکے کردار اور مقام سے انکار نہیں ہوسکتا۔ میں یہ ضرور کہوں گا کہ اگر کسی کو نام پر اعتراض ہے تو وہ نہ اعلی ظرفی دکھائے، نام تبدیل کردے مگر اس پروگرام کو جاری رکھے چاہے اس کا طریقہ کار بھی بدل دیا جائے کہ جیسے اس کو صوبوں کے حوالے کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔

بزرگوں، بیماروں، یتیموں اور بیواؤں کو امداد سے غرض ہے اور اس سے کہ اس کا طریقہ کار آسان ہو۔ یہاں میں خاص طور پر ایک اعترا ض کا ذکر کرنا چاہوں گا جس سے میں بہت حد تک متفق ہوں اور وہ اس پروگرام میں کرپشن بارے ہے۔ اس میں بدعنوانی اوپر کی سطح پر ہو یا نیچے کی سطح پر، نیچے کی سطح سے مراد وہ عملہ ہے جو خواتین کو امداد دیتے ہوئے ہزار، دوہزا ر روپے ہڑپ کرجاتا ہے۔ میرے کئی سوشل میڈیائی دوست کرپشن کی بنیاد پر کہتے ہیں اس پروگرام کو بند ہوجانا چاہےے اور میں ان کو جواب میں کہتا ہوں کہ جب تمہارے ناخن بڑھتے ہیں تو تم ناخن کاٹتے ہو یا انگلیاں ہی کاٹ دیتے ہو۔ اس پروگرام میں کرپشن کا قلع قمع ہونا چاہےے۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ایک اور کرپشن کی بات بھی کی جاتی ہے اور وہ غیر مستحقین میں اس رقم کا جانا ہے۔ میں نے اس پروگرام میں رجسٹریشن کا طریقہ کار سٹڈی کیا ہے اور اس میں کافی بہتری لائی گئی ہے۔ امداد کی اہلیت کے لئے بتیس کا سکور ظاہر کرتا ہے کہ امداد لینے والی فیملی واقعی غریب ہے، اس کی زمین یا جائیداد کی ملکیت محدود ہے، اس کے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے، اس کے بیرون ملک سیر سپاٹے نہیں ہیں بلکہ اس کے پاس مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ تک نہیں ہے۔

مجھے اس سے انکار نہیں کہ سکروٹنی مزید سخت کر دی جائے مگر یہ ہرگز مناسب نہیں کہ ریاست اپنے بزرگوں، بیماروں، بیواؤں، مطلقہ خواتین کو بے سہارا چھوڑ دے۔ یہ امداد حکومت کا فرض بھی ہے اوراس پر قرض بھی۔ عجیب بات ہے کہ ہمیں ایک کروڑ خاندانوں کی امداد کے جس پروگرام پر فخر ہونا چاہئے کچھ عقل کے اندھے اور بے درد اسے ختم کرنے کے مشورے دے رہے ہیں۔

بشکریہ: نئی بات

Check Also

Jaane Wo Hum Kidhar Gaye

By Syed Mehdi Bukhari